گیلانی صاحب کا واحد دفاع وزارت عظمیٰ ہے 10-5-2012

kal-ki-baat

جسٹس آصف سعید کھوسہ توہین عدالت کیس کے تفصیلی فیصلے کے ساتھ شامل اضافی نوٹ میں اگر مندرجہ ذیل تین جملے بھی شامل کردیتے تو یہ فیصلہ ایک تاریخی دستاویز بن جاتا۔
1۔ قابل رحم ہے وہ عدلیہ جس کے ملک کا وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی جیسا شخص ہو۔
2۔ قابل رحم ہے وہ فوج جس کا سربراہ ایک مجرم وزیراعظم کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہو۔
3۔ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے مقدر میں بے بسی کی ایسی زندگی گزارنا لکھ دیا گیا ہو جیسی زندگی اس بدنصیب ملک کے اٹھارہ انیس کروڑ عوام گزار رہے ہیں۔
جب فاضل عدالت نے توہین عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تو ” وزیراعظم “ سید یوسف رضا گیلانی ستر ” رفقائ“ کے لشکر جرار کے ساتھ لندن کی طرف محو پرواز تھے۔ فیصلے کی تفصیلات ان تک پہنچیں تو انہوں نے نہایت خشمگیں انداز میں عدلیہ کی بے انصافی کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کے عہد ِ صمیم کا اظہار فرمایا۔
قانونی جنگ لڑنا ان کا حق ہے۔ اگر وہ صرف توہین عدالت کے جرم کا سامنا کررہے ہوتے تو مجھے یقین ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے میں ذرا بھی تامل نہ کرتے کیوں کہ یہ استعفیٰ ان کے وقار کی بلندی کا باعث بنتا۔
مگر انہیں اور ان کے خاندان کو جس قسم کے سنگین الزامات کا سامنا ہے وہ انہیں وزارت عظمیٰ چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے وزارت عظمیٰ چھوڑ دی تو وہ بابر اعوان بن کر رہ جائیں گے۔ پھر ان تمام الزامات سے ” بچاﺅ“ کا راستہ انہیں کیسے ملے گا جن کی وجہ سے پاکستان کے عوام زرداری صاحب پر لگنے والے پرانے الزامات کو بھول چکے ہیں۔ نیا زخم پرانے زخم سے زیادہ تکلیف دہ ہوا کرتا ہے۔
اگر سید یوسف رضاگیلانی رضا کارانہ طور پر استعفیٰ نہیں دیتے تو اس کی ان کے پاس معقول وجہ ہے۔ ان کا واحد ” دفاع“ اُن کی وزارت عظمیٰ ہے۔
لیکن کیا زرداری صاحب گیلانی صاحب کی خاطر موجودہ سیٹ اپ اور اپنی پارٹی کے مستقبل کی قربانی دے دیں گے؟
یا کیا یہ قوم اپنی ملی غیرت پر اتنے بڑے حملے کے بعد بھی سر جھکائے گھٹنوں کے بل بے بسی کے ساتھ بیٹھی رہے گی ؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب اگلے چند ہفتوں میں ہی مل پائے گا۔۔۔

Scroll To Top