دہشت گردی کو ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر اختیار کرنے والا قبیلہ اور اس کا گاڈفادر

aaj-ki-bat-logo

شریف خاندان کی راجد ھانی لاہور میں موج مستی کرنے والے درجنوں نون لیگیوں نے گھنٹوں تک ہزاروں راﺅنڈ کی ہوائی فائرنگ کرکے پورے علاقے میں خوف و دہشت کی فضا قائم کردی۔۔۔ قانون اس دوران سویا تو یقینا نہیں ہوگا لیکن اس نے اپنے کانوں میں انگلیاں ضرور ٹھوس لی ہوں گی۔۔۔
یہ واقعہ مسلم لیگ(ن)کے حقیقی کردار کی مکمل نشاندہی کرتا ہے۔۔۔ اس پارٹی کی حکومت کے بڑوں نے ایسے بے شمار ” دہشت گرد“ پال رکھے ہیں جن کا کام اس کے علاوہ اور کوئی نہیں کہ کھلے عام قانون کی دھجیاں بکھیر کر عوام الناس پر اپنی دھاک یا اپنی دہشت بٹھائیں۔۔۔ میں نے ان کے لئے دہشت گرد کی اصطلاح اس لئے استعمال کی ہے کہ یہ بھی عملی طور پر وہی کا م کرتے ہیں جو کام عرف ِعام میں دہشت گرد کہلانے والے لوگ خود کش حملہ آوروں سے کراتے ہیں۔۔۔
اصل مقصد ایسے لوگوں کا اپنی بے پایاں طاقت کے اظہار کے ذریعے لوگوں کو دہشت زدہ کرنا ہوتاہے۔۔۔ آپ کو یاد ہوگا کہ نون لیگ کے ایک سنیٹر نہال ہاشمی نے جے آئی ٹی کے اراکین اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ہراساں اور دہشت زدہ کرنے کے لئے کیسی خوفناک وڈیو تیار کرا کے میڈیا پر چلوائی تھی۔۔۔ اور آپ کے ذہن میں گزشتہ چند دنوں کے دوران پیش آنے والا وہ واقعہ بھی دیرپا نقوش چھوڑ چکا ہوگا جس میں نون لیگی وکلاءگلو بٹوں اور پویس نے مل کر ایسا خوفناک ڈرامہ پیش کیا کہ احتساب عدالت کو اپنا کام بند کرنا پڑا اور جج صاحب نے اپنی جان محفوظ رکھنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔۔۔
بیس برس قبل سپریم کورٹ پر ہونے والا حملہ بھی عدلیہ کو دہشت ز دہ کرنے اور دہشت زدہ رکھنے کی حکمت عملی کا ایک کامیاب مظاہرہ تھا۔۔۔اور اس ضمن میں جو ن2014ءکے اس سانحے کا ذکر آئے بغیر نہیں رہتا جس میں ریاستی قانون کے محافظ نہتے شہریوں پر گولیاں برسانے اور انہیں وحشت و بربریت کا نشانہ بنا کر حکومت کے مخالفین کو دہشت زدہ کرنے والا ایک پیغام دینے کا ” ذریعہ “ بنادیئے گئے تھے۔۔۔ اس سانحے کو ماڈل ٹاﺅن کا قتل عام کہا جاتا ہے اور اس میں حکمران جماعت کے اصل کردار کی پہچان بننے والے ” گلوبٹ “ کو اس قدر شہرت ملی کہ وہ ڈکشنری کی ایک اصطلاح بن گیا۔۔۔
میاں نوازشریف اس پورے قبیلے کے ہیرو ہیں۔۔۔ اپنے تاریخی فیصلے میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انہیں گاڈفادر کے ساتھ تشبہیہ بلاوجہ نہیں دی۔۔۔ میاں نوازشریف درحقیقت اپنے پیدا کردہ سیاسی قبیلے یا اپنی قائم کردہ مافیا کے سردار یا گاڈفادر ہیں۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے نامزد کردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بار بار یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ” اصل وزیراعظم اب بھی وہی ہیں ۔۔۔۔ میں تو ان کا ایک حقیر کارندہ ہوں۔۔۔“
اپنے تازہ ترین بیان میں عباسی صاحب نے فرمایا ہے کہ ” ہم نے تو میاں صاحب کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مان لیا مگر عوام نے نہیںمانا۔۔۔“
عوام سے شاہد خاقان عباسی کی مراد وہ قبیلہ ہے جس کے من چلے کبھی ہوائی فائرنگ کرکے خوف وہراس پیدا کرتے ہیں اور کبھی عدالتوں پر حملہ آور ہو کر ۔۔۔

Scroll To Top