امریکہ پاکستان پر دباو¿ برقرار رکھے گا ؟

zaheer-babar-logoاس سوال کا جواب دینا آسان نہیںکہ کیا امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا دورہ پاکستان فوری طور پر دونوں ملکوں میں بہتر تعلقات کے احیاءکا سبب بن سکتا ہے۔ دراصل ریکس ٹلرسن پاکستان کے سامنے جو مطالبات رکھیں گے اس کا قابل زکر حصہ پہلے ہی علاقائی اور عالمی میڈیا کا حصہ بن چکا۔ مثلا امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے موضوع پر بات چیت اور طالبان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں ‘ بنیادی ‘ تبدیلی کا تقاضا کرے گا۔
یہ باعث اطمنیان ہے کہ امریکہ وزیر خارجہ سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر اعلی حکام نے مشترکہ ملاقات کی۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم رہی کہ یہ تاثر بھی موجود ہے کہ کلیدی اہمیت کے حامل قومی مسائل میں پاکستانی سیاسی وعسکری قیادت متضاد نقطہ نظر رکھتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعلی ترین سطح کے مذاکرت میں وزیرِ خارجہ خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ احسن اقبال، وزیر دفاع خرم دستگیر کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور سیکریٹری خارجہ بھی موجود رہے۔
ماضی کے امریکی حکام کے دوروں کی طرح اس بار بھی امریکہ وزیر خارجہ افغانستان سے ہوکر پاکستان آئے۔ افغانستان میں ریکس ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان سے اس حوالے سے کچھ مخصوص مطالبات کیے ہیں یعنی وہ اس حمایت میں کمی لائے جو بعقول ان کے طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاکستان کو مل رہی ہے۔بگرام کے فوجی اڈے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم کہہ چکے کہ یہ شرائط پر مبنی طریقہ ہے اور پاکستان سے ہمارا رشتہ بھی شرائط پر مبنی ہی ہوگا۔ یہ اس پر منحصر ہوگا کہ وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جو ہماری نظر میں نہ صرف افغانستان میں مفاہمت اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہیں بلکہ مستقبل میں ایک مستحکم پاکستان کے لیے بھی لازم ہیں۔امریکی وزیر خارجہ کے بعقول ہم مستقبل میں پاکستان کے استحکام کے لیے بھی اس قدر ہی فکرمند ہیں جتنا کہ کئی معاملے میں افغانستان کے بارے میں ہیں، پاکستان کو حالات کا واضح انداز سے جائزہ لینا ہو گا۔
ریکس ٹلرسن نے غیر مہبم الفاظ میں یہ بھی کہا ” کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو آنکھیں کھول کر اس صورتِ حال کا جائزہ لینا چاہیے جس سے وہ دوچار ہے یعنی بعقول ان کے پاکستان کے اندر اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد تنظیموں کو پناہ کیسے مل جاتی ہے۔“
یقینا امریکہ طے شدہ حکمت عملی کے تحت پاکستان پر دباو رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ امریکی پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا داغ اسی وقت دھویا جاسکتا ہے جب تمام تر مشکلات ومسائل کا زمہ دار پاکستان کو قرار دے دیا جائے یہی وجہ ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان پالیسی کے سامنے آتے ہی دہشت گردی کے خلاف دونوں اتحادی ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوگے۔
حال ہی میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال کے حالیہ دور امریکہ سے دونوں ملکوںکے تعلقات میں نمایاں بہتری آتی محسوس ہوئی۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کئی مثبت پیش رفت سامنے چکیں جن سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات پیدا ہوئے ۔ گذشتہ دنوں اغوا شدہ امریکی اور کینڈین جوڑے کی بحفاظت بازیابی بھی امریکہ کو پاکستان کے قریب کرنے میںمعاون بنی۔
پاک امریکہ تعلقات کو بہتر بنانے میں بڑی رکاوٹ افعانستان ہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ کو اففانستان میں جوں جوں مسائل درپیش آتے ہیں پاکستان پر کابل اور واشنگٹن کی تنقید میں اضافہ ہوتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے دورے پاکستان میں بھی اس پر غور ہوگا کہ کیسے افغانستان میں حالات کو قابو کیا جاسکے۔ مبصرین کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورے میں کسی بڑی ڈرامائی پیش رفت کا امکان نہیں مگر اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا موقف سمجھنے میںمدد مل سکتی ہے۔
امریکہ ، افغانستان اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں جبکہ دوسری جانب مذکور ممالک میں ایک دوسرے پر باہم اعتماد کا فقدان ہے لیکن حال ہی میں مشرقی افغانستان میں جاری ڈرون حملے دوطرفہ تعلقات بارے کچھ اور ہی پیغام دے رہے۔ امریکی جاسوس طیاروں کی کاروائی میں میں ان دہشت گردوں کو کو نشانہ بنایا گیا جو خالصتا پاکستان کو مطلوب تھے۔ خالد خراسانی اور عمر منصور کا مارا جانا پاکستان کے لیے یقینا اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں مسائل کی ایک وجہ بھارت کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ ہے ۔ کئی فورمز پر اس کا اظہار کرچکا کہ بھارت علاقائی مسائل میں تعمیر کی بجائے تخریب پر کاربند ہے جس کا تدارک کرنا لازم ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان امریکی وزیر خارجہ سے افغانستان میں بھارت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کردار سے متعلق بھی بات ضرور کرے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی افغان پالیسی میں انڈیا کو تعمیر نو میں زیادہ بڑا کردار دینے کا اعلان کررکھا ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع پہلے ہی بھارت کا ایک دورہ کر چکے ۔ بلاشبہ حتمی طور پر کہنا بڑا مشکل ہے کہ امریکہ کب اور کیسے بھارت کا اففانستان میںکردار محدود کرتے ہوئے پاکستان کے جائز تحفظات کو دور کریگا لیکن ایک بات طے ہے ریکس ٹیلرسن پاکستان پر دباو بڑھانے کا عزم لے کر آئے ہیں جسے طور پر نہیںسراہا جاسکتا۔

Scroll To Top