کرپشن کا دور پاکستان میں نواز اور زرداری کے ظہور سے شروع ہوتا ہے

aaj-ki-bat-logo

یہ امر واقع ہے کہ پاکستان کی پوری تاریخ میں جتنی کرپشن ان ادوار میں ہوئی ہے جن میں سب سے طاقتور دستخط یا تو میاں نواز شریف کے تھے یا آصف علی زرداری کے، اس سے آدھی کرپشن بھی باقی تمام ادوار میں نہیں ہوئی ہوگی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں بائیس خاندانوں کا بڑا چرچہ تھا جن کی طرف بھٹو مرحوم کی بندوقوں کا رخ کئی برس تک رہا۔ آج کے دور میں صرف چار پانچ خاندان ہیں جن میں ایک خاندان کے سربراہ آصف علی زرداری ہیں اور دوسرے کے میاں نواز شریف ہیں۔جو باقی خاندان ہیں وہ اِن کے ہی ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ مثلاً میاں منشا اورانور مجید وغیرہ۔

اُن دو اصحاب سے پہلے کرپشن کو بُری نظر سے دیکھا جاتا تھا اور جو کرپشن کا ارتکاب کرتے تھے وہ بھی کوشش یہی کرتے تھے کہ ان کی کرپشن لوگوں کے سامنے نہ آئے۔
اِن دو اصحاب نے کرپشن کے بارے میں پورا بیانیہ ہی تبدیل کر دیا۔ وہ ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ کسی کے پاس اُن کی کرپشن کا کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے۔جب تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آتا وہ پاک صاف ہیں۔
پانامہ کے دھماکے اور اس کے جلو میں کرپشن کے خلاف چلنے والی عمران خان کی تحریک نے متذکرہ بالا بیانیہ کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔
نیا بیانیہ یہ جنم لے رہا ہے کہ ”تم لوگوں کی بے انداز امارت اور اثاثے ہی تمہاری کرپشن کا کھلا ثبوت ہیں۔ یہ کام تم لوگوں کا ہے کہ بتاو¿ ” یہ امارت کیسے قائم ہوئی یہ دولت کہاں سے آئی اور ان اثاثوں کو کیسے خریدا یا بنایا گیا ؟“
فی الحال تو شریف فیملی کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں لیکن وہ وقت دور نہیں جب زرداری صاحب کو بھی اپنی بے انداز دولت کا حساب دینا ہوگا۔
اس وقت پی پی پی کے قائدین یا اکابرین یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کی تعمیر اُن کے ہاتھوں سے ہوئی اور اب بربادی شریف خاندان کی کرپشن کی بدولت ہو رہی ہے۔
سید خورشید شاہ کا تازہ ترین بیان اس ضمن میں بڑا دلچسپ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھٹو مرحوم اور ان کے خاندان کے علاوہ ہر شخص اور ہر حکمران ملک کو تباہ وبرباد کرتا رہا۔ ۔۔ بہت ساری بربادی کا ملبہ انہوں نے ایک روایتی جیالے کی طرح جنرل ضیاالحق مرحوم پر ڈال دیا ہے۔ اگر انہوں نے اُس دور کی تاریخ پڑھی ہوتی تو جانتے کہ جس ”افغان پالیسی“ کو وہ ضیا الحق مرحوم سے نتھی کر کے پاکستان کی بربادی کا سبب قرار دیتے ہیں اس کا آغاز جناب زیڈ اے بھٹو نے کیا تھا۔ افغان جہاد کے سرکردہ لیڈر بھٹو مرحوم کی ہی دریافت تھے۔
1980ءکی دہائی میں جو کچھ ہوا وہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ ضیا مرحوم نے چنگاریاں پیدا نہیں کی تھیں۔۔چنگاریاں بہت پہلے سے موجود تھیں۔ کابل پر سوویت یونین کے قبضے نے چنگاریوں میں آگ بھڑکا دی۔
جنرل ضیال الحق نے جو کچھ کیا، تاریخ جغرافیہ اور حالات کا شعور رکھنے والا ہر لیڈر وہی کرتا۔ بھٹو کے ساتھ جو سلوک ضیاالحق نے کیا اسے اقتدار کی جنگ کا حصہ سمجھا جانا چاہئے۔ اسے افغان جہاد کے ساتھ ملانا درست نہیں۔
میری رائے میں بھٹو اور ضیا دونوں محبِ وطن تھے ۔ دونوں کے ہاتھ کرپشن سے پاک تھے۔
پاکستان کی بربادی کی تاریخ اس روز سے شروع ہوتی ہے جس روزمیاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں مالی اختیار آگیا۔۔۔

Scroll To Top