آپسے بڑا جنر ل تاریخ نے پیدا نہیں کیا ۔چوہدری صاحب ۔۔۔ 21-02-2012

kal-ki-baatمنوبھائی باتوں باتو ں میں اکثر مثال دیا کرتے ہیںکہ ٹھنڈے پانی سے نہانا پڑے تو زیادہ تکلیف پہلا لوٹا ہی دیا کرتاہے۔ اس کے بعد بدن کو ٹھنڈ سہنے کا تجربہ ہوجاتا ہے۔
چوہدری اعتزاز احسن پہلا لوٹا استعمال کرچکے اور اب وہ بڑی روانی اور ڈھٹائی کے ساتھ وہ سب کچھ کہہ رہے ہیں جو انہیں صدر آصف علی زرداری کی طرف سے عنایت کردہ خلعت فاخرہ پہن کر کہنا ہے۔ اب وہ صرف اعتزاز احسن نہیں سنیٹر اعتزاز احسن ہیں۔
قرآن حکیم میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ے کہ وہ ایمان والوں میں شامل تو ہوئے مگر ایمان ا نہیں راس نہ آیا اور وہ واپس وہیں چلے گئے جہاںسے آئے تھے۔
مجھے یہ تلخ باتیں لکھنے کی ضرورت چوہدری صاحب کا وہ خطاب سن کر پیش آئی ہے جس کی خاطر وہ لندن گئے ہیں۔ یہ خطاب انہوں نے فیض احمد فیض کے حوالے سے ہونے والی ایک تقریب میں کیا۔ اور میں نے ان کے ارشادات ٹی وی پر سنے۔
موصوف کہہ رہے تھے۔
” پاکستان کے جنرلوں کا یہ جرم ناقابل معافی ہے کہ انہوں نے پاکستان کو ایک سوشل سکیورٹی سٹیٹ کی بجائے ایک نیشنل سکیورٹی سٹیٹ بنا دیا۔ ایساکرنے کے لئے انہیں ایک دشمن کی ضرورت تھی جس کا انتخاب انہوں نے بھارت کی صورت میں کرلیا۔“
مجھے دکھ ہے کہ اپنے ” نوغسل شدہ “ ضمیر کی بات کرتے وقت چوہدری اعتزاز احسن بھول گئے کہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کسی جنرل نے نہیں بانی ءپاکستان نے قرار دیا تھا ’ اور سری نگر میں بھارتی فوجوں کے اترنے کے بعد آزادی ءکشمیر کی جنگ لڑنے کا حکم بھی کسی جنرل نے نہیں پاکستان کو سوشل سکیورٹی سٹیٹ بنانے کا خواب دیکھنے والے قائداعظمؒ نے دیا تھا۔
بھارت کو ایک دشمن کے طور پر ہم نے منتخب نہیں کیا۔۔۔ دشمنی بھارت نے ہم پر مسلط کررکھی ہے۔پاکستان کی شہ رگ پر چھری کس کی رکھی ہوئی ہے چوہدری صاحب ؟
آپ جیسے دانشوروں کی خوش قسمتی یہ ہوتی ہے کہ آپ کا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا’ اور آپ کو ان قیود اور پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جو ایمان عائد کرتا ہے۔
ایک سوال کا جواب آپ بہرحال ضروردیں کہ اگر سٹیٹ ” سیکور“ ہی نہیں ہوگی تو وہاں سوشل سکیورٹی کیسے قائم کریں گے ۔
اگر آپ نے تاریخ نہیں پڑھی تو تھوڑی بہت پڑھ لیں۔ ۔۔ ریاست مدینہ کو فلاحی مملکت بنانے کے لئے آنحضرت کو اپنی آخری عمر کا بیشتر حصہ گھوڑے یا اونٹ کی پیٹھ پر گزارنا پڑا تھا۔
آپ سے بڑا جنرل تاریخ نے پیدا نہیں کیا۔۔۔

Scroll To Top