اگر سوچ ہی غلامانہ ہو تو خود مختاری کہاں سے آئے گی ؟

15-10-2017
ایک ٹا ک شو میں مجھے اپنے ملک کے چند دانشوروں کے منہ سے ایسی باتیں سننے کا اتفاق ہوا ہے جو میرے لئے شدید ذہنی اذیت کا باعث بنی ہیں۔
اس ٹی وی پروگرام میں گفتگو کا موضوع یہی نیٹو کی سپلائی لائن کھولنے کا معاملہ تھا۔ اگرچہ اس پروگرام کے تینوں شرکاءکے نقطہ ہائے نظر مختلف تھے مگر تینوں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق تھاکہ ہم اپنی ناک اپنا بازو گھما کر پکڑیں یا سیدھی طرح پکڑلیں ایک ہی بات ہے۔ مطلب یہ کہ ہمارے سامنے امریکی مطالبات اور خواہشات کو لبیک کہنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ہم ڈرون حملوں کے خاتمے کا مطالبہ تو پورے جوش و خروش کے ساتھ کرسکتے ہیں ،اور اس ضمن میں اپنی Sovereigntyیعنی خود مختاری کا حوالہ بھی پوری توانائیوں کے ساتھ دے سکتے ہیں، مگر ڈرون حملوں کو رکوانے کا ہمارے پاس کوئی قابل عمل راستہ نہیں۔ اگر ہم بین الاقوامی قوانین کا سہارا لینے کی کوشش کریں گے تو ڈرون حملوں کے رک جانے کی صورت میں کوئی ایسی کارروائی ہماری سرزمین سے منسوب ہوجاتی ہے جس کا نشانہ کوئی دوسرا ملک ہو تو ہمیں غیر ملکی مداخلت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں امریکہ یکطرفہ طور پر ویسی ہی کارروائی کرسکتا ہے جیسی اس نے 2مئی2011ءکو ایبٹ آباد میں کی تھی۔
شرکائے گفتگو میں عالمی قانون کے مشہور ماہر احمد بلال اور،دفاعی تجزیہ کار ایئروائس مارشل (ر)شہزاد چوہدری بھی تھے۔
اتفاق رائے اس بات پر پایا گیا کہ” خود مختاری“ دراصل کوئی حتمی قدر نہیں ، یہ ایسے بین الاقوامی قوانین او ر ضوابط کی پابند ہے جن پر ہمارااختیار محدود ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اسی قسم کی خودمختاری کو ” آزادی ءموہوم“ کا نام دیا تھا۔
مگر میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ کسی بھی ملک کی آزادی یا خود مختاری کی سرحدوں کا انحصار اس کے حکمرانوں کے اندازِ فکر اور سوچ پر ہوتا ہے۔
غلامانہ سوچ رکھنے والے حکمرانوں کا ملک بھی غلام ہوتا ہے۔ اور ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہماری خود مختاری کا انحصار غیروں کی مرضی پر ہے ، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری خود مختاری کی سرحدوں کا تعین ہمارے وہ حکمران اور دانشور کرتے ہیں جن کی سوچ غلامانہ ہوتی ہے، اور جو ستاروں پر کمند یں ڈالنے والی امنگ کو ” دیوانگی “ قرار دیتے ہیں۔
اگر ایک ایٹمی طاقت ہو کر بھی پاکستان اپنی خود مختاری نہیں منوا سکتا تو اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے ۔ پاکستان پر جو سوچ حکمران ہے، وہ غلامانہ ہے۔
ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیںکہ ہم قیصر و کسریٰ کے درباروں میں ایک للکار بھرا پیغام بھیجنے والی روایت کے امین ہیں ؟
(یہ کالم اس سے پہلے 14-04-2012 کو شائع ہوا تھا)

Scroll To Top