مزید گرفتاریاں خارج ازامکان نہیں

zaheer-babar-logo

بظاہر سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کی گرفتاری کو قومی احتساب بیورو کے متحرک ہونے کے طور پر لیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ نئے چیرمین نیب جسٹس ریٹائر جاوید اقبال کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ اب احتساب سب کے لیے ہوگا۔“
سابق چیرمین نیب چوہدری قمر الزمان چوہدری کے دور میں قومی احتساب بیورو کی کارکردگی جس انداز کی رہی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی۔” پانامہ لیکس جیسے اہم مقدمہ کی سماعت کے دوران فاضل جج صاحبان قومی احتساب بیورو کی کارکردگی پر برملا اپنی ناپسندیگی کا اظہار کرتے رہے۔ عدالت عظمی کے فاضل جج صاحبان کے ریمارکس سے قانونی ماہرین نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ اگر قومی احتساب بیورو پانامہ لیکس کے معاملے میں موثر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا تو شائد اس معاملہ میں سپریم کورٹ سامنے نہ آتی ۔“
وطن عزیز میںایسے حلقوں کی کمی نہیں جو بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ نیب بدعنوان عناصر کے خلاف کاروائی کرنے سے کہیں زیادہ ان کو تحفظ دینے کا ”فریضہ“ سرانجام دے رہا۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کھلے عام یہ موقف رکھتے ہیںکہ قومی احتساب بیورو ملک کے کرپٹ افراد سے مک مکا کرکے بدعنوانی کو فروغ دینے کے لیے کوشاں رہا۔ آئینی طور پر چیرمین نیب کی تقریری چونکہ حکومت اور قائد حزب اختلاف کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں عمل میں آتی ہے لہذا پی ٹی آئی سربراہ نے اس عمل کو ”مک مکا “ کا نام بھی دیا۔
ایک تبصرہ یہ ہے کہ ماضی میں جو ہوا سو ہوا مگر اب یہ بڑی حد تک مشکل ہوچکا کہ قومی احتساب بیوور مسلسل اپنے فرائض منصبی سے غفلت کا مرتکب پایا جائے۔ نئے چیرمین نیب جٹس ریٹائر جاوید اقبال کا شمار آئین اور قانون کے ماہر کے علاوہ اس شخصیت طور پر کیا جاتا ہے جو مشکل حالات میں بھی اپنے فرائض کی ادائیگی احسن انداز میں ادا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ پر امریکی آپریشن کی تحقیقات ہوں یا پھر گشمدہ افراد جیسا پچیدہ معاملہ جناب جٹس جاوید اقبال نے بڑی حد تک اپنے فرائض زمہ داری سے ادا کیے۔دراصل کسی اہم منصب پر فائز شخصیت کے کام کا معیار جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مشکلات کا پوری طرح ادارک کیا جائے لہذا جسٹس جاوید اقبال کی کارکردگی یوں بھی دیکھی جاننی چاہے کہ ان کو اب تک کتنی اہم زمہ دایاں دی گئیں اور وہ کس حد تک سرخرو رہے۔
یہ سمجھنے کے لیے زیادہ علم ودانش کی ضرورت نہیں کہ ہمیں کیلدی منصب پر ایسے افراد تعینات کرنے ہونگے جن کے لیے ان کی ساکھ ہی سب کچھ ہو۔ عہدے آتے جاتے ہیں مگر تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو نیک نامی کمانے کے متمنی ہوں۔اس پس منظر میں یہ پیشنگوئی بھی کی جارہی کہ جٹس جاوید اقبال ایسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جائے کہ اب احتساب سب کا ہونے جارہا۔
سابق صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات شرجیل میمن کی نیب حکام کی جانب سے گرفتاری ایسے موقعہ پر ہوئی جب شریف خاندان ملکی اور عالمی سطح پر یہ دہائی دے رہا کہ احتساب محض ان کا کیا جارہا۔ متحرمہ مریم نواز کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ ”ہم سے احتساب نہیں انتقام لیا جارہا “ ۔سابق وزیر اعظم بھی اپنی نااہلی کو سازش سے تعبیر کررہے۔
بعض آئینی اور قانونی ماہرین کے بعقول اب اگر پی پی پی اور پاکستان تحریک انصاف کے بعض لوگ نیب حکام کی پکڑ میں آتے ہیں تو غالب امکان ہے کہ قومی احتساب بیورو کی ساکھ کسی نہ کسی حد تک بحال ہوجائے۔ ادھر تازہ پیش رفت میں نیب دفتر میں گرفتار شرجیل میمن کی طبیعت خراب ہوگئی بتایا جارہا ہے شرجیل کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ سابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن کی سندھ ہائیکورٹ میں نیب کیس میں عبوری ضمانت پر تھے۔ سندھ ہائیکورٹ نے شرجیل میمن کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے گرفتاری کاحکم دیا۔گرفتاری سے بچنے کیلئے شرجیل میمن کئی گھنٹے تک عدالت میں ہی موجودرہے اور عدالت کاوقت ختم ہونے پر باہرنکلے توانہیں گرفتارکرلیاگیا۔ میڈیا نمائندوں کے سامنے سندھ ہائیکورٹ کے باہرشرجیل میمن کی گرفتاری کے وقت دھکم پیل اور بھگڈرکے دوران ان کاگریبان چاک ہوگیا اور کپڑے بھی پھٹ گئے جس پر پیپلزپارٹی کے وکلا نے شرجیل ممین کی گرفتاری کیخلاف نعرے بازی کی۔ نیب حکام کے مطابق شرجیل میمن پونے 6ارب روپے کرپشن اسکینڈل میں گرفتارکیا ۔ گرفتاری کے موقعہ پر سابق وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہاکہ نیب کو رضاکارانہ گرفتاری دے دی ہے۔نیب کے پاس مجھے گرفتارکرنے کے وارنٹ نہیں ان کا کہنا تھا پنجاب میں الگ اور سندھ میں نیب کاالگ قانون ہے“
چیرمین نیب جٹس جاوید اقبال کا کام کسی طور پر آسان نہیں انھیں ان کا واسطہ ان سیاسی قائدین کے ساتھ ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے سیاست کو کاروبار بنا لیا ۔ بدعنوانی کے ہر مقدم میں ملوث پایا جانے والا خود کو مظلوم ثابت کرنے کی دہائی دے رہا۔ اس ضمن میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا امتیاز نہیں کیا جاسکتا ۔ بدعنوانی سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے آسان نہیں۔ اس کے لیے بنیادی طور پر سیاسی عزم کی ضرورت ہے یعنی منتخب نمائندے ملک وملت کے مفاد کے حقیقی ضامن بن کر سامنے آئیں۔ اس کے لیے متعلقہ اداروں کو بلاامتیاز ایسے اقدمات اٹھانے ہونگے جو حقیقی طور پر آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے ملک میں قانون کے یکساں اطلاق میں معاون ثابت ہوں۔

Scroll To Top