شکر کے بارے میں مشہور افواہیں اور ان کے سائنسی جوابات

eشکر پر مشتمل غذائیں براہِ راست ذیابیطس کی وجہ ہر گز نہیں بنتیں بلکہ ان کے ساتھ کچھ اور وجوہ بھی لازماً شامل ہوتی ہیں ، فوٹو:فائل


کراچی: شکر ہماری غذا کے اہم ترین اجزاء میں سے ایک ہے لیکن اس کے منفی اثرات کو میڈیا پر اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے یہ انسانی صحت کی بدترین دشمن ہو۔ اگرچہ اس ’’شکر مخالف پروپیگنڈے‘‘ کے کئی مقاصد ہوسکتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ شکر کے بارے میں پھیلائی جانے والی مقبول اور زبان زدِ عام باتوں کی اکثریت غلط اور بے بنیاد ہے۔

ذیل میں ایسی ہی کچھ افواہیں اور ان کے مختصر جوابات پیش کیے جارہے ہیں جو سائنسی تحقیق سے ثابت شدہ ہیں۔

افواہ: شکر کی بعض اقسام آپ کےلیے زیادہ بہتر ہیں

حقیقت: شکر کی تمام اقسام انسانی جسم پر یکساں اثرات مرتب کرتی ہیں چاہے وہ سفید شکر ہو، براؤن شوگر ہو یا پھر شہد میں شامل شکر ہی کیوں نہ ہو۔ ہاضمے کے دوران ہر قسم کی شکر عملاً ’’گلوکوز‘‘ ہی میں ٹوٹتی ہے جسے انسانی جسم توانائی کے حصول میں استعمال کرتا ہے۔

افواہ: شکر کھانے والے بچے ضدی اور توڑ پھوڑ مچانے والے ہوتے ہیں

حقیقت: گزشتہ کئی سال کے دوران اس خیال کی حقیقت جاننے کےلیے درجنوں طبی مطالعات کیے جاچکے ہیں اور اب تک کیے گئے کسی ایک مطالعے سے اس بات کو سچائی کا درجہ نہیں مل سکا۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ بچوں میں ضدی ہونے اور توڑ پھوڑ والے مزاج کا ان کے زیادہ شکر کھانے سے کوئی تعلق نہیں۔

افواہ: شکر کھانے سے نشے کی مانند اس کی لت لگ جاتی ہے

حقیقت: اس بارے میں بھی اب تک کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ یہ خیال شاید اس لیے پروان چڑھا ہے کیونکہ بہت سے لوگ میٹھا کھانے کے شوقین ہوتے ہیں لیکن یہ صرف ان کے مزاج کا معاملہ ہے جسے منشیات کی لت سے جوڑنا ایک غلط حرکت ہے۔

افواہ: بہت زیادہ شکر کھانے سے ذیابیطس ہوجاتی ہے

حقیقت: ذیابیطس کا تعلق جینیاتی اور ماحولیاتی اسباب سے ہے جبکہ شکر پر مشتمل غذائیں براہِ راست ذیابیطس کی وجہ ہر گز نہیں بنتیں بلکہ ان کے ساتھ کچھ اور وجوہ بھی لازماً شامل ہوتی ہیں جن میں خاص طور پر ذہنی تناؤ، فکر اور پریشانی نمایاں ہیں۔ خاندانی طور پر ذیابیطس ہونا بھی اس کی ایک وجہ ہوتا ہے لیکن صرف شکر کو الزام دینا درست نہیں۔

افواہ: مصنوعی مٹھاس، قدرتی شکر کے مقابلے میں بہتر ہے

حقیقت: معمولی سا فرق ضرور ہوتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے طور پر استعمال کیے جانے والے بعض مادّے قدرتی شکر کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

افواہ: شکر کھانے سے دانت کھوکھلے اور خراب ہوجاتے ہیں

حقیقت: دانتوں میں کھوکھلے پن اور ان کے کمزور ہونے کی اصل وجہ وہ غذائیں اور مشروبات ہیں جو تیزابی اثر رکھتے ہیں، جیسے کہ مصالحے دار کھانے اور سافٹ ڈرنکس وغیرہ۔ اس معاملے میں شکر کا کردار بہت معمولی ہے اور دانتوں کو کیڑا لگنے یا کھوکھلا ہونے سے بچانے کےلیے پابندی سے ان کی صفائی کرنا زیادہ ضروری ہے نہ کہ شکر کو بدنام کرنا۔

افواہ: صحت چاہتے ہیں تو شکر کھانا بالکل ہی چھوڑ دیجیے

حقیقت: شکر نہ صرف انسانی جسم بلکہ تمام جانداروں میں حصولِ توانائی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ کسی بھی چیز کے استعمال میں حد سے تجاوز یقیناً مسائل کو جنم دیتا ہے اور یہی بات شکر کےلیے بھی درست ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ شکر کو اپنی غذا سے بالکل ہی نکال باہر کردیا جائے۔ شکر اور میٹھی چیزیں ضرور کھائیے لیکن اعتدال کے ساتھ۔ اگر صحت مند ہیں (اور ذیابیطس یا اس جیسی کسی بیماری میں مبتلا نہیں) تو اعتدال کے ساتھ شکر استعمال کرتے ہوئے اپنی جسمانی ضرورت پوری کرتے رہئے، اس میں کوئی خطرہ نہیں۔

افواہ: شکر آپ کی صحت کے تمام مسائل کی جڑ ہے

حقیقت: موٹاپا ہو، دل کی بیماری ہو یا کوئی اور مرض، کسی ایک بیماری کےلیے بھی شکر کے استعمال کو ’’جڑ‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ بیماریوں کی بھاری اکثریت ہماری اپنی عادات، معمولات اور خاندانی وراثت کا نتیجہ ہوتی ہے جبکہ شاذ و نادر ہی کسی معاملے میں شکر کا تھوڑا بہت تعلق دکھائی دیتا ہے جو دیگر عوامل کے ساتھ مل کر اثرات مرتب کرتا ہے۔ ایسے میں صرف شکر پر الزام لگانا ایک اہم قدرتی نعمت کی ناشکری کے مترادف ہے۔

Scroll To Top