بکنے والے جج اور ڈرائے دھمکائے جانے والے خدمت گار کہاں مر گئے ؟

aaj-ki-bat-logo

میاں نوازشریف اور ان کی فیملی کے خواب وخیال میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ پاکستان میں ایسے جج بھی ” مسندِ انصاف“ سنبھالیں گے جنہیں خریدا نہیں جاسکے گا۔۔۔ اور سرکاری محکموں میں ایسے اہلکار بھی پائے جائیں گے جو نہ لالچ میں آئیں گے اور نہ ہی ڈرائے دھمکائے جاسکیں گے۔۔۔

شریف فیملی کے خواب و خیال میں یہ بات بھی نہیں ہوگی کہ ایک روزِ بد ایسا بھی آئے گا جب چند سر پھرے بین الاقوامی صحافیوں کی ایک تنظیم پاناما لیکس کے عنوان کے تحت انکشافات کا ایسا دھماکہ کرے گی کہ جاتی امراءکے محل کے درودیوار میں ارتعاش پیدا ہوجائے گا۔۔۔
شریف فیملی کی بدقسمتی ہے کہ یہ سب کچھ ہوا۔۔۔اس لئے ہوا کہ منشائے الٰہی یہی تھی۔۔۔ اللہ تعالیٰ ڈھیل دینے پر آئے تو ڈھیل دیئے چلا جاتا ہے۔۔۔ اور جب رسی کھینچنا چاہے تو وہی کچھ ہوتا ہے جو شریف خاندان کے ساتھ ہورہا ہے۔۔۔ اس ضمن میں کئی ماہ قبل صدر ممنو ن حسین نے جو کچھ کہا تھا اسے ایک الہامی بیان سمجھنا چاہئے۔۔۔ جب اللہ تعالیٰ از خود نوٹس لیا کرتا ہے تو پھر صدر ممنون حسین جیسے لوگ ” ممنون“ نہیں رہتے ” حسین “ بن جاتے ہیں میاں صاحب اور اُن کی صاحبزادی دونوں کی پکار ایک ہی ہے۔۔۔” کوفے و الو۔۔۔ کہاں سو گئے ہو۔۔۔ اٹھو اور 99کی تاریخ دہرا دو تاکہ ہم دنیا سے کہہ سکیں کہ ہمارا یہ حشر اِس وجہ سے نہیں ہوا کہ ہم نے چوریاں کیں اور ڈاکے ڈالے بلکہ اس لئے ہوا ہے کہ ہمارے ملک میں وردی والوں کو جمہوریت راس نہیں آتی۔۔۔“ باپ بیٹی کی یہ پکار بہرے کانوں سے ٹکرا کر رہ جاتی ہے۔۔۔ فوج ایک ” عدالتی عمل “ میں مداخلت کرکے شریف خاندان کی نجات دہندہ بننے کے لئے تیار نہیں۔۔۔
میرے خیال میں اب نوازشریف اور مریم نواز کو اپنی یہ حکمت عملی ترک کر دینی چاہئے۔۔۔ اورڈکشنری کھول کر دیکھنا چاہئے کہ ” شامتِ اعمال“ کا مطلب کیا ہے۔۔۔
جج بشیر نے ” شریفین جاتی امرائ“ پر فر د جرم عائد کی تو مریم چیخ اٹھیں۔۔۔
” جو فیصلہ ہوچکا ہے وہ ایک ہی بار سنا دو۔۔۔ بار بار کی ان حاضریوں اور پیشیوں سے تو جان چھوٹ جائے۔۔۔ یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔۔۔ اور جو احتساب کے نام پر انتقام لے رہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ احتساب ان کا بھی ہوگا۔۔۔“
یہ ایک دھمکی تھی جو سابق وزیراعظم کی ” دلیر“ بیٹی نے عدلیہ کو بھی دی اور فوج کو بھی۔۔۔ موصوفہ نے یہ بھی کہا۔۔۔ ” یہ عجیب تماشہ ہے کہ سزا پہلے دی جاچکی ہے اور ٹرائل اب ہورہا ہے۔۔۔“
محترمہ یہ ٹرائل ان جرائم کا ہے جن کا آپ کے والد کی نا اہلی سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔ آپ کے والد تو جے آئی ٹی بننے سے پہلے ہی خائن اور کذاب قرار پا چکے تھے جب جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار نے اپنا فیصلہ سنایاتھا۔۔۔ تب تو آپ نے مٹھائیاں بانٹی تھیں کہ باقی تین ججوں نے انصاف کیا ہے اور حقائق جاننے کے لئے جے آئی ٹی بنانے کو کہا ہے۔۔۔ آپ لوگوں نے مٹھائیاں اس لئے بانٹی تھیں کہ آپ کا خیال تھا کہ اب حقائق کو نوٹوں کے انبار تلے دفن کرنا مشکل نہیں ہوگا۔۔۔ آپ کو یہ امید شاید اب بھی ہو کہ آپ کو مکافات ِ عمل سے فرار کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور مل جائے گا۔۔۔ لیکن یاد رکھیں آپ لوگ ”مشیتِ ایزدی“ کے خلاف کوئی گھناﺅنا کھیل نہیں کھیل سکتے۔۔۔

Scroll To Top