قوم کا عزم متزلزل نہیں ہوگا

zaheer-babar-logoوطن عزیز میں دہشت گردی کا عفریت آئے روز کسی نہ کسی شکل میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے آموجود ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپورکوششوں کے نتیجے میں کشت وخون کے واقعات میں نمایاں کمی ہونے کے باوصف اس کا مکمل سدباب تاحال نہیں کیاجاسکا۔ شرپسندوں کی تازہ کاروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم سات اہلکاروں سمیت آٹھ افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ۔مذکورہ کاروائیاں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ ضلع بنوں میں کی گئیں جن میں پولیس کمانڈورز اور فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
ہزاروں شہادتوں اور اربوں روپے کی املاک کے نقصان کے باوجود خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستانی قوم نے اجتماعی طور پر دہشت گردوں کی بالادستی قبول کرنے سے انکار کردیا۔ آج ملکی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ملک کے کونے میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی کاروائیاں عوامی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھیں۔ دراصل اس سے ثابت ہورہا ہے کہ ریاست اور اس کے عوام دہشت گردی کی جنگ کو قبول کرکے اسے انجام تک پہنچانے کے لیے کمربستہ ہو چکے ۔ نہیں بھولنا چاہے کہ محض چند سال قبل تک انتہاپسندی کے خلاف اس لڑائی کو ہم اپنی جنگ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ ہماری سیاسی و مذہبی قیادت اگر مگر اور چونکہ چنانچہ سے کام لیتے ہوئے ریاست کی بالادستی چیلنج کرنے والوں سے نظریں چرا رہی تھی۔اب موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں یہ کہنا غلط نہیںکہ ریاست دہشت گردی کی جنگ کے خاتمے کے مرحلے میںداخل ہوچکی۔ کئی تنظمیں جو ماضی میں مذہبی سیاسی ، سماجی اور لسانی دہشت گردی میں ملوث تھیں اب فعال نہیں رہیں۔اس میں شک نہیںکہ آج بھی بعض مسلح گروہ اور تنظیمیں غیر ملکی ایجنڈوںکی تکمیل کے لیے یہاں موت کا کھیل بے دردی اور سفاکیت سے کھیل رہی لیکں اب ریاست پوری قوت سے ایسی تنظیموںسے لڑ رہی ہے جو ملکی و غیر ملکی ایجنڈوںپر عمل پیرا ہیں ۔دراصل جاری جنگ میں زیادہ مشکل مذہب کی آڑ میں کی جانی والی دہشت گردی کی بدولت آرہا ہے۔اگرچہ یہ حقیقت بے نقاب ہوچکی کہ مذہب کے نام پر کھیلا جانے والے اس کھیل میں پیسہ یہ فیصلہ کن حثیثت کا حامل ہے ،مگر اس ضمن میں جوذہن سازی ہو چکی اس کا اثر فوری طور پر زائل ہونے والا نہیں۔ اس میں کسی کو شک نہیںہونا چاہے کہ جب تک ریاست اس کے تمام ادارے اور عام آدمی میدانِ جنگ میں نہیں اترے گا حتمی کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ ۔ بالکل اسی طرح عام افراد بھی گلی محلوں کی سطح پر کسی دہشت پسند گروہ یا افراد کے لیے اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھیں ۔ یقینا دہشت گردی کے خاتمے کا معاملہ محض عسکری قیادت تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس ضمن میں سیاسی قیادت کو کمان سنبھالنی پڑے گی۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ جس طرح پاکستانی سماج میں انتہاپسندی کا عفریت اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ موجود رہا اس کے لیے بطور قوم ہمیں وسیع تناظر میںدیکھنے کی ضرورت ہے ۔ یقینا یہ ایک طویل المدتی عمل ہے ،کیونکہ اس کاتعلق لوگوں کے شعور کے ساتھ ہے بطور قوم ہمیں ایسا نظام لانا پڑے گا جو بلیک اینڈ وائٹ میں تمیز کو واضح کرسکے ۔
دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ناجائز زرائع سے آنے والی رقم پربھی چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہوگا ۔ امریکہ میں نائین الیون کے بعد پہلاکام یہ کیا گیا کہ منی ٹرانسفر کے نظام پر کڑی نگرانی کے نظام کو مضبوط بناتے ہوئے اسے شفاف بنانے کی کوشش کی گی۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں بہت سے ایسے لوگ موجودہیں جو مدارس اور تنظیموں کے اندر اچھاکام کررہے ہیں ،تاہم کچھ ایسے ہیں جن کی شناخت مشکوک ہے لہذا ان سے ہمارے سکیورٹی اداوںکو نمٹناپڑ رہا ہے۔
حالیہ سالوں میں دہشت گردی کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں میڈیا کو پاکستانی عوام میں اظہار ویکجتی کے لیے ابھی اور آگے بڑھنا ہے۔ سمجھ لینا چاہے کہ دہشت گردی کی جنگ میںسیاسی لیڈر شپ کا بہت اہم کردار ہے،دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس حکومت اس معاملے میں رہنمائی کر رہی ہے۔ بظاہر آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کہ دہشت گردی کی جنگ کو کون لیڈکر رہا ہے تو نوے فیصد عسکری قیادت کا نام لیں گے ۔یاد رہے کہ فوج دہشت گردوں سے لڑ سکتی ہے ، دہشت گردی سے نہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اداروں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے یعنی انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط کیا جائے ،پولیس نظام کو بہتر کیا جائے۔
سالوں سے دہشت گردوں کی طرف سے قائم کی جانے والی خوف کی فضا کو فوج دور کرنے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ سوسائٹی متشدد رویوں کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتی سماجی ترقی کے لیے نئے اصول وضع کرناپڑتے ہیں۔ سانحہ پشاور کے بعد بننے والے قومی ایکشن پلان کے دیگر نکات بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔مثلا افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو مذہب اور فرقے کی آڑ میں مسلح کارروائیاں کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ فارن فنڈنگ پر انحصار کرنے والے مدارس اور تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن کی ضرورت پر ضرورت دیا گیا ۔ قیام امن کے لیے غیر قانونی اسلحے سے معاشرے کو پاک کرنا بھی ضروری ہے لہذا اگر خلوصِ نیت ہو تو دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ ایک اہم بات یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت بہترین گورننس کاثبوت دے۔لیکن بظاہر حکومت کا طرزِ حکمرانی درست نہیں ہے ، دہشت گردی کے خاتمے اور اس پر قابو پانے کے لیے انٹیلی جنس اور پولیس کے نظام کو موثر کرنا پڑے گا۔علاوہ ازیں میڈیا اس ضمن میں پوری ایک کمپین تشکیل دے۔سکولوں اور کالجوں میں دہشت گردی کے خلاف لٹریچر کو عام کیا جائے اگر اس طرح کے لٹریچر کو فوری طور پر نصاب میںشامل نہیں کیا جاسکتا تو سکولوںاورکالجوں میںعام کیا جائے ۔دہشت گردی پر قابو پانامحض ریاست کی ذمہ داری نہیںسول سوسائٹی کو بھی موثر کردار ادا کرنا ہو گا یعنی جو بھی قوتیں پاکستان کے استحکام کے خلاف کام کرتی ہوئی پائی جائیں ان کی گرفت کی جائے۔

Scroll To Top