ریفرنس حقائق، شواہد اور قانون کی بنیاد پر دائر کئے جائیں گے، چیئر مین نیب

  • ادارے کی طرف سے کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی، ملازمین کے سروس سٹرکچر اور پیکیج کا جائزہ لیا جائے گا
  • شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم حسین کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا ہے ،جائزہ لیا جائے گا کہ ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک تو نہیں برتا گیا، جسٹس (ر)جاوید اقبال کا جائزہ اجلاس سے خطاب

nabنیب

اسلام آباد(آن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بطور قائم مقام چیف جسٹس میں ”انصاف سب کیلئے“ کے اصول پر یقین رکھتا تھا اور بطور چیئرمین نیب ”احتساب سب کیلئے“ میرا پختہ عزم ہے اور میں نہ صرف اس اصول پر سختی سے عمل کروں گا بلکہ قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوئے کسی صوبے/شخص کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا اور نیب کی طرف سے کسی کے خلاف ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی، میں نے شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم حسین کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا ہے اور اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک تو نہیں برتا گیا، جہاں تک ناقابل ضمانت وارنٹس کا اجراءہے وہ مجاز عدالت کا اختیار صوابدیدی ہے اور نیب کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، نیب میں مذکورہ الزام کی قانون کے تقاضوں کے مطابق جانچ پڑتال کی جائے گی، اب حقائق، شواہد اور قانون کی بنیاد پر ریفرنس مجاز عدالتوں میں دائر کئے جائیں گے، چاہے وہ پاکستان کے کسی حصے سے متعلق ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں پراسیکیوشن ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے جس کے احکامات پر من و عن عمل کیا جائے گا، احتساب عدالتوں، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب کی طرف سے دائر مقدمات کی مو¿ثر پیروی کی جائے گی اور نیب کا مو¿قف مو¿ثر انداز سے قانون کے مطابق مجاز عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ بدعنوان عناصر کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے اور ان سے قوم کی لوٹی گئی رقوم برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میری اولین ترجیح ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہے جس کیلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی، میرٹ، شفافیت اور خود احتسابی پر سختی سے زور دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے پراسیکیوٹر کسی بھی مقدمہ کی صحیح جانچ پڑتال اور قانون کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس شواہد اور میرٹ کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیں جہاں تک آپ کے سروس سٹرکچر اور پیکیج کا تعلق ہے میں اس کا خود جائزہ لوں گا اور آپ کے حقوق کا قانون کے مطابق تحفظ کروں گا، وکلاءبرادری میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں، آپ پوری تیاری، دلائل، شواہد اور قانون کے مطابق نیب کا مو¿قف معزز مجاز عدالتوں کے سامنے پیش کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا نہ دلوائی جا سکے، ہمیں اس چیز کو دیکھنا ہو گا کہ ہم کسی بےگناہ کے خلاف بلاجواز کارروائی تو نہیں کر رہے، اب احتساب قانون کے مطابق ہوتا ہوا نظر آئے گا اور اس سلسلہ میں کسی دباﺅ اور سفارش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فرد نیب کو درست کرنے کی بات کرتا ہے تو وہ صرف تنقید کی بجائے عملی طور پر اپنی تجاویز اور لائحہ عمل سے ہمیں آگاہ کرے، میں بحیثیت چیئرمین نیب یقین دلاتا ہوں کہ نیب کی بہتری کیلئے تمام قابل عمل تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

Scroll To Top