کشمیریوں کی حالیہ جدوجہد کو 100 دن مکمل

100 Days To Complete The Current Struggle Of Kashmiris

اپنے لہو سے آزادی کا چراغ جلانے والے کشمیریوں کی حالیہ جدو جہد کو 100 دن ہو گئے۔بھارت کشمیریوں کے

دلوں سے آزادی کی خواہش نکالنے کی کوشش میں ، ہزاروں لوگوں کو پیلٹ گنوں سے چھلنی کرچکا ہے،اس سفاکانہ اقدام پر بھارت کو دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا ہےجبکہ وادی کشمیر میں آزادی کی تحریک بھی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

شعلہ بن جانے والی اس تحریک کا دیا،شہید برہانی وانی نے اپنے خون سے جلایا تھا، 8 جولائی کو قابض بھارتی فوج سے لڑتے ہوئے برہان وانی نے جام شہادت نوش کیا۔

اس کے بعد عوامی رد عمل کو روکنے کی ہر بھارتی کوشش،کشمیریوں کے غصے میں اضافہ ہی کرتی گئی۔شہید برہان وانی کے جنازے میں شریک انسانوں کے سمندر نے بتادیاکہ کشمیر میں دہشت گردی،کون کر رہا ہے۔

بھارتی فوج آزادی کے متوالوں کو دبا نہ سکی تو کشمیریوں کے جسموں کو پیلٹ گن کے چھروں سے چھلنی کرنا شروع کردیا، بچے بوڑھے اور خواتین کو بھی نہ بخشا گیا ،اب تک 150سے زائد کشمیری بھارتی فوج کی درندگی کا نشانہ بن کر شہید ہوچکے جبکہ ہزاروں زخمی ہیں۔

17 ستمبر کو اسکول کے 11سالہ طالب علم ناصرشفیع کی چھروں سے چھلنی لاش ملی،کرفیوکے باوجود ہزاروں کشمیریوں نے جنازے میں شرکت کی اور پاکستانی جھنڈے میں بچے کی تدفین کی گئی۔واقعے نے آزادی کی چنگاری کو شعلے میں بدل دیا۔اگلے ہی روز اڑی میں بھارتی فوج پر حملہ ہوا، جس میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔

تاہم بھارت نے حملے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ،حملے کا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔اس حملے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی،اقوام متحدہ میں بھی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا رونا رویا۔تاہم دنیا نے بھارت کا مؤقف مسترد کردیا۔

اسی دوران بارہ مولا میں دوبارہ بھارتی فوج پر حملہ کیا گیا جس میں ایک بھارتی فوجی ہلاک ہواجبکہ کچھ ہی روز پہلے پامپور میں ایک سرکاری عمارت پر حملہ کیا گی

Scroll To Top