ایک قبر کی پکار 19-02-2012

kal-ki-baatعزمِ راسخ کے ساتھ صدر آصف علی زرداری کا یہ عہدِ صمیم ہے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل نہیں ہونے دیں گے۔
اپنے اس عہدِ صمیم کا اظہار انہوں نے چند ہفتے ہوئے ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا تھا۔
اور اب جناب آصف علی زرداری کی سربراہی میں نئے حوصلوں اور نئے ولولوں کے ساتھ سامنے آنے والی پاکستان پیپلزپارٹی کے تمام لیڈروں کا یہی نعرہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قبر کا ٹرائل ہرگز ہرگز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لگتا یوں ہے کہ پی پی پی کا اگلا انتخابی نعرہ ” روٹی کپڑا اور مکان “ نہیں ’ ” شہید بی بی کی قبر کا ٹرائل ۔نامنظور “ ہوگا۔
اس نعرے کا بالواسطہ طور پر مطلب یہ ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان این آر او کے معاملے کی آڑ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل کررہی ہے۔ چیف جسٹس اور ان کی عدالت عظمیٰ کا مقصد سوئس بینکوں میں مبینہ طور پر جمع شدہ پاکستانی سرمائے کو واپس لانا نہیں ’ بی بی شہید کی قبر کا ٹرائل کرنا ہے۔ اگر یہ سرمایہ جس کی مالیت پانچ ارب روپوں کے لگ بھگ ہے ‘ پاکستان واپس آکر اس کی معیشت کا حصہ بن گیا تو اپنی قبر میں پُر سکون نیند سونے والی محترمہ بے نظیر بھٹو چیخ کر اٹھ بیٹھیں گی اور اپنے جانشینوں سے کہیں گی ۔ ” بے غیر تو۔۔۔ میں نے الزامات کے تیر اپنی نیک نامی اور شہرت پر اس منحوس دن کے لئے نہیں کھائے تھے!“
صدر زرداری کے لئے یہ خیال یقینا سوہانِ روح ہوگا۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ جس خط کے لکھے جانے پر عدالت عظمیٰ اصرار کررہی ہے ’ اور جسے نہ لکھنے کے عزم نے وزیراعظم گیلانی کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے ’ اسے لکھے جانے کی صورت میں ان کے لئے کیا کیا مسائل اور مصائب پیدا ہوسکتے ہیں ‘ انہیں فکر صرف اس بات کی ہے کہ ان کی شہید رفیقہ ءحیات پر قبر میں رنج و الم کے کیسے کیسے پہاڑ ٹوٹیں گے۔!
اور بات صرف پانچ ارب روپوں کی نہیں۔ یہ رقم تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔
اگر ایک خط لکھا گیا تو خط نویسی کی رسم پر عائد پابندیاں خودبخود اٹھنے لگیں گی۔ اور قبروں میں صرف مردے ہی دفن نہیں ہوتے ’ خزانے بھی دفن کئے جاتے ہیں۔ مشہور ہے کہ مصر کے ہر فرعون کی قبر ایک خزانے کا دفینہ بھی تھی۔ اور یہ روایت صرف فرعونوں تک محدود نہیں۔ دفینوں کی اور بھی بے شمار داستانیں ہیں جنہیں مورخوں اور ادیبوں نے اپنے شاہکاروں کا موضوع بنایا۔ اس ضمن میں یہاں میں الیگزنڈر ڈیوما کے شہرہ آفاق ناول ” کاﺅنٹ آف مانٹی کرسٹو“ کا ذکر ضرور کروں گا جس کا مرکزی کردار ایڈمنٹرڈینٹیس ایک جزیرے میں قید تھا اور اپنے ایک ساتھی قیدی سے ایک ” دفینے “ کا نقشہ لے کر فرار ہوگیا ۔ جب وہ دوبارہ سامنے آیا تو پیرس کا ایک بڑا رئیس تھا اور کاﺅنٹ آف مانٹی کرسٹو کے لقب سے پہچانا جاتا تھا۔
انصاف کی بات تو یہی ہے کہ ” دفینوں کے نقشے ان لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں لگنے چاہئیں جنہوں نے ” پائی پائی جوڑ کر “ خزانے بنانے کے لئے اپنا خون پسینہ ایک نہیں کیا ہوتا ’ لیکن دنیا کے نظام انصاف پر کھڑے نہیں ہوتے۔ یہاں جو ریاستیں قائم ہیں وہ ٹیکس بھی وصول کرتی ہیں اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے لئے قوانین بھی بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خون پسینہ ایک کرنے والوں کو ایسے ” دفینوں“ کا اہتمام کرنا پڑتا ہے جن تک رسائی ” اغیار “ کو نہ ہو سکے۔
بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں ران سسکنڈ (Ron Suskund)کی تصنیف Way of the Worldکا ذکر کروں گا جس میں موصوف نے بی بی صاحبہ کے آخری سال کا جائزہ بہت قریب سے لیا ہے۔ یہی کتاب پڑھ کر مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ محترمہ نے اپنے آخری ہفتوں کے دوران دوبئی کا ایک طوفانی دورہ کیوں کیا تھا۔ ران سسکنڈ کاکہنا ہے کہ دوبئی جاکر محترمہ نے ٹیلی کمیونیکیشنز کے ایک محفوظ ذریعے سے اپنے فرزند بلاول کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا اور انہیں اپنے تمام اکاﺅنٹس کے بارے میں تفصیلات کو ڈز اور پاس ورڈز سے آگاہ کیا تھا۔ ران سسکنڈ کا کہنا ہے کہ محترمہ کوڈر تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوگیا تو تمام دفینے کہیں دفن ہی نہ رہ جائیں ۔ ایک ڈر یہ بھی تھاکہ ان دفینوں تک رسائی کہیں زرداری صاحب سمیت کسی دوسرے کو نہ ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول سسکنڈ کے ‘ محترمہ نے بلاول کو پوری رازداری برتنے کی تلقین کی۔
آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوا ہوگا کہ ” اس بات کا علم ران سسکنڈ کو کیسے ہوا ؟“ تو اس سوال کا جواب ران سسکنڈ نے خود ہی اپنی تصنیف میں دے دیا۔
ہوا یوں کہ محترمہ مرحومہ اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی ساری گفتگو تمام احتیاطوں کے باوجود ” سی آئی اے “ کے سسٹم میں ریکارڈ ہوگئی۔ ران سسکنڈ نے اس بارے میں آگہی سی آئی اے کے ” ذرائع “ سے ہی حاصل کی۔اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ سی آئی اے نے اس گفتگو سے حاصل ہونے والی معلومات کو اپنی ” اگلی “ منصوبہ بندی کے لئے بھی استعمال کیا۔
میں ان تمام تفصیلات میں اس لئے گیاہوں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قبر کا ٹرائل روکنے کے آہنی عزم کے پیچھے اسباب اور عوامل پر روشنی ڈال سکوں۔
یہ جو ” دفینے “ ہوتے ہیں ’ یہ بڑے ستم ظریف اور ” سنگدل “ ہوا کرتے ہیں۔ ان کے پیچھے کبھی کوئی مارکوس ہوتاہے ’ کبھی کوئی رضا شاہ ہوتا ہے کبھی کوئی زین العابدین ہوتا ہے ’ اور کبھی کوئی قذافی ہوتا ہے ۔۔۔مگر یہ کام کس کے آتے ہیں ؟
آج تک کوئی ” دفینہ “ قبر پھاڑ کر نہیں اٹھا اور اٹھ کر اس نے یہ نہیں کہاکہ ” خبردار مجھے ہاتھ نہ لگاﺅ۔ مجھ پر حق میرے مارکوس کا ہے۔ یا رضا شاہ کا ہے۔ یا کسی اور کاہے ۔“
اگر صدر زرداری یہ بات نہیں جانتے تو اس لئے نہیں جانتے کہ وہ جاننا نہیں چاہتے۔ ان کے دل و دماغ میں کہیں نہ کہیں یہ امید بسی ہوئی ہے کہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا ۔ اور یہ کہ ان کی محنت ان کے ہی کام آئے گی۔
یہی وجہ ہے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل نہیں چاہتے۔ وہ اس ٹرائل کو ہر قیمت پر روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ تمام ” حادثات “ کے باوجود قائم رہے۔ اور ممکن یہ بھی ہے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی قبر پر قربان ہو کر آصفہ بی بی اور بختاور بی بی کو مزید ” تشکر “ کاموقع دے جائیں۔
جائیں گے وہ کہاں ؟ یہیں رہیں گے۔ اسی دنیا میں۔ اسی پاکستان میں ۔
وہ اکیلے تو نہیں۔ ان کے فرزند بھی ہیں۔ اور ان کے فرزند وں میں ہر ایک آنے والے دور کا ” جاں نثار ِ بھٹو “ بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ اس سرزمین پر ایک قبر ایک ایسے رجلِ عظیم کی بھی تو ہے جس نے یہ ملک قائم کیا تھا ’ اس یقین کے ساتھ کہ یہ خواب ِ اقبال ؒ کی تعبیر بنے گا۔
اس قبر پر تو ایک پرشکوہ مزار بھی کھڑا ہے جس کے پہلو میں آج کل بڑے بڑے عظیم الشان جلسے ہوتے ہیں۔ کبھی کسی لیڈر نے اس رجلِ عظیم کی یہ فریاد قبر سے بلند ہوتے سنی ہے کہ ” میرے پاکستان کواپنی حرص و ہوس کی سولی پر کیوں لٹکا ئے رکھنا چاہتے ہو ؟‘ ‘

Scroll To Top