پاک بھارت مذاکرت کا آغاز ہوسکتا ہے !

وزیراعظم نوازشریف نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر بھارت مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو پاکستان بھی مذاکرت کے لیے تیار ہے۔آزربائیجان کے دورے کے موقعہ پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف کا کہناتھا کہ مسلہ کشمیر خطے میں کشیدگی کی بڑی وجہ ہے اور ہندوستان کو اس کے حل کے لیے سنجیدیگی دکھاتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی قراردادوں کے مطابق اپنے وعدوںکی پاسداری کرنے چاہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہے کیونکہ وہ ایک پرامن ملک ہے۔“
بلا شبہ پاک بھارت تعلقات کی تاریخ میں موجود اتار چڑھاو کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر ہی ہے۔دونوں ملکوں میں چار باضابطہ جنگیں ہونے کے ساتھ کنڑول لائن اور ورکنگ باونڈری پر درجنوں چھڑپیں ہونے کی وجہ مقبوضہ وادی پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہی ہے۔ ستر سال سے بھارتی قیادت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کا راگ الاپ رہی ہے مگر عملی طور پر اہل کشمیر کسی طور پر بھارتی ظلم وبربریت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ مقبوضہ وادی میں احتجاج کی تازہ لہر رواں سال آٹھ جولائی کو حزب الماجہدین کے نوجوان کمانڈر مظفر وانی کی شہادت کے بعد دیکھنے میں آئی جس میں اب تک درجنوں افراد جان کی بازی ہار گے۔ کشمیر میں صورت حال یہ ہے کہ گذشتہ تین ماہ سے کرفیو نافذ ہے۔جس کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گی ۔ وادی کے اسکولز ، دوکانیں ، دفاتر اور پیٹرول پمس بند ہیں جس کی وجہ سے حالات مذید ابتر ہوچکے۔ اب تو موبائیل اور انٹرنیٹ کی بندش سے اہل کشمیر کا دنیا سے رابطہ کٹ چکا ۔ بھارت نے بعض کشمیری اخبارات پر بھی پابندی عائد کردی ہے جو اظہار رائے کے مسلمہ عالمی اصولوں کے بھی خلاف سمجھا جارہا ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گنوں کے اسمتال سے کم وبیش 700کشمیری بینائی سے محروم ہوچکے ۔ اس پس منظر میں 18ستمبر کو اڈی سیکڑ میں بھارتی فوج کے ہیڈکوراٹر پر ہونے والے حملے کا الزام بھی پاکستان پر عائد کردیا گیا جس میں اٹھارہ بھارتی فوجی جان کی بازی ہار گے۔
21ستمبر کو وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جس پرزور طریقہ سے مسلہ کشمیر کو اجاگر کیا اس پر بھارت میں وسیع پیمانے پر اجتجاج دیکھنے میں آیا۔ مودی سرکار کے لیے شائد یہ حیران کن تھا کہ وزیراعظم نوازشریف نے لگی لپیٹی کئے بغیر بھارتی سیکورٹی فورسز کی بربریت کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ بھارتی میڈیا میں وزیراعظم نوازشریف بارے جو زبان استعمال کی گئی اسے کسی طور پر اخلاق کے دائرے میں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نوازشریف نے یقینا حقائق بیان کیے ،ان تمام بھارتی ہتکھنڈوں کو بے نقاب کیا جو مودی سرکار نے مقبوضہ وادی میں روا رکھے ہوئے ہیں۔یہ مطالبہ ناجائز نہیں کہ بی جے پی قیادت کو پاکستان پر غم وغصہ نکالنے کی بجائے اپنی ان پالیسوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو نریندرمودی کے وزیراعظم بنے سے لے کر اب تک جاری وساری ہیں۔
بھارت میں انسانی حقوق کی بشیتتر تنظمیں کشمیر میں جاری ظلم ستم بارے آواز اٹھا رہی ہیں۔ ملکی وبین الاقوامی میڈیا میں یہ سچائی پوری شدت سے بے نقاب ہورہی کہ مقبوضہ وادی میں آزادی کی نئی لہر پاکستان یا کسی اور ملک کی مداخلت کا ہرگز نتیجہ نہیں۔ برہان وانی جیسے حریت پسند جس طرح کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو اپنے خون سے رقم کررہے ہیں اس کے بعد مقبوضہ وادی کے رہنے والوں کو مذید کسی بھی مدد کی ضرورت نہیں۔ یہ یقینا بدقسمتی ہے کہ بھارتی پالیسی ساز کشمیر میں کئی دہائیوں سے پائی جانے والی بے چینی کی وجوہات کو دل وجان سے تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک مخصوص زوایہ سے مودی سرکار کشمیریوں کی یقینا محسن ہے کہ اس نے تنازعہ کشمیر کو تارکیوں سے نکال کر اقوام عالم کے سامنے لے آئی۔ یہ تجزیہ بھی غلط نہیں کہ اگر نئی دہلی میں مودی جیسا انتہاپسند وزیراعظم براجمان نہ ہوتا تو کشمیر میں جدوجہد آزادی کو کسی طور پرنئی طاقت نہ ملتی ۔
ایک خیال یہ ہے کہ نریندری مودی دراصل روس کے سابق صدر گوربا چوف کا کردار نبھا رہے۔ مورخین کی اکثریت کا ماننا یہ ہے کہ اگر اس روس افغان جنگ کے اس نازک موقعہ پر روسی صدر کوئی اور صاحب بصیرت شخصیت ہوتی تو غالب امکان تھا کہ روس اس انداز میں ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوتے۔ آج نریندری مودی بھی ایسی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہیںجس کی بدولت پڑوسی ملک کے مسائل بڑھنے کی بجائے کم ہوجائیں۔ قوی امکان ہے کہ نریندر مودی کے دور حکومت میں ایک طرف کشمیر کی جدوجہد آزادی کامیابی کی نئی منزلوں سے ہمکنار ہوگی تو دوسری جانب خالصتان تحریک سمیت علحیدیگی کی ان گنت تحریکوں کو بھی قوت ملی گی جو گزرے ماہ وسال میں بڑی حد تک کمزور پڑگی تھیں۔
وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر مذاکرت پر آمادگی کا اظہار کرکے عالمی برداری کو مثبت پیغام دیا ۔ یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان نے بھارت سے غیر مشروط طور پر بات چیت کی حامی بھری ہے بلکہ ماضی میں بھی کئی بار ایسا ہوچکا۔ لازم ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکہ سمیت بین الاقوامی قوتیں بھارت پر دباو بڑھائیں کہ وہ اگر مگر سے کام لینے کی بجائے پاکستان کے ساتھ سنجیدیگی کے ساتھ مذاکرت کا آغاز کرے تاکہ جنوبی ایشیاءمیں دو ایمٹی قوتوں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے ۔

Scroll To Top