کیا آپ جانتے نہیں کہ عمران خان کیٹ واک کرتے ہیں اور ڈاکٹر اے کیو خان کو ہیرو میاں صاحب نے بنایا ؟ 08-05-2012

kal-ki-baat

پرویز رشید صاحب کے ساتھ میرے خاصے دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ سیاسی معاملات میں اور سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے ہمارے درمیان اختلاف ضرور رہا ہے مگر میں نے پھر بھی ہمیشہ ان سے شائستگی اور باوقار رویوں کی امید رکھی ہے۔ اس لئے مجھے دکھ ہوتا ہے جب وہ بیانات دیتے وقت رانا ثناءاللہ کی سطح پر اتر آتے ہیں۔ایسے بیانات کے لئے رانا ثناءاللہ اور مشاہد اللہ جیسے لوگ ہی کافی ہیں۔ اتفاق سے جو بیان میرے اس کالم کا باعث بن رہا ہے وہ پرویز رشید صاحب اور رانا ثناءاللہ نے بیک وقت دیا ہے اور اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جناب عمران خان کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا ہے۔
جناب عمران خان تو ایک عرصے سے پی ایم ایل (این)کے ” نشانے “ پر ہیں اور ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا جواب مختلف طریقوں سے ان کا تمسخر اڑا کردیا جاتا ہے ۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کی سرپرستی میں آگے بڑھے ہیں ` اور کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ زرداری صاحب کو فائدہ پہنچانے کے لئے مسلم لیگ (ن)کے ووٹ بنک میں دراڑیں ڈال رہے ہیں۔ اب پرویز رشید صاحب نے یہ فرمایا ہے کہ عمران خان ” کیٹ واک “ کے ذریعے انقلاب نہیں لاسکتے۔ یہ ” کیٹ واک “ کی اصطلاح پرویز رشید صاحب نے نوجوانوں اور خواتین میں تحریک انصاف کی بے پناہ مقبولیت کو سامنے رکھ کر استعمال کی ہے۔ مگر انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بلی چوہوں کو کھا جایا کرتی ہے۔
جہاں تک جناب پرویز رشید کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان میاںنوازشریف کی بدولت ہیرو بنے ہیں تو شاید ان کا حافظہ جواب دے گیا ہے۔ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ” ایٹم بم “ کے پراجیکٹ پر کام شروع کیا تھا تب میاں صاحب ٹی شرٹ اور نکر پہن کر موٹر سائیکل دوڑایا کرتے تھے۔ اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ اگر 28مئی 1998ءکو ایٹمی دھماکہ نہ کیا جاتا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کبھی ہیرو نہ بنتے ` تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ڈاکٹر صاحب دھماکے سے پہلے بھی ہیرو ہی شمار ہوتے تھے۔
اور معلوم انہیں یہ بھی ہونا چاہئے کہ 28مئی اور 29مئی 1998ءکے دھماکے میاں نوازشریف کی ” وجہ “ سے نہیں میاں نوازشریف کے ” باوجود “ کئے گئے تھے۔ اگر وہ فوج اور عوام کے دباﺅ کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتے تو ان کی چھٹی اسی سال ہوجاتی!

Scroll To Top