”تنقید کرنے والے ہوش کے ناخن لیں “

zaheer-babar-logo

حالیہ دنوں میں عدالت عظمی پر جس انداز میں تنقید کا سلسلہ جاری وساری ہے ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ پانامہ لیکس کے مقدمہ میں سابق وزیر اعظم کی نااہلی اور پھر ان کے خاندان کے افراد پر ریفرنس دائر ہونے کے بعد عدلیہ مخالف مہم میں جتنی تیزی آئی وہ افسوسناک بھی ہے اور تشویشناک بھی ۔ درپیش صورت حال پر جہاں پاکستان کا باشعور شہری تشویش میں مبتلا ہے وہی اہل دانش ، قانونی حلقوں اور اب چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے بھی ناگواری کااظہار کیا گیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جناب جٹس ثاقت نثار کا کہنا تھا کہ ” ہر وقت عدلیہ کو نشانہ بنانے والے ہوش کے ناخن لیں ، موجودہ حالات کے تناظر میں صبر اور تحمل سے کام لے رہا ہوں ، جذباتی نہیں ہورہا،میں سب سے یہی کہتا ہوں کہ ملکی مفاد کے لیے اپنے اداروں پر اعتماد رکھیں‘فیصلے کو غلط کہنے کی بجائے جائزہ لینا چاہے کہ فیصلہ آیا کیوں “۔
اس میں شبہ نہیںکہ قومی اداروں کو متازعہ بنانے کی کوشش کسی کے لیے بھی سودمند ثابت نہیں ہونے والی۔ جمہوریت میں اختلا ف رائے کی اہمیت سے انکار نہیں مگر ملک کے اہم اداروں پر جانبداری کا الزام عائدکرکے کسی طور پر ملک وملت کی خدمت نہیں کی جارہی۔افسوس ہمارے زمہ داروں کا اب تک یہی طرزعمل رہا کہ وہ وہ اپنے حق میں آنے والے عدالتی فیصلوں کو تو حق وسچ کی فتح قرار دیتے ہیں جبکہ اپنے مخالف آنے والے فیصلوں کو قبول کرنے سے ہی انکاری رہے۔
بطو رقوم ہماری بقا وسلامتی اور تعمیر وترقی کا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب ریاستی امور آئین وقانون کے دائرے کار میں رہتے ہوئے سرانجام دئے جائیں۔ کسی بھی ادارے کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ دوسروں کے دائرہ کار میںمداخلت کا مرتکب ہو۔ ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ جب جب مملکت خداداد پاکستان کا نظام قانونی راستہ سے ہٹا تو مشکلات پیدا ہوئیں۔ مقام شکر ہے کہ تمام تر مسائل کے باوجود قومی ادارے اپنی آئینی حدود وقیود کے اندر رہ کر فرائض منصبی ادا کررہے ہیں۔ نظام لپیٹنے کی دہائی تو دی جارہی مگر کہیں بھی ان افواہوں کو حقیقت کی شکل دینے کی کوئی بھی کوشش نہیں ہورہی۔ ایک خیال یہ ہے کہ بطور قوم ہم اس کے عادی نہیں کہ طاقتور شخصیات قانون کے سامنے سر جھکانے کی روش اختیار کریں۔ اب تک یہی ہوتا چلا آیا جو جتنے بڑے منصب پر فائز ہے اکثر وبشیتر وہ قانون سے روگردانی کا اتینا ہی زیادہ مرتکب ہوا یعنی عہدے اور اختیار کو ذاتی اور گروہی مفاد کے لیے استمال میں لانے کی درجنوں مثالیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ بااثر لوگوں کا یہی طرزعمل ہے کہ اکثر و اوقات ملکی آئین وقانون موم کی ناک ثابت ہوا۔ کئی دہائیوں تک ہمارے زمہ داروں نے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش نہیں کی حد تو یہ ہوئی کہ سانحہ مشرقی پاکستان جیسا واقعہ بھی ہمیں خوداحتسابی کی جانب را غب نہ کرسکا۔
مگر آج پاکستان بدل رہا ہے ۔ ایک طرف طاقت کے روایتی مراکز موجود ہیں تو دوسری جانب بڑھتا ہوا عوامی شعور خود کو منوانے کے لیے کوشاں ہے۔ بلاشبہ یہ سوچنا خوش فہمی ہوگی کہ وطن عزیز محض چند سالوں میں ایسی ریاست کا منظر پیش کرنا شروع کردے جہاں حکومتی ادارے حقیقی معنوں میں عوام کے خادم کا کردار ادا کریں۔ دراصل کسی بھی ترقی پذیر ملک کی طرح پاکستان مرحلہ وار آگے بڑھ رہا۔ پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کا استمال پڑھے لکھے افراد کو بہتری کے عمل میں شامل کررہا۔ ایک طرف مسائل کا انبار ہے تو دوسری طرف عوامی دباو حکومتی اداروں کو ان کی وہ زمہ دایاں یاد رلا رہا جو وہ کئی دہائیوں سے فراموش کیے ہوئے ہیں۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کبھی کم نہ تھے۔ تقسیم ہندوستان سے لے کر آج تک پاکستانی قوم نے کئی بحرانوں کا سامنا کیا۔ آزادی کے فورا بعد ہی قائداعظم کا انتقال اس نوزائیدہ مسلم ریاست کو ایسے مسائل سے دوچار کرگیا جس کو حل کرنے لیے اس کے پاس اہل افراد ہی نہ تھے نتیجہ یہ نکلا کہ حکمران طبقہ دہائیوں تک ملک کو انواع واقسام کی تجرگاہ کے طور پر استمال میں لاتا رہا۔
اسے محض خوش فہمی نہیں کہا جاسکتا کہ آج پاکستان مذید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یقینا ملک میں رائج نظام خامیوں سے خالی نہیں مگر اسے بتدریج بہتر بنانا ناممکن بھی نہیں۔ آج وطن عزیز کا ہر اہم ادارہ بتدریج جوابدہی کے عمل سے گزررہا۔ کسی کے لیے یہ اعلانیہ ممکن نہیں رہا کہ وہ من مانی کرتے ہوئے ان حدود وقیود سے تجاوز کرجائے جو آئین پاکستان میں درج ہیں۔پانامہ لیکس میں میاں نوازشریف کی نااہلی کے معاملے کو بھی اس پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ کہنا غلط نہیںکہ مخصوص مقاصد کے لیے سپریم کورٹ پر تنقید کرنے والوں کو ہوشن کے ناخن لینے چاہیں۔“
مسلم لیگ ن اور اس کے حامیوں کو اس سوال کا جواب دینا چاہے کہ کم وبیش 35سال سے قومی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے والی جماعت نے اصلاح احوال کے لیے کس قدر کوشش کی یعنی تین مرتبہ وزیر اعظم پاکستان رہنے والے میاں نوازشریف نے ملک میں سستے اور فوری انصاف کے لیے کون کون سے منصوبہ شروع کیے وہ یقینا قوم کے سامنے رکھنے چاہیں۔

Scroll To Top