اناڑی 15-05-2012

kal-ki-baat
ایک کرم فرما نے مجھ سے پوچھا ہے کہ میں پاکستان مسلم لیگ نون کے توپچی چوہدری نثار علی کی گولہ باری کا جواب کیوں نہیں دیتا۔
میں نے ہنس کر کہا ۔” جو گولہ بھی ان کی توپ سے نکلتا ہے وہ پھلجھڑی بن کر وہیں ان کے سامنے گر پڑتا ہے اور لوگ ہنسنے لگتے ہیں۔ ایسے گولوں کا کیا جواب دیا جائے۔؟“
”چوہدری صاحب فرما رہے ہیں کہ عمران خان کھلاڑی اچھے ہوں گے مگر سیاست دان اناڑی ہیں۔“ میرے یہ کرم فرما بولے۔۔۔ میں نے جواب دیا۔
” ٹھیک فرما رہے ہیں ۔ منجھا ہوا سیاستدان وہ ہوتا ہے جو جھوٹ پورے اعتماد کے ساتھ بولے۔ دھوکہ کامیابی کے ساتھ دے۔ عوامی آنکھوں میں دھول مہارت کے ساتھ جھونکے۔ قومی خزانے کو اپنی جیب سمجھنے میں ذرا بھی تامل نہ کرے۔ عوام کی خدمت کرتے کرتے اپنی کاروباری سلطنت کی سرحدیں دنیا بھر میں پھیلا دے۔ علم ` دانش اور مطالعے وغیرہ سے اسے خدا واسطے کا بیرہو۔ کیا عمران خان اس معیار پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ؟ نہیں ناں ؟ پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چوہدری نثار علی نے کوئی غلط بات کی ہے ؟“
” آپ نے تو بات مذاق میں اڑا دی ہے ؟ “ وہ بولے۔
” یہ مذاق نہیں میرے بھائی۔ عمران خان واقعی اناڑی ہیں۔ مگر وہ ایسی سیاست کے پہلے اناڑی نہیں۔ ان سے پہلے بھی کئی اناڑی گزر چکے ہیں۔ ایک بہت ہی بڑے اناڑی کا نام محمد علی جناح تھا۔ انہیں بھی سچ بولنے کے سوا کچھ نہیں آتا تھا۔ انہوں نے بھی سیاست کے نام پر سمجھوتے کرنے سے گریز کیا۔ جس عمر میں آج عمران خان ہیں اس عمر تک وہ بھی اناڑی ہونے کی بناءپر ناکام رہے۔ پھر کیا ہوا ؟ آپ جانتے ہی ہیں۔ اگلے انتخابات کے بعد آپ عمران خان کے بارے میں بھی جان جائیں گے۔ اپنا اناڑی پن خان نے اپنے قائد سے سیکھا ہے ۔۔۔“

Scroll To Top