تبدیلی کا نامکمل عمل ! 18-09-2008

ہماری قومی غیرت یہ بات خواہ ہضم کرے یا نہ کرے ` یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ پاکستان میں تبدیلی کے ہر عمل کا رشتہ ایک عرصے سے واشنگٹن کے ساتھ قائم رہا ہے ۔ کافی مہینوں سے امریکی اکابرین کا اسلام آباد جو ” آنا جانا “ رہا ہے وہ اسی ناقابل تردید حقیقت کی تصدیق کرتاہے۔
امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن کا تازہ ترین دورہ پاکستان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اور اس مرتبہ وہ ایسے موقع پر اسلام آباد آئے ہیں جب صدرزرداری یہاںموجود نہیں۔ گویا اس دورے کا مقصد پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ان معاملات پر تبادلہ خیالات کرنا ہے جن کی وجہ سے دونوں حکومتوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کا تاثر ابھر رہا ہے۔ جو بات اس کشیدگی کا سبب قرار دی جاسکتی ہے اس کا تعلق ” قومی خود مختاری “ ملکی خود مختاری اور ” ساورنٹی“ سے ہے۔
یہی بات لندن میں صدرزرداری اور وزیراعظم براﺅن کے درمیان زیر بحث آئی ہے۔
اصل حقائق کیا ہے اس کے بارے میں فی الحال کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی ۔ مگر ایک بات کافی و ثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ تبدیلی کا جو عمل کافی عرصے سے شروع ہے وہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ جب تک وہ تمام معاملات طے نہیں پا جاتے جو مارچ 2007ءکے بعد تبدیلی کی تحریک شروع کرنے کی وجہ بنے تھے تب تک تبدیلی کے عمل کا اختتام پذیر ہونا ممکن نہیں۔
دلچسپ بات یہاں یہ ہے کہ تبدیلی کا عمل واشنگٹن میں بھی جاری ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ 5نومبر 2008ءکا سورج اوبامہ کیلئے ” نوید کامرانی “ لائے گا یا میکین کے لئے۔
میری رائے میں تبدیلی کا جو عمل پاکستان میں جاری ہے اس کا گہرا تعلق تبدیلی کے اس عمل سے بھی ہے جو امریکہ میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
مطلب اس بات کا یہ ہوا کہ اگلے سات ہفتے ہمیں گہرے سسپنس میں گزارنے ہوں گے۔
اس ضمن میں ایک خبر میرے نزدیک بڑی اہمیت کی سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کے آرمی چیف چین جارہے ہیں۔ اس خبر کی اہمیت اس بات سے اور بڑھ جاتی ہے کہ اس دورے کو وزیراعظم گیلانی کی منظوری حاصل ہے۔

Scroll To Top