قبولِ اسلام کے مرحلے سے دوبارہ گزرنے میں کوئی ہرج نہیں

aaj-ki-bat-logo


بہت سارے دانشوروں اور خود میرے اپنے کئی کرمفرماﺅں کو اپنے تمام تر ” دعویٰ ہائے مسلمانی“ کے باوجود اسلام کے ایک بنیادی تصور سے اتفاق نہیں۔ وہ کھل کر تو اسلام کے اس بنیادی تصور سے اختلاف نہیں کرتے مگر کسی بات سے اتفاق نہ کرنا بھی اختلاف کی ایک قسم ہے۔ جس بنیادی تصور کی بات میں کررہا ہوں اس کا تعلق ” شناخت “ سے ہے۔ جب بھی کوئی شخص ایک خدا ` ایک قرآن اور ایک رسول پر ایمان لاتا ہے اور اس ایمان کی رو سے وہ خدا کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں اور صحیفوں کو برحق تسلیم کرتا ہے تو وہ ایک امّت کا حصہ بن جاتا ہے ` اور اس کی پہچان صرف اسی امّت کے حوالے سے کی جاتی ہے۔

میرے نزدیک امّت محمدی کا حصہ بننا اوراپنی مسلمانی کو ہی اپنی بنیادی شناخت سمجھنا تمام دیگر شناختوں سے جذباتی تعلق ختم کرنے کے اعلان کے مترادف ہے۔
آنحضرت کی حیات مبارکہ میں قبولِ اسلام کا مطلب یہی تھا۔ جب بھی کوئی شخص دارالکفر سے نکل کر دارالاسلام میں داخل ہوتا تھا تو اپنا ماضی اور اپنے ماضی کی تمام تر شناختیں پیچھے چھوڑ آتا تھا۔
صلح حدیبیہ کے بعد جب حضرت خالد بن ولید ؓ حضرت عمر والعاص کی معیت میں اسلام قبول کرنے کے لئے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ایک روایت کے مطابق انہوں نے پہلا جملہ یہی کہا۔
” یار رسول میں اپنے تمام پچھلے رشتے ` پچھلی محبتیں ` پچھلے بندھن` پچھلے معبود اور پچھلی روایات پیچھے چھوڑ کر آپ کے سچے خدا پر ایمان لانے کے لئے آیا ہوں۔ آج سے میری تلوار صرف آپ کے خدا کے لئے اٹھے گی۔“
تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ اور جب خالد بن ولیدؓ نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا تو آپ نے انہیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کے لقب سے نوازا۔
پاکستان اسی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔
اور میں سمجھتاہوں کہ جو لوگ اس نظریے کو پس پشت ڈال کر اپنی پہچان آپ کی عطا کردہ شناخت کے علاوہ کسی اور شناخت کے ذریعے کر انے کے خواہشمند ہیں انہیں ایک بار پھر ” قبول ِاسلام “ کے مرحلے سے گزرنا چاہئے۔
(یہ کالم اس سے پہلے 18اپریل 2012ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top