اوپر اوپر جنگیں اندر اندر معاہدے 22-02-2012

kal-ki-baatسینیٹ میں بیسویں ترمیم کی منظوری کے لئے جو شرمناک ڈرامہ کھیلا گیا ہے اس سے میرے اِس نقطہ ءنظر کی بھرپور تصدیق ہوتی ہے کہ 1973ءکے آئین کے تحت جو سیاسی نظام ملک و قوم کی گردن میں ڈالا گیا ` ننگی بہری اور بے شرم کرپشن اس کا طرہ ءامتیاز ہے۔
ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک میں جمہوری نظام کا یہ ماڈل تباہی و بربادی کا پیش خیمہ اِسی وجہ سے بنا ہے کہ اس میں معاشرے کا سب سے نا اہل مگر سب سے آسودہ حال طبقہ اپنی مالی حیثیت کے زور سے پارلیمنٹ پر قابض ہو کر اپنی ” لاگت “ سے کئی گنا زیادہ ” منافع “ وصول کرتاہے۔ اِس بات کا مطلب یہ نہیں کہ باصلاحیت اور قابل لوگ پارلیمنٹ میں نہیں جاتے ہوں گے۔ ضرور جاتے ہوں گے مگر نمک کی کان میں جاکر نمک بن جاتے ہوں گے۔
جب تک پارلیمنٹ حقیقی معنوں میں قانون ساز ادارہ نہیں بنتا اور اس میں ایسے لوگ نہیں جاتے جو قانون سازی کے حوالے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں مہارت رکھتے ہوں ` جب تک ملک کی ” فیصلہ ساز “ قیادت کا انتخاب براہ راست عوام کی منشا اور ووٹوں سے نہیں ہوتااور ایسی قیادت کو نظامِ مملکت چلانے کے لئے ” جوہرِقابل “ سامنے لانے کی آزادی نہیں ہوتی اُس وقت تک اِس ملک کی تقدیر ” حکمران فیملیز“ کے ہاتھوں میں رہے گی۔
اگر آپ نے ” گاڈ فادر “ یا مافیا کے بارے میں دیگر کتابوں کامطالعہ کیا ہے تو ” فیملیز “ کا مطلب آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا۔
مافیا کی لغت میں جو خاندان ” زیرِ زمین “ ہونے والے کاروبار کنٹرول کرتے ہیں انہیں ” فیملیز “ کہا جاتاہے۔ پاکستان میں سیاست سب سے بڑا کاروبار ہے۔ اور یہ کاروبار زیرِ زمین بھی ہوتا ہے ` اور خلق خدا کے سامنے بھی۔ جب اس کاروبار میں شریک فیملیز کے سربراہ ہمارے سامنے آتے ہیں تو خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہو کر ایک دوسرے کو عوام کی تمام تکالیف اور بدنصیبیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ مگر پھر وہ ” زیرِ زمین “ جاکر ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے بیسویں ترمیم کے انداز میں تعاون کے معاہدے کرتے ہیں۔
جب تک اِس مکروہ نظام سے اہل پاکستان کی جان نہیں چھوٹے گی` ان کی زندگی اچھے دنوں کے انتظار میں ہی گزرتی رہے گی۔

Scroll To Top