مسلم لیگ ن کے مفاہمتی اور مزاہمتی گروہ

zaheer-babar-logo

بظاہر مسلم لیگ ن کی قیادت تاحال اس سوال کا جواب دینے سے گریزاں ہے کہ کیا واقعی پی ایم ایل این میں قیادت کی جنگ جاری وساری ہے ؟ ۔ دراصل سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی پانامہ لیکس میں نااہلی کے بعد اس معاملہ کی اہمیت اور بھی بڑھ چکی کہ مسقبل میں پی ایم ایل این کی قیادت کون کریگا۔
کسی حقیقی جمہوری ملک سیاسی جماعتوں کے لیے نئی قیادت کا انتخاب کرنا مشکل نہیں مگر ہمارے ہاں صورت حال قدرے مختلف ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے سوا ملک کی بیشتر مذہبی وسیاسی قوتیں شخصیات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ مختلف خاندان پارٹیوں پر اس انداز میں قابض ہیں کہ سیاسی کارکنوں کے لیے محض قابلیت کی بنا پر آگے بڑھنے کے راستے مسدود ہوچکے یعنی لمیڈ کمپنیوں کی شکل اختیار کرنے والی جماعتوں کے لیے عملا یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ قیادت کی باگ ڈور نچلی پر خاندان سے ہٹ کر کسی دوسرے کے سپرد کرنے پر آمادہ ہوں۔
مسلم لیگ کے اندر پارٹی قیادت سنبھالنے کا تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب مریم نواز نے آگے بڑھیں۔ حلقہ این اے 120کے ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم میں مریم نواز کا تن تنہا چلانا ہرگز اتفاق نہ تھا۔ پی ایم ایل این میں شہباز شریف کے قریبی سمجھے جانے والے حلقے دعوی کرتے ہیں کہ میاں نوازشریف کے بعد قیادت کے اصل حقدار شہبار شریف ہیں جنھوں نے پنجاب میں ”تعمیر وترقی “ کے ایسے کارنامے سرانجام دیے جو بالاآخر مسلم لیگ ن کو صوبے کے علاوہ وفاق میں بھی اقتدار دلوانے میںکامیاب رہے۔ تازہ پیش رفت میں شہباز شریف حکمران خاندان میںایسی شخصیات کے طور پر سامنے چکے جو تصادم کی بجائے مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کے قریب سمجھے جانے والے حلقے تواتر کے ساتھ یہ تاثر دینے میں کوشاں ہیں ملک کو اس وقت جس افہام وتفہیم کی فضا کی ضرورت ہے جو وزیر اعلی شہبازشریف سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا ۔ بعض باخبر حلقوں کا بھی دعوی ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف جو کھیل کھیلا جارہا وہ اس بات کا متقاضی ہے کہ قومی سطح پر اتفاق ویکجتی کو فروغ دیا جائے۔ بظاہر شہبازشریف کے حامی حلقوں کے اس موقف کو جھٹلانا مشکل ہے۔پاکستان کا باخبر شخص سمجھتا ہے کہ پانامہ لیکس میں میاں نوازشریف اور کے بچوں کے خلاف آنے والا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بنے والی جے آئی ٹی رپورٹ میں میاں نوازشریف کے مالی معاملات بارے ایسے ایسے شوائد موجود ہیں جن کو کسی طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
مسلم لیگ ن جن مسائل سے دوچار ہے ان پر ایک بار سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اظہار کیا ہے۔ چوہدری نثار علی خان کا دوٹوک انداز میں کہنا تھا کہ پارٹی میں ذاتی مفادات کو اولیت دی جارہی جس کے نتائج کسی طور پر مثبت نہیں ہوسکتے ۔ سابق وزیر داخلہ ماضی میں بھی میاںنوازشریف کو قانون کے سامنے سرجھکانے اور قومی اداروں سے تصادم نہ کرنے کا اعلانیہ مشورہ دے چکے۔ اہم بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے اندار چوہدری نثار علی خان کے ”ہم خیال “ درجنوں کی تعداد میں بتائے جاتے ہیں جو شائد وقت آنے پر سامنے آسکتے ہیں۔ حال ہی میں بین صوبائی رابطہ کے وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ شہبازشریف کا آگے بڑھ کر پارٹی امور سبھالنے کی درخواست کرچکے۔
لندن میں سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف، وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ملاقات کو بھی مسلم لیگ ن کی اندرونی سیاست کے پس منظر میں دیکھا جارہا۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ مسقبل قریب میں میاں نوازشریف کیافیصلہ کریں گے مگر شنید یہی ہے کہ سابق وزیراعظم کو فی الحال لندن میں رہنے کا ہی مشورہ دیا گیا ۔
وطن عزیز کی سیاست میں بدستور بھونچال کی سی کفیت ہے۔ مسلم لیگ ن کے اندر کی کشمکش ملکی معشیت سمیت مختلف شعبوں پر اثر انداز ہورہی ۔درست مطالبہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کو فیصلہ کرنا ہوگا،اگر صورت حال کی سنگینی کا مدنظر رکھ وہ خود کوئی قدم اٹھانے سے گریز ہی کرتے رہیں گے تو آنے والے دنوں میں حالات کا جبر ان سے یہ اختیار بھی چھین بھی سکتا ہے۔
ملک کی سیاست یقینا بدل رہی ہے، یقینا مختلف عوامل اس پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آنے والی اس دنیا میں اب داخلہ اور خارجہ پالسیوںکو ایک دوسرے سے الگ کرنا مشکل ہوچکا۔ پاکستان کے اندار پیش آنے والے واقعات کا تعلق کسی نہ کسی حد تک خارجہ امور سے بھی ہے۔ اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ تیسری مرتبہ وزرات عظمی کےھ منصب پر فائز ہونے کے باوجود میاں نوازشریف ایسی مثالی صلاحیتوںکا مظاہرے کرنے میںکامیاب نہ ہوئے جو ان کی ذات کے علاوہ ملک وملت کے لیے قابل فخر کہلاتیں۔ سابق وزیر اعظم تاحال اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نظر نہیںآتے کہ پاکستان نوے کی دہائی کا ملک نہیںرہا۔ تیزی سے باشعور ہوتے عوام شخصیت پرستی کے سحر سے بتدریج باہر آرہے۔ مسلم لیگ ن پنجاب کے شہری علاقوں میں قابل زکر حمایت رکھتی تھی مگر اب پاکستان تحریک انصاف تیزی سے اپن اثر رسوخ پھیلا رہی۔ اقبال نے غلط نہیںکہا تھاکہ” ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں “۔ میاںنوازشریف کے لیے بہت بہتر ہوگا کہ وہ ملک کی تبدیل شدہ سیاست کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

Scroll To Top