سابق وزیر اعظم کی عدلیہ پر پھر تنقید

zaheer-babar-logo
سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس میں ایک بار پھر اپنے روایتی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے نااہلی کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ اسلام آباد میں اپنی جماعت کے اہم رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا دعوی تھا کہ جب انصاف کا عمل انتقام کا عمل بن جائے تو سزا خود عدالتوں کو ملتی ہے۔“
قومی تاریخ میں شائد ہی ایسا ہوا ہو جب ملک کی اعلی ترین عدالتوں پر مسلسل تنقید کی پالیسی جاری وساری رہی ۔ ملکی عدالتوں سے پی پی پی سمیت کئی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے خلاف فیصلے آئے مگر شائد ہی ایسی صورت حال کی نوبت آئی ہو۔ تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہنے والے میاں نوازشریف جس طرح ملک کی اعلی ترین عدالت رائے زنی کررہے اس سے یقینا مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
تازہ پیش رفت میں احتساب عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ میاں نواز شریف پر 2 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔ سابق وزیر اعظم منگل کو جب عدالت میں پیش ہوئے تو ان کے سیکورٹی کے عملے کے علاوہ مسلم لیگ کے قائدین اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اسی لیے ان کی عدالت آمد کے ساتھ ہی فاضل جج کو یہ کہنا پڑا کہ آپ کی حاضری لگ گئی، اب آپ جاسکتے ہیں“
وطن عزیز میں حصول انصاف کے لیے عام آدمی کو جن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے سیاسی اشرافیہ اس کا تصور تک نہیں کرسکتی۔صورت حال کی سنگینی کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے عام لوگ اپنے پیاروں کو یہ دعا دیتے ہیں کہ خدا تمیں کچہری اور تھانے سے محفوظ رکھے۔ مگر سابق وزیر اعظم تاحال اس حقیقت کا ادراک کرنے میں تاحال ناکام نظر آتے ہیں کہ اہل پاکستان کی اکثریت کو ان کے خلاف آنے والے فیصلے سے کوئی سروکار نہیں۔ بظاہر میاں نوازشریف کوشاں ہیں کہ انھیں ہمدردی کا ووٹ ملے مگر تاحال ان کی ایسی کوئی بھی کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر نہیں آتی۔ حد تو یہ ہوئی کہ این اے120میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں ماضی کے برعکس انھیں کم ووٹ ملے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سیاسی استحکام کا خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں قومی اداروں کا احترام خود پر واجب کرلیں۔ ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل میں ریاستی اداروں کی ساکھ پر سوالات اٹھانا کسی طور پر صحت مندانہ رجحان نہیں۔ عام پاکستانی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر ایسے رہنما ہی کیوں ملے جو مبینہ طور پر اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے قومی اداروں کی ساکھ مجروع کررہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی جانب سے یہ سلسلہ کب تک جاری وساری رہیگا۔ ایک خیال یہ ہے کہ جوں جوں میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے گرد گھیرا تنگ ہوگا ویسے ویسے وہ عدالت عظمی بارے زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرینگے ۔ مسلم لیگ ن کو جان لینا چاہے کہ چند ہفتے قبل لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم اور ان کے رفقاءبارے یہ درخواست بھی دائر کی چکی کہ عدالت میاں نوازشریف کو عدالتوںکے خلاف نازیبا زبان استمال کرنے سے روکے۔“
بعض قانونی وسیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف جوں جوں اعلی عدالتوں کے خلاف اپنا لب ولہجہ سخت کریں گے ان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب قانونی کاروائی کا مطالبہ شدت اخیتار کرسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر مسلم لیگ ن میں ایسی فہم وفراست رکھنے والے افراد کیونکر نمایاں نہیں ہورہے جوباوقار انداز میں اس عدالتی کاروائی کا سامنا کرنے کا مشورہ اپنی قیادت کو دیں ۔ملکی سیاست میں آئندہ چھ ماہ یقینا اہم ہیں ۔شریف فیملی کے خلاف جوں جوں عدالتی کاروائی آگے بڑھے گی ایک طرف شریف خاندان تو دوسری جانب مسلم لیگ ن کے کارکن عدالت بارے ایسے الفاظ ایسے اسمتال کرسکتے ہیں جن پر پکڑ لازم ہوجائے۔ پاکستان کو بنے70 ہوگے مگر افسوس ہے کہ تاحال ہم یہ فیصلے نہیں کرسکے کہ قانون عام وخاص دونون کے لیے یکساں ہو۔ قانون شکنی کا کینسر ہمہ وقت اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا۔ مملکت خداداد پاکستان میں جمہوری دور ہو یا غیر جمہوری ہمہ وقت یہ احساس موجود رہتا ہے کہ درحقیقت آئین اور قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔ اہل سیاست کو تسلیم کرنا چاہے کہ وہ کسی طور پر ملک میں بہتری لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ آج یقینا ناکامیوں کا بوجھ ایک دوسرے پرڈالنے کی بجائے خود احتسابی کا عمل آگے بڑھانا ہوگا۔
مسلم لیگ ن کے مخالفین کے بعقول میاں نوازشریف 35سالوں سے ملکی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ پنجاب ان کی سیاسی طاقت کا مرکز رہا ہے مگر آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے کسی ایک شہر میں بھی عوام کی اکثریت کو پینے کے لیے صاف پانی دستیاب نہیں ۔ یاد رکھنا چاہے کہ پاکستان چکا ہے ۔ شہریوں کی قابل زکر تعداد حکمرانون سے پوچھ رہی کہ ان کی مشکلات میںکب اور کیسے کمی واقعہ ہوگی ۔ اس پس منظر میں ملک کے سب ہی ادارے دباو محسوس کررہے ۔ بدلے ہوئے پاکستان میں اہل اقتدار کے لیے مظلوم بننا مشکل ہوگیا دراصل انھیں ہر حال میں اپنے ان فرائض کو ادا کرنا ہیں جو عام انتخابات میں منتخب ہونے کے بعد ان پر عائد ہوچکے۔ اس سچائی کو جھٹلایا نہیںجاسکتا آج حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف کسی کے لیے پاکستان کے عام شہری کے دل میں کوئی رعایت نہیں ۔

Scroll To Top