پاک امریکہ بداعتمادی کا رشتہ قائم ہے

zaheer-babar-logoپاک فوج کی جانب کینڈین شہری اور اس کی امریکی بیوی کو تین بچوں سمیت بازیاب کروانے کے بعد یہ تاثر پھیلا کہ شائد پاکستان اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی کی فضا اب اعتمادی سازی میں بدل رہی ہے مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔ امریکہ کی جانب سے کرم ایجسنی میں کیا جانے وال تازہ ڈرون حملے تباہ کن رہا۔ اطلاعات کے مطابق کم وبیش دو درجن افراد اس حملے میںمارے گے جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون طیاروں نے کرم ایجنسی میں ایک ایسے مقام کو نشانہ بنایا، جہاں حقانی نیٹ ورک کے ارکان کی میٹنگ جاری تھی۔ بتایا گیا ہے کہ بغیر پائلٹ کے چار جاسوس طیاروں نے چھ میزائل فائر کیے جن کی وجہ سے چھبیس مشتبہ جنگجو مارے گئے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا ہر ڈورن حملے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو متاثر کرنے کا باعث بن رہا ہے۔بظاہر امریکہ بہادر پاکستان بارے چھڑی اور گاجر کی پالیسی پر کاربند ہے ۔ غیر ملکی جوڈے کی بحفاظت واپسی پر پاکستان کی تعریفوںکے پل باندھے گے تو دوسری جانب تباہ کن ڈرون حملے کے زریعہ ایک بار پھر پاکستان پر بداعتمادی کا اظہار کردیا گیا۔
دراصل ایسا نہیںکہ ہماری سیاسی وعسکری قیادت کسی طور پر امریکہ سے بہتر تعلقات کی خواہشمند نہیں اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ خود اس کی مشکلات کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ سمیت عالمی علاقائی اور عالمی قوتوں سے دوطرف تعاون کو فروغ ملے۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کو اس بیان کے بعد تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پاکستان امریکا کو مشترکہ آپریشن کی دعوت دے سکتا ہے۔ خواجہ آصف کے اس بیان کے بعد میڈیا سمیت مختلف سیاسی وسماجی حلقوں کی جانب سے ان پر تنقید کی گی۔ یہ دلیل بھی دی گی کہ امریکی افواج کا پاکستانی سرزمین پر کاروائی کرنا دراصل ملکی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف ہے یعنی اس کا بھی امکان ہے کہ پاکستان کے اہم راز بھارت کے ہاتھ لگ جائیں۔ اب یہ سوال بھی پوچھا جارہا کہ کیا تازہ ڈرون حملے کے نتیجے میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے۔ حالیہ کاروائی کو رواں برس کے دوران پاکستان میں ہونے والا یہ خونریز ترین ڈورن حملہ قرار دیا جارہا ہے۔ افغانستان سے محلق پاکستانی قبائلی علاقہ جات میں ماضی میں بھی ایسے ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں جن میں جنگجووںگروہوں کے علاوہ معصوم اور نہتے شہری بھی جان بحق ہوتے رہے ہیں۔ کرم ایجنسی کے بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ پہلے ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کے پانچ جنگجو مارے گئے جبکہ دوسرا حملہ اس وقت ہوا، جب جنگجو تباہ حال عمارت سے لاشیں نکالنے کے لیے جمع ہوئے۔
امریکہ کا یہ مطالبہ اب کسی کے لیے نیا نہیں رہا کہ پاکستان اپنے علاقوںمیں موجود حقانی نیٹ ورک کا بھرپور انداز میں خاتمہ کرے۔پاکستان دراصل اس الزام کو سختی سے مسترد کرتا چلا آرہا ۔ ملکی زمہ داروں کی یہ دلیل کم اہمیت کی حامل نہیں کہ امریکہ کو قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کی بجائے افغانستان کے کم وبیش 60 فیصد حصہ پر توجہ مبذول کرنا ہوگی جو بدستور کابل حکومت کی دسترس سے باہر ہے۔
یہاں یہ سوال اہم ہے کہ امریکہ حقانی نیٹ ورک کو اس قدر اہمیت کیوں دیتا ہے۔ تاریخی طورپر
عشروں پہلے سوویت یونین کے دستوں کے خلاف لڑنے والے کمانڈر جلال الدین حقانی نے اس گروہ کی بنیاد رکھی تھی۔ افغان جنگ کے دوران اسی کی دہائی میں اس گروہ کو امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ 1995 میں اس نیٹ ورک نے طالبان کے ساتھ اتحاد کر لیا تو 1996 میں طالبان حقانی نیٹ ورک کی مدد سے ہی کابل پر قبضہ کرنے کے قابل ہوئے مگر 2012 میں امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد گروہ قرار دے دیا ۔
یہ امر اہم ہے کہ ان دنوں امریکی حکام نے پاکستان پر دبا بڑھایا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف زیادہ موثر کارروائی کرے۔ بظاہر حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں ایک خطرناک ترین جنگجو گروہ قرار دیا جاتا ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان میں مقامی اور غیر ملکی افواج پر کئی بڑے حملوں میں ملوث ہے
واشنگٹن سرعام یہ الزام عائد کرتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے پاکستان کے بعض زمہ داروں سے روابط ہیں تاہم پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ بظاہر انہی الزامات کے باعث پاکستان اور امریکا کے مابین حالیہ دنوں میں تناو دیکھا جا رہا ہے۔
ایک نقطہ نظریہ ہے کہ پاکستان ، امریکہ اور افغانستان کے درمیان اعتماد کا فقدان ہی ہے جو سالوں سے انتہاپسندی کے عفریت کو قابو پانے میں کامیابی حاصل نہیں کرنے دے رہا۔ اچھے اوربرے طالبان کا کھیل نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک جاری وساری ہے۔ پاکستان اپنے علاقوں سے جنگجووں گروہوں کے خاتمہ کے لیے کئی آپریشنر کرچکا، ضرب عضب اور اب ردالفساد تازہ ترین مثالیں ہیں۔ بظاہر امریکہ بہادر اس بات پر یقین نہیں کرتا کہ پاکستان پورے اخلاص کے ساتھ انتہاپسند گروہوں کے خلاف کاروائی میں مصروف ہے۔ دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست اس کا ادراک کرنے کو بھی تیار نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس قدر مالی وجانی قربانیان پاکستان نے دیں وہ کسی بھی دوسرے ملک کے حصہ میں نہیں آئیں۔

Scroll To Top