یہ رویہ جرم کا نادانستہ اقرار نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟

aaj-ki-bat-logo


نوازشریف فیملی بظاہر حکومت سے الگ کی جاچکی ہے۔۔۔ اگر کسی خاندان کا سربراہ گاڈ فادر قرار پا جائے اور ماریوپیوزو کے شہرہ آفاق کردار ڈان کارلیون کی یاد تازہ کرے۔۔۔ اور پھر پورے خاندان کے خلاف کرپشن اور دھوکہ دہی وغیرہ کے مقدمات قائم ہو جائیں تو بد سے بد نظام میں بھی ظاہری طور پر اس خاندان کی اقتدار سے علیحدگی ایک ایسی رسمی ضرورت بن جاتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ لیکن پاکستان کے عوام کو سکھ کا سانس نصیب نہیں ہوسکا۔۔۔ سار ی دنیا جانتی ہے کہ وطنِ عزیز میں جو طبقہ درحقیقت ٹیکس ادا کرتا ہے اور جس طبقے کے لئے ممکن ہی نہیں کہ ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچ سکے۔۔۔ وہ طبقہ عوام کہلاتا ہے ۔۔۔ یہ طبقہ تقریباً ننانوے فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔۔۔ جو ایک فیصدآبادی اس طبقے سے باہر ہے اسے آپ ” خواص “ کہہ سکتے ہیں۔۔۔ ڈاکٹر شاہد مسعود اس طبقے کے لئے ” بدمعاشیہ “ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔۔۔ وہ شاید اس لئے کہ انہیں اس طبقے کو ” اشرافیہ “ کا نام دینا گوارہ نہیں۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طبقے میں ننانوے فیصد لوگ ” اشرافیہ “ ہی ہوں گے ۔۔۔ باقی ایک فیصد کو بدمعاشیہ کے خانے میں ڈالا جاسکتا ہے۔۔۔

یہ امر واقعہ ہے کہ پاکستان کے کروڑوں ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی اس ” بدمعاشیہ “ کو سکیورٹی فراہم کرنے پر خرچ ہوتی ہے۔۔۔ اس بات کا ناقابل ِ تردید ثبوت وہ اخراجات ہیں جو پاکستان کے غریب عوام کو نواز فیملی کی عدالتوں میں شاہانہ آمد پر برداشت کرنے پڑتے ہیں۔۔۔یہ درست ہے کہ ملزم جب تک مجرم ثابت نہ ہوجائے وہ ملزم ہی ہوتا ہے۔۔۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ اگر میاں نوازشریف صرف ” ملزم“ ہوتے تو وزارت عظمیٰ سے نا اہلی کی بنیاد پر الگ نہ کئے جاتے۔۔۔ اس ضمن میں میں یہ بھی کہوں گا کہ اگر میاں نوازشریف کو یقین ہوتا کہ وہ صرف ملزم ہی ہیں اور ان پر کوئی جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا تو وہ مقدمات سے راہِ فرار اختیار کرنے کی حکمت عملی اختیار نہ کرتے۔۔۔اُس صورت میں شاید محترمہ کلثوم نواز کو بھی شدید علالت کی تکلیف سے نہ گزرنا پڑتا۔۔۔لیکن شریف فیملی کا پورا رویہ یہ ظاہر کررہا ہے کہ ان کے نزدیک ان کے لئے موثر ترین دفاع یہ ہے کہ وہ ” عدالتی عمل“ کو غیر موثر بنادیں اور مقدمات کو اِس امید پر زیادہ سے زیادہ طول دیں کہ مستقبل میں شاید نجات کا کوئی راستہ مل جائے۔۔۔
یہ تحریر میں 19اکتوبر 2017ءکی سماعت سے پہلے قلمبند کررہا ہوں۔۔۔ اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ ” شاہی ملزمہ “ اور ان کے شوہر کی پیشی کے پیش نظر سکیورٹی کے نام پر آس پاس کی شہری زندگی مکمل طور پر معطل کی جاچکی ہے۔۔۔
میاں نوازشریف تشریف نہیں لائے کیوں کہ وہ لندن میں اپنی علیل اہلیہ کے لئے ” لائف سپورٹ“ بنے ہوئے ہیں۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں کہ جب وہ اپنے آپ کو اپنی نا اہلیت کے باوجود مسلم لیگ کا صدر منتخب کرانے کے لئے پاکستان آئے تھے تو چند روز ان کی اہلیہ نے کیسے گزارے ہوں گے۔۔۔

Scroll To Top