مقبوضہ کشمیر میں پھر مذاکرت کا ڈھونگ

zaheer-babar-logo
مقبوضہ وادی میں مودی سرکار نے حالات قابو میںلانے کے لیے طاقت کے ساتھ ساتھ اب بات چیت کا ”حربہ “ بھی استمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سبھی متعلقین کے ساتھ ‘مذاکرات’ کرنے کے لیے آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور پرساد کو ثالث مقرر کیا ہے۔ بظاہر اس پیش رفت کا آغاز دراصل 15 اگست کو بھارت کی یوم آزادی کے موقعے پر وزیراعظم نریندر مودی کے اس اعلان کے پس منظر میں دیکھا گیا جس میں مودی نے کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کی تھی۔
دراصل امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھارت سے طویل عرصہ سے یہ مطالبہ کرتے چلے آرہے کہ وہ کشمیریوں پر مظالم کرنے کی بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے ، خود بھارت میں بھی سیاسی ،سماجی اور انسانی حقوق کی تنظمیں بھی حکومت سے مقبوضہ وادی میں طاقت کا استمال بند کرکے بات چیت کا عمل شروع کرنے کا تقاضا کرتی رہیں جسے عملا بے جی پی حکومت مسترد کرتی رہی۔ قابل زکر یہ ہے کہ نریندر مودی کانگریس کی جانب سے کشمیری قیادت کے ساتھ بات چیت یا منتخب کشمیری سیاست دانوں کو مراعات دینے کو خوشامدی پالیسی قرار دیتے رہے ہیں ۔ محض چند روز قبل تک مودی سرکار کی پالیسی یہ تھی کہ کہ ‘ مقبوضہ کشمیرمیں بغاوت کو کچلنے’ اور پاکستان کی مداخلت کو ختم کرنے سے مسئل کشمیر اپنے آپ حل ہو جائے گا ، یعنی کشمیر دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح وفاق کا ایک غیرمتنازع حصہ بن جائے گا ، لیکن اب واقفان حال کے بعقول افغانستان میں قیام امن سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی کے پیش نظر اب انڈین حکومت پاکستان اور کشمیریوں کو محدود رعایت دینے پر آمادہ نظر آ رہی۔
مقبوضہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس اور وزیراعلی محبوبہ مفتی نے نئی دہلی کی مذاکراتی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا ۔
بھارت نواز سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ کشمیر میں طاقت کے استمال سے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہیں۔ ادھر زمینی حقائق یہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں اب بھی مسلسل فوجی آپریشن جاری ہے۔ مقبوضہ وادی میں گرفتاریاں، پابندیوں اور حریت پسندوں کا سیاسی دائرہ تنگ کرنے جیسے اقدامات بھارت کی مذاکرتی پیشکش کو غیر سنجیدہ بنا دیا ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق فی الوقت سترہ سال سے اسی سال کی عمر کے متعدد کشمیری محض اس الزام کے تحت جیلوں میں پڑے ہیں کہ انھوں نے بھارت مخالف مظاہروں میں حصہ لیا ۔ حریت پسند رہنماں شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان اور دوسرے کئی رہنما بھی مختلف الزامات کے تحت جیلوں میں قید ہیں۔
سید علی گیلانی سات برس سے گھر میں نظر بند ہیں جبکہ یاسین ملک کو اکثر جیل میں رکھا جاتا ہے۔
گذشتہ برس جولائی میں مقبول مسلح رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کر لیا جبکہ رواں سال کے دوران اب تک نوے سے زائد نوجوانوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ہے۔
برہان وانی کی شہادت سے بھڑکنے والی ہند مخالف احتجاجی لہر کو دبانے کے لیے فوج اور پولیس نے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا جس کے دوران شکاری بندوق سے آہنی چھروں کا بے تحاشا استعمال کیا گیا۔ چھروں سے سینکڑوں نوجوانوں کی بینائی متاثر ہوئی جبکہ درجنوں عمر بھر کے لیے نابینا ہو گئے مگر متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام درخواستیں رد کردی گئیں۔ نئی دہلی سرکار نے چھروں کے متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا کہ محبوبہ مفتی کی اتحادی جماعت بی جے پی نے اس پر اعتراض کیا اور یہ امداد روک دی گئی۔ اس میں شبہ نہیں کہ بھارت کی جانب سے ایک انٹیلی جنس افسر کو کمشیریوں سے مذاکرات کرنے کا مشن سونپنا کسی طور انصاف کے تقاضے پورے نہیںکرتا۔ دراصل یہ اقدام اس سچائی کو کا بیان کررہا کہ بھارتی حکومت مذاکرات کے نام پر کچھ اور چاہتی ہے۔ بھارت کے اس اعلان نے بھی شکوک شبہات کو بڑھایا کہ مقبوضہ وادی میں سٹیک ہولڈرز یعنی تمام متعلقین کے ساتھ بات ہو گی۔ اب بھارت میں نئی بحث شروع ہوچکی کہ اصلی سٹیک ہولڈر کون ہے۔
مقبوضہ وادی میں کئی سیاسی پارٹیاں پہلے ہی بھارتی آئین کے دائرے میں رہ کر ”جدوجہد“ کرنے کا اعلان کرچکیں جبکہ آل پارٹیز حریت کانفرنس ، انسانی حقوق کی تنظمیں اور سول سوسائٹی کے کئی ادارے بھارت سے انسانی حقوق کی پامالی کی دہائی دیتی چلی آرہی ہیں۔
کئی دہائیوں سے حریت پسندوں کا مطالبہ چلا آرہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے یعنی کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی طرف سے حق خودارادیت دیا جائے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلہ کشمیر کے تین فریق ہیںیعنی بھارت، پاکستان اور کشمیری قیادت مل کر مسائل کا حل تلاش کرے۔اب تک مودی سرکار پاکستان کے ساتھ مسلہ کشمیر پر کسی قسم کی بات چیت سے انکاری رہی ہے۔ نریندر مودی علاقائی اور عالمی سطح پر یہ دہائی دیتے چلے آرہے کہ کشمیر میں کسی قسم کی تحریک آزادی نہیں بلکہ حالات کی خرابی کے زمہ دارسرحد پار سے آنے والے وہ عناصر ہیں جو کشمیر میںامن نہیں چاہتے۔ اب بھارت نے ”سٹیک ہولڈرز “سے مذاکرت کا اعلان کرکے عملا اپنی دورخی پالیسی کو بے نقاب کردیا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کے خیال میں اس بات کا امکان کم ہے کہ بی جے پی سرکار کی اس نئی چال سے کشمیریوں کے لیے خیر کا کوئی پہلو برآمد ہو۔

Scroll To Top