جارحانہ حکمت عملی کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا ؟

zaheer-babar-logo

بظاہر اس تجزیہ سے اختلاف کرنا مشکل ہے کہ حکمران جماعت طے شدہ حکمت عملی کے تحت محاذآرائی کے راستے پر گامزن ہے۔ بشیتر قانونی وسیاسی حلقوں کے بعقول سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے پاس کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا کہ وہ زبانی ہی سہی مگر اداروں کے سے تصادم کی راہ اختیار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد مریم نواز نے ایک بار پھر جاری احتساب عمل کو مشکوک بنانے میں ہرگز کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ادھر مسلم لیگ ن کے حامی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر میاں نوازشریف نے پاکستانی سیاست میں زندہ رہنا ہے تو ان کے پاس جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے کے سوا کوئی آپشن نہںرہا۔
دراصل پانامہ لیکس کے مقدمہ میں سابق وزیر اعظم کا نااہل ہونا میاں نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کے لیے بہت سارے محاذ کھول گیا۔ ایک طرف انھیں احتساب عدالت میں بدعنوانی کے مختلف مقدمات کا سامنا ہے جس میں دستیاب شواہد بڑی حد تک مستند سمجھے جارہے ہیں۔ پانامہ لیکس کی تحقیق کرنے والی جے آئی ٹی نے نوازشریف خاندان کے خلاف جو شواہد اکھٹے کیے عدالتوں میں ان کو کو جھٹلانا بڑی حد تک مشکل ہے لہذا ٰیہ سمجھنے کے لیے بقراط ہونا لازم نہیںکہ ناجائز زرائع سے دولت کے حصول کا رضاکارانہ اعتراف کرنا نوازشریف فیملی کے لیے کس قدر تباہ کن ہوسکتا ہے۔
دراصل کسی فرد یا گروہ کی سیاسی حمایت میں اچانک کمی نہیں آیا کرتی۔ تاریخ کا ہر طالب علم آگاہ ہے کہ نظریہ اچھا ہو یا برا اس کو قبول کرنے یا مسترد کرنے میں وقت لگتا ہے۔ خود قومی تاریخ میں ایسی کئی مشالیں موجود ہیں جب بظاہر آئین اورقانون کی روشنی میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو عوام کے اجتماعی شعور نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ مثلا پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی زوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمہ میں سزائے موت دی گی، ان کا خاندان جلاوطن ہوا ، پارٹی پرپابندی عائد کردی گی مگر پھر چشم فلک نے دیکھا کہ متحرمہ بے نظیر بھٹو نہ صرف پاکستان واپس آئیں بلکہ دومرتبہ وزرات عظمی کے منصب پر بھی فائز ہوئیں۔
یقینا پاکستان مسلم لیگ ن اب بھی ملک کی بڑی سیاسی قوت ہے۔ وفاق، پنجاب، بلوچستان ، گللت بلتسان اور آزاد کشمیر میں اب بھی پی ایم ایل این برسر اقتدار ہے۔ دراصل جمہوری نظام میں ایسی جماعتوں کی افادیت اور اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں اپنی حمایت رکھتی ہوں ۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مختلف علاقوں میں مختلف ثقافتیں اور زبانیں ہیں لازم ہے کہ ایسی قومی جماعتیں موجود رہیں جن کی مقبولیت زیادہ سے زیادہ علاقوں میں ہوں۔یاد رکھا جانا چاہے کہ جب معروف معنوں میں وفاق کی نمائندہ جماعتیں فعال نہیں ہونگی تو پھر ایسی مقامی اور علاقائی قوتیں سراٹھا سکتی ہیں جن کا مقصد تعمیر سے زیادہ تخریب ہو۔
متحرمہ بے نظیر بھٹو کی حادثاتی موت کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی جن مسائل کا شکار ہے وہ ایک طرف بطور جماعت اس کی مشکلات میں اضافی کررہیں تو دوسری جانب ملک میں رائج جمہوری نظام اس سے متاثر ہوررہا۔ ایک سے زائد بار وفاق میں حکومت بنانے والی پی پی پی آج اگر اندرون سندھ تک محدود ہوچکی تو اس سے جمہوری نظام کو کسی طور پر تقویت نہیں ملنے والی۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا المیہ یہ ہے کہ وہ ان مسائل سے نمٹنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے جو اس وقت ان کی جماعت کو درپیش ہیں ۔ کہنے کو بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی کا چیرمین بنایاگیا مگر واقفان حال باخوبی واقف ہیںکہ وہ حتمی اختیار سے بدستور محروم ہیں۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں جمہوری نظام کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک سیاسی قائدین کے طرزعمل پر ہے۔ پارٹیوں کو لمیڈ کمپنیوں کی شکل میں چلانے سے کسی طور پر ایسے سیاسی کلچر پروان چڑھنے کا امکان نہیں جو حقیقی معنوں میں عوام کو بااختیار بنا سکے۔دراصل شخصیات کے گرد گھومتی سیاسی جماعتیں بڑی حد تک نظریات سے تہی دامن ہیں۔ موروثی سیاست کو بھی اسی صورت جائز سمجھا جاسکتا ہے جب نئی لیڈر شپ ان مراحل کوطے کرے جو اس کی سیاسی تعلیم وتربیت کے لیے ضروری ہیں۔
حالیہ سالوں میں ملک کے سیاسی ومعاشی حالات جس تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں وہ یقینا قابل غور ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف کی اقتدار سے رخصتی کے نتیجے میں پی پی پی کا برسر اقتدار آنا مسائل کم کرنے کی بجائے بڑھا گیا۔پاکستان کا محل وقوع بھی اس بات کا متقاضی تھا کہ برسرا قتدار لوگ فوری طور اور بروقت فیصلے کرکے مشکلات پر قابو پاتے۔ نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والے حالات ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی بدل کررکھ گے۔ مخصوص حوالوں سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اہل اقتدار حالات کا درست تجزیہ کرکے متفقہ حکمت عملی اختیار کرنے میںناکام رہے لہذا آج حالات یہ ہیں کہ کوئی بھی اپنی ناکامی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
مقام شکر ہے کہ عسکری قیادت کے عزم وحوصلہ کی بدولت دہشت گردی کے عفریت پر بڑی حد تک قابو پایا جاچکا۔ محض چند سال قبل تک آئے روز ہونے والے خودکش دھماکے اور بم حملے بطور ایٹمی قوت کے حامل پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے تھے۔ اب جو کام کرنا ہے وہ یہ کہ قومی سطح پر اپنی صفوں میں اتفاق و اتحاد کو فروغ دیا جائے۔ مسلم لیگ ن کی سیاسی حکمت عملی اپنی جگہ مگر اسے معاملات اس سطح پر لے جانے سے بہرکیف گریز کرنا چاہے جس سے پاکستان کے دشمن فائدہ اٹھا لیں۔

Scroll To Top