نوازشریف کو نہ جانے کا مشورہ دیا جارہا !

zaheer-babar-logo

یہ افسوسناک ہونے کے علاوہ تشویشناک بھی ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں ایک بار پھر ایک نئے این آر او کی بازگشت سنائی دے رہی ۔میڈیا اور سیاست کے بعض عناصر کی دہائی دے رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے جس انداز میں شریف فیملی کے ساتھ ایک معاہدے کرکے انھیں دس سال تک سعودی عرب بھیجا اور پھر ایک اور این آر او کے زریعہ ایم کیوایم رہنماوں سمیت کئی سیاست دانوں اور بیوروکریٹ کے خلاف مقدمات ختم کیے اس سے ملتا جلتا کچھ نہ کچھ پھر ہونے جارہا۔ ان افواہوں کو اس وجہ سے بھی تقویت ملی کہ سابق وزیر اعظم عدالت میں پیش ہونے کی بجائے سعودی حکمرانوں سے میل ملاقاتیں کررہے ہیں۔ یہ تاثر عام ہے کہ شریف فیملی موجودہ صورت حال سے نکلنے کے لیے ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہاتھ پاوں مار رہی ہے جبکہ نیب نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی عدم حاضری پر ان کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ۔ مذکورہ وارنٹ بدعنوانی کے ان مقدمات کے سلسلے میں جاری کیے گئے جن کی سماعت احتساب عدالتوں میںجاری وساری ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم کے اہل خانہ مسلسل عدالتوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ شریف خاندان نے تازہ پیشی کے موقعہ پر بھی اپنے خلاف چلنے والے مقدمات پر تنقید جاری رکھی۔ سابق وزیر اعظم کے کے داماد کیپٹن ریٹائر صفدر کا کہنا تھا کہ جاری مقدمات میں زیادتی نواز شریف کے خلاف نہیں بلکہ ایک نظریے کے خلاف ہو رہی ہے۔
شریف فیملی اس تاثر کو مسلسل مسترد کررہی ہے کہ وہ مقدمات سے جان چھڑانے کے لیے کسی نہ کسی راستے کی تلاش میں ہیں۔ شریف فیملی کا ہر ترجمان عدالتوں میں میاں نوازشریف کی عدم حاضری اور ان کے دورہ سعودی عرب کے حوالے افواہوں کو مسترد کررہا ۔ نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز بھی اسے غلط قرار دے چکے کہ نواز شریف سعودی عرب سے پاکستان واپس نہیں آئیں گے، زیادہ پرانی بات نہیں جب انھوں نے برملا یہ دعوی کیا کہ میاں نوازشریف جلد ملک میں آموجود ہونگے مگر نواز شریف تاحال نہ ہی پاکستان آئے اور نہ ہی عدالت میں پیش ہوئے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ تو ضرور ہورہا مگریہ واضح نہیںکہ کیا ”مبینہ منصوبہ “اپنے انجام کو پہنچے گا بھی کہ نہیں۔ادھر پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کے بعقول میاں نواز شریف کے لئے پاکستان میں وہ جگہ ہے جس کا میں نام بھی نہیں لینا چاہتا بعقول ان نواز شریف فیصلہ کر لیں کہ وہ سعودی عرب جانا چاہتے ہیں یا کہیں اور۔“
ملک کے بعض معتبر صحافتی حلقے یہ دعوی کررہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی سیاسی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ کسی طور پر جیل جانے کو پسند نہیں کرتے۔ پی ایم ایل این کے بھی باخبر حلقوں کا اصرار ہے کہ سابق وزیر اعظم قید وبند کی صوبتیں برداشت کرنے کی بجائے” جلاوطنی “ کو ترجیح دیں گے۔ اس پس منظر میں میاں نوازشریف کی سعودی عرب میں شاہی خاندان کے افراد سے ملاقاتوں کو مخصوص زوایہ سے دیکھا جارہا ۔ تاہم مسلم لیگ نون کا دعوی ہے کہ نہ ہی کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور نہ ہی ان ملاقاتوں کا کسی ڈیل سے کوئی تعلق ہے۔ ن لیگ کے زمہ دار تسلسل کے ساتھ یہ دعوے کررہے کہ چونکہ میاں نوازشریف اور ان کے گھرانے کے سعودی عرب کے شاہی گھرانے کے افراد سے دیرینہ تعلقات ہیں، بیگم کلثوم نواز صاحبہ کی طبعیت خراب ہے اور سعودی شاہی گھرانے کے افراد نے اسی سلسلے میں میاں صاحب سے ملاقاتیں کیں چنانچہ ان ملاقاتوں کا ڈیل ویل سے کوئی تعلق نہیں یہ محض مخالفین کے ذہن کی اختراع ہے۔بظاہر ن لیگ ڈیل کے الزام پر پوری مہارت سے سیاسی چمکا رہی ہے مثلا اس کا کہنا ہے کہ اگر ہم ڈیل کر رہے ہیں تو اس کا دوسرا فریق کون ہے ۔ مسلم لیگ ن کے رہنماوں کا دعوی ہے کہ میاں نوازشریف اور ان کا خاندان پوری قوت سے مقدمات کا سامنا کررہا ہے اور کریگا۔
اس میں شک نہیں کہ ملک کے موجود ہ حالات میںکسی قسم کی ڈیل ہونا خارج ازمکان ہے مگر وطن عزیز کی سیاست میں اب تک کئی انہونیاں ہوچکیِں لہذا بعض لوگ یہ دعوے کررہے کہ پاکستان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یقینا بطور وزیر اعظم میاں نوازشریف نے یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کو ناراض کیا ۔ شاہی خاندان نے جس طرح سالوںجلاوطنی کے دور میں میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا اس کے بعد سعودی حکمرانوں کو یہ امید نہیں تھی کہ میاں نوازشریف یمن کے مسئلے پر ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ پانامہ لیکس میں نااہل ہونے کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بظاہر میاں نوازشریف فیملی کی بھرپور مدد نہیں کی لیکن یہ مسقبل قریب میں یہ امکان بہرکیف موجود ہے کہ سابق وزیر اعظم کے ایک بار پھر سعودی حکمرانوں سے تعلقات بہتر ہو جائیں اور وہ تعاون کے لیے آگے بڑھیں۔ ایک تاثر یہ ہے کہ میاں نوازشریف کے غیر ملکی دوست ان کو اس بات پر آمادہ کررہے کہ وہ پاکستان جانے کی بجائے لندن میںاپنا قیام بڑھا دیں اور مناسب وقت کا انتظار کریںلہذا قانونی وسیاسی حلقے اس بات کو نظر انداز نہیں کررہے کہ آنے والے دنوں میں سابق وزیر اعظم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوجاسکتے ہیں جو ان کی پاکستان میںمشکلات بڑھنے کا بڑا ثبوت ہوگا۔

Scroll To Top