فوج یہ کہہ رہی ہے کہ ججوں کے گریبانوں تک گُلوبٹوں کے ہاتھ پہنچانے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی

aaj-ki-bat-logoپاکستان کو ایک معاملہ فہم قابل اور فعال وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو خود کو وزیر اعظم سمجھے اور اپنے آپ کو پہلے اللہ تعالیٰ پھر قوم اور پھر اپنی پارٹی کے سامنے جوابدہ محسوس کرے۔ پاکستان کو ایک کابینہ کی بھی ضرورت ہے جس کے اراکین اپنے اپنے شعبوں میں امورِمملکت دیانت داری اور یکسوئی کے ساتھ انجام دیں۔
جب جنرل آصف غفور نے اپنی پریس بریفنگ میں یہ کہا کہ ”جمہوریت کو خطرہ فوج سے نہیں جمہوریت کے تقاضے پورے نہ کرنے کی روش سے ہے“ تو ان کے سامنے مندرجہ بالا حقیقت ہی ہوگی۔
پاکستان کی جمہوریت اِس وقت ایک فعال وزیر اعظم سے بھی اور ایک ذمہ دارکابینہ سے بھی محروم ہے۔
جب سے میاں نواز شریف سپریم کورٹ سے غیر صادق غیر امین اور نا اہل قرار پا کر وزارت ِعظمیٰ سے الگ ہوئے ہیں وطنِ عزیز عملی طور پر ایک فعال اور ذمہ دار حکومت سے محروم ہے۔نئے وزیراعظم خود کو وزیر اعظم نہیں سمجھ رہے۔ وزارت ِخارجہ ایک ایسے شخص کو سونپی گئی ہے جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ سرزمینِ پاکستان پر کسی غیر ملک کے ساتھ مل کر مشترکہ آپریشن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں غیر ملکی فوجیوں کو اپنی زمین پر قدم رکھنے اور جمانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ وزارت ِخزانہ جس شخص کے پاس ہے وہ اس لئے عملی طور پر غیر فعال اور غیر موثر بنا ہوا ہے کہ اسے قومی خزانے میں ہیرا پھیری کر کے اپنے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ کرنے کے الزامات کے تحت فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔ وزیرداخلہ ایک ایسا شخص ہے جس کا قانون جرم و سزا اور لااینڈآرڈر وغیرہ کے معاملات سے اسی قدر تعلق رہا ہے جس قدر تعلق ایک موچی یا نائی کا انجینئرنگ وغیرہ سے ہوگا۔ وزارتِ دفاع ایک ایسے شخص کو سونپی گئی ہے جس سے اگر پوچھا جائے کہ ڈنکرک اور العالمین کی جنگیں کیوں اور کہاں کوئی تھیں تو وہ ایک دُونی دو اور دو دُونی چار کا پہاڑ پڑھنے لگے گا۔
پاکستان کی جمہوریت کا المیہ صرف یہاںختم نہیں ہوتا اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اس ملک کی حکمران جماعت نے اپنے لیڈرمیاں نواز شریف کو پانامہ کی دلدل سے نکالنے کو ایک قومی نصب العین بنا رکھا ہے اور جو بھی کابینہ امورِ مملکت چلانے کی ذمہ دار تھی یا ہے اس کے تمام ارکان اپنی توجہ اور اپنا وقت اپنے لیڈر کی دلجوئی اشک شوئی اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے پر صرف کر رہی ہے۔۔
اگر یہ کہا جائے کہ یہ پاکستان کی نہیں بلکہ نون لیگ اور نوازشریف کی کابینہ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔
پانامہ کا معاملہ ایک فرد اور اس کے خاندان کی کرپشن کا معاملہ تھا۔ الزامات غلط تھے یا درست اس بات کا فیصلہ اِس شخص کی پیش کردہ صفائی کی روشنی میں ہونا تھا۔ ہوا بھی یہی لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ اس ایک فرد کی صفائی میں پوری حکومتی مشینری کو حرکت میں لے آیا گیا اور اس ضمن میں ہونے والے سارے اخراجات کا بوجھ ٹیکس اداکرنے والے عوام کو برداشت کرنا پڑا ۔۔
13اکتوبر کو مریم نواز اور کیپٹن صفرر پر فردِ جرم عائد نہ ہوسکے اس کا مکمل بندوبست کیا گیا مقدمہ ریاست اور شریف فیملی کے درمیان تھا اور ریاست کی رِٹ قائم رکھنے کے ذمہ دار اصحاب نے ملزمان کو قانون سے بچانے کے لئے ایک شرمناک سازش پر بڑے شرمناک انداز میں عمل کیا۔
عدلیہ اور عدالتی نظام پر نون لیگ کا یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔ پہلے حملے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنی جان بچانے کے لئے بھاگنا پڑا تھا اوراِس دوسرے حملے میں احتساب عدالت کا جج اپنی سلامتی کو ترجیح دینے پر مجبور کر دیا گیا۔
جی ایچ کیو واحد جگہ رہ گئی ہے جو ابھی تک نون لیگ کے گُلوبٹوں کے غیظ وغضب کا سامنا کرنے سے بچی ہوئی ہے۔
جی ایچ کیوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کے محافظوں کے ہاتھوں میں بندوق ہے ۔ عدلیہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے محافظ بڑے سے بڑا فیصلہ کرتے وقت بھی غیر مسلح ہوتے ہیں۔
1997ءمیں چیف جسٹس نے جی ایچ کیو سے مدد مانگی تھی لیکن تب کے آرمی چیف نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔
آج کے آرمی چیف نے قوم کو بار بار یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ضرور پوری کریں گے۔
اِن ہی یقین دہانیوں نے مسلم لیگ (ن) کی پوری قیادت کو پریشانی اور اشتعال میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نون لیگی قیادت کی خواہش ہے کہ فوج بھول جائے کہ اس معاملے میں اس کا کوئی آئینی کردار ہے۔ نون لیگی قیادت چاہتی ہے کہ جب اس کے ”چھوڑے گُلوبٹوں“ کے ہاتھ ججوں کے گریبانوں تک پہنچیں تو تالیاں بجانے والے ہاتھوں میں آرمی چیف کے ہاتھ بھی شامل ہوں۔۔
فوج شائستگی اور ذمہ داری کی زبان میں حکومت سے یہی کہہ رہی ہے کہ جمہوریت کو بچانا ہے تو جمہوریت کے تقاضوں کو لبیک کہنا سیکھو۔۔میاں نواز شریف قانون سے بھاگ کر نہیں قانون کا سامنا کر کے اپنی بے گناہی ثابت کر سکتے ہیں۔۔

Scroll To Top