باکمال شخصیت لاجواب بیانات 05-05-2012

kal-ki-baat
پاکستان کے وزیرداخلہ جناب رحمان ملک امریکہ سے کہیں زیادہ امریکہ کی زبان بولتے ہیں۔ انہیں پاکستان میں کہیں چور ڈاکو رہزن قانون شکن عناصر اور جرائم پیشہ گروہ نظر نہیں آتے ` صرف القاعدہ نظر آتی ہے یا طالبان نظر آتے ہیں ۔ لیاری میں بھی انہیں القاعدہ اور طالبان وغیرہ ہی نظر آرہے ہیں۔ اور اپنے تازہ ترین بیان میں تو انہوں نے لیاری کی صورتحال کا موازنہ سوات سے کر ڈالا ہے۔ انہیں قوی یقین ہے کہ لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار یعنی عزیز بلوچ اورظفر بلوچ وغیرہ مولانا فضل اللہ جیسے مذہبی جنوبی اور دہشت گرد ہیں ` اور جو لوگ ان کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی کی قائم کردہ پیپلز امن کمیٹی سے جوڑتے ہیں ان کا حافظہ درست نہیں ۔ ایسا یقین انہیں خود ہو یا نہ ہو ` عوام کو بہرحال وہ یہی یقین دلانا چاہتے ہیں۔
جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ رحمان ملک صاحب کی کہی ہوئی ہر بات سے اصل حقیقت جاننے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرچکے ہیں ۔ اصل حقیقت ہمیشہ کہی ہوئی بات سے الٹ ہوا کرتی ہے۔ لیاری کا آپریشن جرائم پیشہ عناصر کا صفایا کرنے کے لئے نہیں کیا جارہا ` ایسے عناصر کا منہ ہمیشہ کے لئے بند کرنے کے لئے کیا جارہا ہے جو کبھی پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے حلیف تھے ` اور اب خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ خالد شہنشاہ کا منہ کیسے بند ہوا یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ موجود ہ آپریشن میں اس بات کا خاص اہتمام کیا جارہا ہے کہ جو لوگ رحمان ملک کے نشانے پر ہیں وہ کہیںرینجرز کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔
گتھی بہت الجھی ہوئی ہے ۔ جو لوگ میری طرح دور بیٹھے ہیں ان کی سمجھ سے بہت ساری باتیں بالاتر ہیں۔ بہت سوں کی سمجھ میں تو یہ معمہ بھی نہیں آرہا کہ ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا نے کچھ عرصہ پہلے جو دھواں دار ڈرامہ کیا تھا اس کے کیا مقاصدتھے۔ جس طرح رحمان ملک اور الطاف بھائی کے جو” خصوصی“ تعلقات ہیں وہ بھی ہم سب کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال بلکہ اصرار ہے کہ دونوں سیاسی حلیف ہونے کے ساتھ ساتھ بزنس پارٹنر بھی ہیں۔ کچھ تو بڑے تیّقن کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان کے بزنس کا ہیڈکوارٹر نائن زیر و ہے۔
جو افواہیں گردش کرتی رہی ہیں ان میں مبالغہ کتنا ہوتا ہے اور صداقت کتنی یہ تو ہم نہیں جانتے ` مگر ایک بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ کے جن ” سفار ت کاروں “ کو ہزاروں کی تعداد میں ویزے دیئے گئے تھے ان کے ساتھ رحمان ملک کو لاتعلق ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رحمان ملک بہت کمال کی شخصیت ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انہیں پوری طرح علم ہوگا کہ جو ” طالبان “ پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں انہیں سرپرستی ہمارے ” دوست “ ملک امریکہ کی حاصل ہے۔

Scroll To Top