اکیسویں صدی کا نیا معبود ۔۔۔ پارلیمان پارلیمان کا ابولہب۔۔۔ رضا ربانی

aaj-ki-baat-new-21-april


گزشتہ روز مجھے ٹی وی پر جناب رضا ربانی کو اپنے مخصوص انداز میں اپنا پسندیدہ فتویٰ جاری کرتے دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہوا۔۔۔

فتویٰ آسان الفاظ میں یہ تھا کہ افراد اور قوموں کی موت اور زندگی کا سارا اختیار پارلیمان کے پاس ہے۔۔۔ پارلیمان جو فیصلہ کرلے قوم کو آنکھیں بند کرکے قبول کرلینا چاہئے کیوں کہ پارلیمان ہی بالا دست پارلیمان ہی سپریم اور پارلیمان ہی مقدس ہے۔۔۔
میں یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ جناب رضا ربانی کو پارلیمان کے اس تازہ ترین فیصلے کا علم نہیں ہوگا جس کی رُو سے پارلیمان کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرنے والی سیاسی جماعتوں کی صدارت کا حق سپریم کورٹ سے غیر صادق غیر امین اور نا اہل قرار پانے والے افراد کو بھی دے دیا گیا ہے۔۔۔ یہاں میں اس بات پر مسرت کا اظہار کروں گا کہ پارلیمان کو ابھی اسلام اور غیر اسلام میں فرق مٹانے والی قانون سازی کرنے کا خیال نہیں آیا۔۔۔ویسے ختم نبوت کے حوالے سے آئین میں موجود حلف نامے کو چھیڑ کر پارلیمان نے اِس سمت میں بھی ایک بڑا قدم اٹھالیا تھا جس پر ہونے والے شدید ردعمل نے اسے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ” حُبِ جمہوریت“ رضاربانی کی سرشت میں کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے۔۔۔
اگر میں موصوف کو جمہوریت کا ابولہب یا عمرو بن ہشام کہوں تو نا درست نہیں ہوگا۔۔۔
یہ خیال دراصل مجھے اسی وقت آگیا تھا جب میں رضا ربانی صاحب کا فتویٰ سن رہا تھا۔۔۔ میرا ذہن ساتویں صدی کے اوائل والے مکہ کی طرف جائے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔ چشمِ تصور سے میں نے ایک ” مردِ دانا“ کو خطاب کرتے دیکھا۔۔۔اور گوشِ تصور سے میں نے یہ خطاب سنا۔۔۔
” یہ شخص ہمیں گمراہ کرنے آیا ہے۔۔۔ یہ کہتا ہے کہ ہمارے سارے معبود جھوٹے ہیں اور اس کا ایک اللہ سچا ہے۔۔۔ ہم اس کی باتوں میں آکر اپنے آباواجداد کے معبودوں رسومات اور طور طریقوں کو ترک نہیں کریں گے ۔۔۔ حق وہی ہے جس کا فیصلہ آپ کے سردار کریں گے ۔۔۔ وہ سردار جنہیں آپ کو راہِ راست پر رکھنے کا اختیار ہمارے معبودوں نے دیا ہے۔۔۔“
پہلے مجھے یہ گماں ہوا کہ یہ ناصح ابولہب ہے۔۔ ۔ پھر خیال آیا کہ شدید عمرو بن ہشام ہو جسے ہم ابوجہل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔۔۔
یہ فیصلہ خود رضا ربانی کریں کہ انہیں ابو لہب کہلانا پسند ہے یا ابو جہل۔۔۔

Scroll To Top