مسقط مذکرات خدشات سے دوچار

zaheer-babar-logo

افغانستان میںقیام امن کے لیے ایک بار پھر مسقط میں مذکراتی عمل جاری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کئی کاوشیں ہوئیں مگر وہ کسی طور پرکامیابی سے ہمکنار نہ ہوئیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں امن کی جب جب بات ہوگی تو اس کے لیے دونکات پر پوری توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ افغانستان سے جلد ازجلد غیر ملکی افواج کا انخلا ہو تو دوسرا طالبان کو کسی نہ کسی طرح شریک اقتدار کرنا۔ دراصل ماضی کے ان ہی تجربات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک بار پھر اس خدشہ کا اظہار کیا جارہا کہ مسقط میں ہونے والا مذاکرتی عمل بھی کسی طور پر شرمندہ تعبیر نہیںہونے والا لہذا بات چیت کے نئے دور کی کامیابی پر بھی سوالیہ نشانات اٹھ چکے۔ دراصل مبصرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ طالبان کو اس امن عمل میں شامل کیے بغیر کوئی مثبت پیشرفت ممکن نہیں ہو سکتی۔
عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع والا امن مذاکرات کا یہ نیا دور اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ قبل ازیں بھی مذاکراتی عمل کے پانچ دور منعقد کیے جا چکے مگر ابھی تک افغانستان میں قیام امن کی خاطر کوئی قابلِ قبول حل نہیں نکل سکا ۔ دراصل افغانستان کے حوالے سے مذاکرات کا یہ چھٹا دور ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی نمایاں ہے اور دوسری طرف کابل نے ایک اہم طالبان کمانڈر پکڑنے کا بھی دعوی کررکھا ہے۔ اسی پس منظر میں روس پر مغربی میڈیا نے یہ الزام لگایا ہے کہ وہ طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ اس میںکسی کو شک نہیں ہونا چاہے کہ طالبان افغان مسئلے کے ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہیں۔ علاقائی اور عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ آج بھی افغانستان کے ساٹھ فیصد افغانستان پر طالبان کی عملداری ہے، سوال یہ ہے کہ پھر ایسی قوت کو مذاکرات سے باہر رکھ کر کس طرح افغانستان کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ مسقط میں افغان مسلہ پر چار اکھٹے ہونے والے ممالک کے آپس میں بھی اختلافات ہیں۔ لہذا کہا جارہا ہے کہ مذکورہ ممالک پہلے خود اپنے اندار کوئی اتفاقِ رائے پیدا کریں گے اور پھر کوئی متفقہ فارمولہ بنایا جائے گا۔ افغانستان کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں کہ اعتماد کی فضا پیدا کرنا چند دنوں کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ مگر امید یہ ہے کہ اگر فریقین کے درمیان بات چیت ہوتی رہی تو امکان ہے کہ آگے جا کر کسی مرحلے پر ان چاروں ممالک میں اعتماد کی فضا بحال ہوسکتی ہے جو بالاآخر تنازعہ کو حل کرنے میںمددگار ثابت ہو۔
یقینا وہ قوتیں جو افغان طالبان کو باہر رکھ کر جنگ سے تباہ حال میں ملک میں امن لانے کے خواب دیکھ رہی ہیں انھیں اپنی رائے سے فورا رجو ع کرنا ہوگا ، سمجھ لینا چاہے کہ طالبان کی شمولیت کے بغیر نہ تو افغانستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس جنگ زدہ ملک میں امن بحال ہو گا۔افغان طالبان کے خلاف ایک رائے یہ ہے کہ دراصل وہ نان اسٹیٹ ایکٹر ہیں اور یہ اجلاس ریاستوں کے نمائندوں کے درمیان ہے، اس لیے انہیں دعوت نہیں دی گئی مگر دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خطے کے بشیتر ممالک طالبان سے کسی نہ کسی سطح پر رابطے میں ہیں اور انہوں نے اس اجلاس کے حوالے سے بھی ان سے بات چیت کی ۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایسا نہیںہوسکتا کہ طالبان کی غیر موجودگی کے باوجود ان کا موقف اس اہم اجلاس میں پیش نہ کیا جائے یعنی ایسا بعیدازقیاس نہیں کہ کوئی نہ کوئی ملک افغان طالبان کی نمائندگی کا حق ادا کردے۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ پاکستان بعض افغان طالبان سے قریب رہا ہے اور شائد اب بھی کسی نہ کسی شکل میں یہ روابط موجود ہیں جبکہ دوسری جانب پاک چین تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لہذا چین اور پاکستان طالبان نقطہ نظر کو کسی نہ کسی انداز میں اس فورم پر رکھ سکتے ہیں۔ امریکہ اور کابل کو بھی سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ تنازعہ کے حل کے لیے جانتے ہیں کسی نہ کسی حدتک لچک دکھانی پڑ گی۔
دراصل امریکہ کو اپنے طرزعمل سے ثابت کرنا ہے کہ وہ افغانستان میں امن وامان کی بحالی چاہتا ہے یعنی دنیا کی اکلوتی سرپاور ہونے کی دعویدار ریاست کے ایسے عزائم نہیںکہ وہ خطے کو آگ وخون کے دریا میں رکھنا چاہتا ہے۔ بظاہر ان مذاکرت کے زریعہ خطے کے دیگر ممالک کو امریکی عزائم جاننے کا موقعہ ملے گا یعنی صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی پر کس حد تک عمل درآمد ہوسکتا ہے شائد یہ جاننے کے لیے مذکورہ پلیٹ فارم بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ بات چیت عمل کا جاری رہنا کسی طور پر کم اہمیت کا حامل نہیں لہذا اس خطے میں استحکام کی خواہش مند قوتوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہنا چاہے۔
ادھر مسقط مذاکرت بار ے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہ ہمیں ان مذاکرات کی دعوت دی گئی اور نہ ہم سے کوئی مشورہ کیا گیا۔ لہذا ہمارا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“
اگرچہ مذکورہ بیان کے زریعہ طالبان نے اپنا موقف بیان کردیا مگر قیام امن کے لیے جاری کوشش اس کو بیناد بنا کر کسی طور پر رکنی نہیں چاہیں۔

Scroll To Top