قومی اسمبلی کے حلقہ این اے چار کا پیغام

zaheer-babar-logoحلقے این اے چار میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار ارباب عامر ایوب کا 46 ہزار 631 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کر نا پی ٹی آئی کو نئے عزم وحوصلہ سے روشناس کرگیا۔ سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہر حال میں اس نشت پر کامیابی ضروری تھی جو اس نے بہرکیف حاصل کرلی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ضمنی انتخاب کے غیر حتمی نتائج کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے خوشدل خان دوسرے اور پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ناصر خان موسی تیسرے نمبر پر رہے۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مخالفین برملا اس موقف کا اظہار کررہے تھے کہ عمران خان خبیر پختوانخواہ میں اپنی مقبولیت کھو چکے لہذا این اے چار میں پی ٹی آئی کی جیت مشکل ہے۔
پرنٹ والیکڑانک میڈیا میںبھی سیاسی جماعتوں کا این اے چار کا انتخاب آزمائش قرار دیا جارہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی نے پوری قوت سے اس سیاسی معرکہ میں حصہ لیا۔ معروف قائدین نے پورا زور لگایا تاکہ کسی نہ کسی طرح کامیابی مل سکے ۔ پرنٹ الیکڑانک میڈیا میں لاہور کے حلقہ این اے 120کی طرح انتخابی مہم کی پل پل کی خبر دی جاتی رہی جس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ خبیر پختوانخواہ ہی نہیں کہ پورا ملک کی نظریں اس ضمنی انتخاب پر تھیں۔ قومی اسمبلی کی پشاور کی نشست پر ضمنی انتخاب کے حلقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا اور خواتین کی ووٹ ڈالنے کی شرح بھی زیادہ رہی۔ اکثر پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ووٹروں کی قطاریں موجود تھی۔ ایک خیال یہ ہے کہ 2018کے عام انتخابات سے قبل پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این چار سے چار نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں مثلا یہ پورے وثوق سے کہا جاستکا ہے کہ خبیر پختوانخوہ میں تحریک انصاف کی بدستور مقبولیت برقرارہے۔ 2013 کے عام انتخاب میں قومی اسمبلی کے اس حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار گلزار خان کامیاب ہوئے تھے مگر بعد میں ان کے انتقال کے بعد نشست خالی ہونے کے بعد ضمنی انتخاب ہوا۔ انتخابی معرکہ میں بھی پی ٹی آئی کے امیدوار بہت زیادہ فرق سے کامیاب ہوئے اور انھیں 46 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹ بینک برقرار ہے اور تحریک انصاف پشاور کی مقبول ترین جماعت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی کم وبیش چال سال سے زائد صوبائی حکومت کے باوجود خبیر پختوانخواہ کی اپوزیشن جماعتیں خود کو منوانے میںکیونکر کامیاب نہیں ہوسکیں۔ یقینا اس انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارکردگی نسبتا بہتر رہی اور این اے چار کے ضمنی انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار خوشدل خان 24 ہزار 883 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اے این پی ایک بار پھر خبیر پختوانخوہ میں اپنے ووٹر کو متحرک کرنے میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب رہی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے عام انتخاب میں عوامی نشنل پارٹی خبیر پختوانخوہ میں پاکستان تحریک انصاف سے سخت مقابلہ کرسکتی ہے، اس سے یہ پیغام ضرور ملا ہے کہ صوبائی درالحکومت پشاور کے عوام میں اب بھی اے این پی کی حمایت کرتے ہیں جس میں آنے والے دنوں میں اضافہ کسی صورت خارج ازمکان نہیں۔ پشاور کے اس ضمنی انتخاب نے ایک اور پیغام یہ بھی دیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور جے یو آئی مل کر کوئی قابل زکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکیں ۔ واضح رہے کہ اس ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے درمیان اتحاد ہوا تھا۔ صوبہ میں اثر و رسوخ رکھنے والی جے یو آئی نے پی ایم ایل این کے امیدوار کی حمایت بھی کی تھی لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ اتحاد زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو ا اور مسلم لیگ ن کے امیدوار ناصر خان موسی زئی 24 ہزار 740 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ این اے چار کے ضمنی انتخاب میں پی پی پی ایک بار پھر شکست سے دوچار ہوئی۔ لاہور کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو پشاور کے ضمنی انتخاب میں بھی ناکامی پی پی پی قیادت کے لمحہ فکریہ ہے جس پر انھیں یقینا تشویش لاحق ہونی چاہے۔ اس میں شک نہیںکہ پی پی پی کو اس حلقے میں پی پی پی کو لاہور کے مقابلے میں زیادہ ووٹ پڑے لیکن اسی حلقے سے کامیاب ہونے والے تحریک انصاف کے سابق رکنِ اسمبلی گلزار خان کے بیٹے کو ٹکٹ دینے کے بعد بھی وہ محض 13 ہزار ووٹ لے سکے۔
پشاور کے ضمنی انتخاب کے نتائج ایک بار پھر اس حقیقت کو بیان کررہے کہ ملکی سیاست تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ روایتی سیاسی حربہ اب زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہورہے۔ پاکستان کے شہری علاقے ہوں یا دیہی ہر دیس کے باسی ٰیہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی مشکلات حل ہوں۔ انھیں یکساں بنیادوں پر تعلیم اور صحت سمیت بنیادی ضروریات میسر آئیں تاکہ وہ بھی بہتر زندگی گزار سکیں۔سیاست کو مال بنانے کا زریعہ بنانے والوں کو یقینا اس عمل سے تائب ہونے کی ضرورت ہے۔وطن عزیز ماضی سے کہیں بڑھ کر حکمرانی کے لیے مشکل ہورہا ،کون اختلاف کرسکتا ہے کہ آج ریاست کا ہر ستون اپنی آئینی قانونی زمہ داریاں ادا کرنے کے لیے خود کو مجبور پاتا ہے۔

Scroll To Top