ہم اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں کی سزا اپنے آپ کو ہی کیوں دے رہے ہیں ؟ 12-5-2012

kal-ki-baatتشّدد پسندی اور وحشتناکی ہمارے قومی کردار میں جس قدر شدت کے ساتھ سرایت کرتی جارہی ہے اس کا اندازہ توڑ پھوڑ اور آتشزنی کے ان واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جو لوڈشیڈنگ کے عذاب کے خلاف احتجاج کی آڑ میں گزشتہ روز بڑے وسیع پیمانے پر رونما ہوئے۔
احتجاج جمہوری شعور کی بڑی مثبت علامت ہے لیکن اگر یہ احتجاج ایسے خوفناک مناظر کی صورت اختیار کرلے جو گزشتہ روز ہمیں دیکھنے کو ملے اور جو ایک عرصے سے ہمارے رویّوں اور ہمارے کردار کی پہچان بنتے چلے جارہے ہیں تو اسے دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرتے وقت ہمیں کوئی تامل نہیں برتنا چاہئے۔
بجلی کا آنا جانا جو کھیل قوم کے اعصاب کے ساتھ کھیل رہا ہے اس سے انکار نہیں مگر اپنے احتجاج کو ریکارڈ ہمیں اس انداز میں نہیں کرانا چاہئے کہ دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ یہ قوم پاگل ہوگئی ہے۔
اگر ہم اپنے خلاف ہونے والی زیادتی کی سزا خود اپنے ہاتھ پاﺅں کاٹ کر اپنے آپ کو ہی دیں گے تو ہمیں پاگل کیوں نہیں سمجھا جائے گا؟
جن عمارتوں کو توڑا پھوڑا جاتا ہے ¾ اور جن گاڑیوں یا املاک کو آگ لگائی جاتی ہے وہ نہ تو جناب آصف علی زرداری یا سید یوسف رضا گیلانی کی ملکیت ہوتی ہیں اور نہ ہی ان اصحاب کی جن کے فیصلوںنے یہ خوفناک بحران پیدا کیا ہے۔ ان کے اصل مالک خود عوام ہوتے ہیں کیوں کہ اُن پر اُن کا ہی ادا کردہ ٹیکس خرچ ہوتا ہے ۔ ہم اپنی ہی املاک تباہ کرتے ہیں۔ یا پھر اپنے اُن بھائیوں کی جو کسی بھی طور پر اس عذاب کے ذمہ دار نہیں ہوتے جس کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ہم باہر نکلتے ہیں۔
اس ضمن میں میرا خیال یہ بھی ہے کہ جو احتجاج غیر منظم ہو اس میں تخریب کار اور ملک اور معاشرے کے دشمن عناصر بڑی آسانی کے ساتھ شامل ہو کر اپنا ایجنڈا پایہ ءتکمیل کو پہنچا سکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے قومی لیڈروں کو ایک اجتماعی پلیٹ فارم سے مصیبتوں کے مارے ہوئے عوام کو احتجاج کے مہذب طریقوں سے آگاہ کرنے میں تاخیر نہیں برتنی چاہئے۔ ورنہ انارکی کا جو طوفان اٹھے گا اس میں ہمارا بہت کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔۔۔

Scroll To Top