ایک تہائی صدی تک آمرانہ اقتدارپر قابض رہنے والے چار جنرلوں کے خاندان نوازشریف اور آصف زرداری کے خاندانوں کی امارت کے قریب بھی کیوں نہیں پھٹک سکتے؟

aaj-ki-bat-logo

نون لیگ کیمپ شریف فیملی پر عائد کرپشن کے الزامات سے قوم کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک نئے بیانیے کو فروغ دے رہا ہے۔۔۔ اور وہ بیانیہ یہ ہے کہ احتساب کی بندوقوں کا رخ صرف سیاستدانوں کی طرف کیوں؟ کیا جج اور جنرل کرپشن کے ارتکاب سے مستثنیٰ ہیں ؟ اس بیانیے کی بنیاد پر نئی قانون سازی بھی زیر غور ہے۔۔۔ اور کرپشن ایک ایسا شعبہ ہے جس کے بارے میں تمام ایسے سیاستدان یکساں نوعیت کے اندیشوں کا شکار ہیں جن کے ہاتھوں میں حکومتی اختیار رہا ہے۔۔۔
اس ضمن میں مجھے عبدالمالک کے ایک پروگرام میں عارف نظامی کے افکار سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔۔۔ موصوف نے اُسی بیانیے کے حق میں دلائل دیئے جو آج کل میاں نوازشریف کا کیمپ بڑے منظم انداز میں پھیلا رہا ہے۔۔۔ عارف نظامی نے فرمایا کہ ملک کو ایک عرصے سے ایک ہی نوعیت کے المیے کا سامنا ہے۔۔۔ فوج آکر شبخون مارتی ہے اور اقتدار پر قابض ہو کر سیاستدانوں کو کرپٹ کرتی ہے` پھر انہیں اپنے ساتھ ملا کر دیر تک اقتدار پر قابض رہتی ہے۔۔۔ لیکن آٹھ دس برس بعد جب ملک کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے تو فوجی آمروں کو احساس ہوتا ہے کہ حکومت چلانا اُن کے بس کی بات نہیں۔۔۔
عارف نظامی نے مزید یہ بھی فرمایا کہ مان لیا جائے کہ سیاستدان کرپشن کرتے ہیں اُن کا احتساب ہونا چاہئے۔۔۔ مگر کیا جنرل کرپٹ نہیں ہوتے ؟ اُن کا احتساب کیوں نہیں ہوتا۔۔۔؟
عارف نظامی صاحب نے جنرلوں کی مبینہ کرپشن کا معاملہ اِس وقت کیوں اٹھایا ہے ۔۔۔؟ اس وقت تو ایک ایسے خاندان کی کرپشن کا معاملہ عدالتوں میں ہے جو تقریباً ایک تہائی صدی سے اقتدار کے ایوانوں میں گھوم پھررہا ہے۔۔۔
شریف فیملی کی کرپشن مبینہ طور پر اتنے بڑے پیمانے پر قومی معیشت پر اثر انداز ہوئی ہے کہ اس کی مثال ہماری پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔۔۔ اور یہ ساری کرپشن جمہوری نظام کو سربلند رکھنے کے عزم کی آڑ میں ہوئی ہے۔۔۔
یقینا ہمارے جنرل بھی کرپشن کی کشش پوری شدت سے محسوس کرتے ہوں گے لیکن چونکہ وہ ایک ایسے نظام کی ” سختیوں“ سے گزر کر اور مختلف نوعیت کے امتحانات پر پورے اترنے کے بعد دو تین یا چار ستاروں والی یونیفارم پہنتے ہیں اس لئے اُن کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ وہ ساری دنیا میں املاک خرید سکتے ہیں `کھل کر صنعتیں قائم کر سکتے ہیں اور اپنے اثاثوں میں بے حساب اضافہ کرسکتے ہیں۔۔۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ پانامہ لیکس میں جو نام سامنے آئے اُن میں نہ تو فیلڈ مارشل ایوب خان کے خاندان کا نام آیا۔۔۔ نہ ہی جنرل یحییٰ خان کے خاندان کا نہ جنرل ضیا ءالحق کے خاندان کا اور نہ جنرل پرویز مشرف کے خاندان کا ۔۔۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان فوجی آمروں کے دل میں دولت کے انبار جمع کرنے کی خواہش نہیں ابھری ہوگی۔۔۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انہیں بہرحال اس وردی کی حرمت کا احساس ہوگا جسے پہن کر وہ بڑے بڑے فیصلے کرتے تھے۔۔۔
میں یہاں جنرلوں کی وکالت نہیں کررہا ۔۔۔ میری زندگی کا بھی بڑا حصہ ” فوجی آمروں“ کے خلاف نعرے بلند کرنے میں گزرا ہے لیکن عارف نظامی کو اپنی اس دلیل پر خود ہی شرمندہ ہوناچاہئے کہ جنرلوں کو حکومت کرنی نہیں آتی اور آصف علی زرداری ` میاں نوازشریف ` یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جیسے سیاستدان امور حکمرانی پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر ایوان ہائے اقتدار میں داخل ہوتے ہیں۔۔۔
ہماری سیاست میں جتنے بھی سورماﺅں نے قدم رکھا ہے اُن میں ایسے نام آٹے میں نمک کے برابر ہیں جو ملک تو کیا ایک شہر کی حکومت سنبھانے کی بھی اہلیت رکھتے ہوں۔۔۔
وہ سیاست میں آتے ہی مال و دولت کمانے کے لئے ہیں او ر جو جمہوری نظام پاکستان کو میسر ہے وہ اُن کا کام آسان کردیتا ہے۔۔۔ انہیں کسی قابلیت یا لیاقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ صرف اپنے حلقے میں انتخاب جیتنا کافی ہے۔۔۔
عارف نظامی صاحب۔۔۔ کیا امور مملکت چلانے کے لئے کسی بھی لیاقت ` کسی بھی اہلیت اور کسی بھی تربیت کی ضرورت نہیں ؟
صرف دولت کے انبار لگانے کی ہوس چاہئے۔۔۔؟

Scroll To Top