داعش کے لیے علامتی اہم علاقے دابق میں شامی باغیوں کی پیشقدمی

دابق

ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغی شام کے شہر دابق میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف پیشقدمی کر رہے ہیں۔

دابق ایک چھوٹا قصبہ ہے جس کے بارے میں دولت اسلامیہ میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اس قصبے میں ایک اہم جنگ لڑی جائے گی اور دولت اسلامیہ کے پروپیگنڈہ میں دابق کا بہت ذکر کیا گیا ہے۔ اسی لیے دولت اسلامیہ کے لیے یہ قصبہ علامتی اہمیت رکھتا ہے۔

دابق میں یہ پیشقدمی ایسے وقت ہو رہی ہے جب سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں امریکی اور روسی وزرائے خارجہ کی ملاقات ہو رہی ہے جس میں شام میں جنگ بندی کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک عام ملاقات ہے اور اس کے بعد کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا جائے گا۔

تھوڑے عرصے کے لیے جنگ بندی کے ختم ہونے کے بعد شامی فوجوں اور روس نے باغیوں کے قبضے میں شہر حلب پر بمباری میں مزید اضافہ کیا ہے۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان نے تصدیق کی کہ جنگجو دابق میں پیشقدمی کر رہے ہیں۔ دابق ترکی کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

شامی باغی کی مدد کے لیے ترکی کی فضائیہ بمباری کر رہی ہے اور گذشتہ چار روز میں باغیوں نے دابق کے ارد گرد کے دیہاتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور دابق کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

دولت اسلامیہ کے لیے دابق اس لیے اہم ہے کہ اس کا ذکر اسلام میں اس جگہ کے طور پر کیا گیا ہے جہاں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں میں آخری جنگ ہو گی۔

دولت اسلامیہ نے اپنے رسالے کا نام بھی دابق رکھا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاورو شام میں جنا بندی کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ میں ترکی، سعودی عرب، ایران اور قطر کے نمائندوں سے ملے۔

Scroll To Top