تحریک انصاف کو نقصان تب پہنچے گا جب عمران خان اسے چھوڑ دیں گے ۔۔۔۔

ایک عرصے سے نون لیگی قارئین اور رہبران اس بات پر بغلیں بجارہے ہیں کہ تحریک انصاف میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں تازہ ترین خبر جو اچھالی جارہی ہے وہ سیف اللہ نیازی کے استعفیٰ کی ہے۔ میں نے اس خبر کی وضاحت کے لئے گزشتہ شب سیف اللہ نیازی سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ استعفیٰ انہو ںنے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل کے عہدے سے دیا ہے ` پارٹی سے نہیں۔
آج مجھے اس موضوع پر لکھنے کی ضرورت اِس لئے پیش آرہی ہے کہ رانا ثناءاللہ کا بیان میری نظروں سے گزرا ہے کہ تحریک انصاف میں بارہ دھڑے قائم ہوچکے ہیں۔رانا صاحب نے بخیلی سے کام لیا ہے ۔ صرف تحریک انصاف ہی نہیں ہر پارٹی میں جتنے ” دھڑ“ ہوتے ہیں اتنے ہی دھڑے بھی ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ دھڑ اتنے دلیر نہیں ہوتے کہ کھل کر سامنے آئیں او ر ” دھڑا“ کہلائیں۔ رانا ثناءاللہ اور عابد شیر علی کی دلیری ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ دونوں ” دھڑ“ بھی ماشاءاللہ بڑے تگڑے ہیں اور ” دھڑے“ بھی فیصل آباد کی پہچان ہیں۔ دونوں کو ” اعلیٰ قیادت کی پشت پناہی حاصل ہے ` کیوں کہ ” اعلیٰ قیادت“ دونوں سے ” کام “ لیتی ہے اور انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ آپس میں کیوں برسرپیکار ہیں۔
جو بات ” تحریک انصاف “ کو ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس جماعت کا ” نیو کلس “ یعنی ” مرکزی پہچان“ عمرا ن خان کی ذات ہے۔ تحریک انصاف میں لوگ آتے جاتے رہے ہیں ` لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑا۔ کبھی ” اکبر بابر“ اپنے آپ کو تحریک انصاف کا انجن سمجھتے تھے۔ تحریک انصاف میں ایسے ایسے لوگ تھے کہ اب مجھے اُن کے نام یاد آتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کا مطلب ہی عمران خان ہے۔ ان کے اردگرد جو بھی لوگ ہیں وہ آنے جانے والی چیزیں ہیں۔
جہاں تک سیف اللہ نیازی کا تعلق ہے وہ میرے قریبی دوست ہیں۔ پارٹی کے انتظامی ڈھانچے میں ان کی حیثیت ہمیشہ کلیدی رہی ہے۔ جب ڈاکٹر عارف علوی سیکرٹری جنرل تھے تو بھی سیف اللہ نیازی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل تھے ` عارف علوی چونکہ کراچی میں قیام رکھتے تھے اس لئے انتظامی ڈھانچے پر سیف اللہ نیازی کا مکمل کنٹرول تھا۔ جہانگیر ترین کے آنے کے بعد ” اقتدار کے توازن“ میں تبدیلی ناگزیر تھی۔ جہانگیر ترین بھی اسلام آباد میں ہی رہتے ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ پارٹی میں سیاسی طور پر ایک کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہت ساری رقابتوں کا ابھرنا ایک فطری امر ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ آج کی تحریک انصاف میں جہانگیر ترین ` اسد عمر ` شاہ محمود قریشی اور چوہدری سرور کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔بہرحال پارٹی میں ” شخصیات“ کو اکٹھا اور متحد رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔
میرے کئی صحافی دوست عمران خان سے اس لئے روٹھ گئے کہ کپتان کے صرف دوکان ہیں اور ان دو کانوں سے وہ بیک وقت پندرہ بیس مشورے نہیں سن سکتے۔
میں نے اس بات کا حل یہ نکالا کہ خود ہی ان سے دُور چلا گیا۔
میں انتہائی ” شدید“ نوعیت کی سوچ رکھتا ہوں اور ایک روایتی پارٹی میری سوچ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان سے میری وابستگی میں کوئی فرق پڑا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی طور پر پاکستان کی واحد اور آخر امید عمران خان ہی ہیں۔تحریک انصاف کو نقصان تب پہنچے گا جب عمران خان اسے چھوڑدیں گے۔۔۔۔

Scroll To Top