انسانی حقوق اور سی آئی اے 18-02-2012

kal-ki-baatکم ازکم مجھے اس حقیقت پر ذرا بھی شبہ نہیں کہ ” انسانی حقوق “ کی آڑ میں امریکہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا کرتا ہے۔ مطلب اس بات کا یہ ہے کہ انسانی حقوق یا ہیومن رائٹس کے جتنے ادارے مختلف ممالک میں کام کرتے ہیں وہ درحقیقت امریکی ایجنسی سی آئی اے کی ” غیر سرکاری “ شاخیں ہیں۔ ” غیر سرکاری “ کی ترکیب یوں بھی امریکہ کے حکمت سازوں کو بہت پسند ہے۔ ایک زمانہ تھا جب سی آئی اے دُنیا بھر میں اپنے ایجنٹوں کا جال بچھانے کے لئے اپنے سفارت کاروں پر انحصار کیاکرتی تھی۔ پھر جب ” سی آی اے “ اور ” کے جی بی “ کے درمیان خفیہ جنگوں میں شدت پیدا ہوئی تو سی آئی اے نے اپنے ایجنٹ” پلانٹ“ کرنے کے لئے دوسرے ذرائع تلاش کرنے شروع کردیئے۔” غیر سرکاری ادارے “ یعنی ” این جی اوز “ اسی ضرورت کے تحت سامنے آئے ۔ اور پاکستان میں تو این جی اوز کا بڑا ہی وسیع جال پھیلا ہوا ہے۔ ” بھرتی “ کا ایک اور ذریعہ ملٹی نیشنلز بھی ہیں جن میں کچھ اہلکار دوہری تنخواہیں وصول کرنے والے ہوتے ہیں۔ ایک تنخواہ انہیں اپنی ملٹی نیشنل کمپنی سے ملا کرتی ہے ` اور دوسری سی آئی اے سے ۔
ہیومن رائٹس کے حوالے سے کام کرنے والے اداروں پر حقیقی کنٹرول سی آئی اے کا ہی ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی ” فنڈنگ “ دوسرے ذرائع سے کرائی جاتی ہے۔
پاکستان میں ہیومن رائٹس کے جو کرتا دھرتا ہیں ان کی اکثریت کا تعلق کسی زمانے میں ترقی پسند تحریک سے تھاجس کی فنڈنگ اور سرپرستی ماسکو کیا کرتا تھا۔ اب ماسکو کی جگہ واشنگٹن نے لے لی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ واشنگٹن سامنے نہیں آتا۔ ہمیشہ کسی ناروے `کسی سویڈن یا ایسے ہی کسی دوسرے ملک کو سامنے رکھتا ہے۔
آج مجھے ہیومن رائٹس کے حوالے سے کالم لکھنے کی ضرورت اس رپورٹ کی وجہ سے پیش آئی ہے جس میں سلیم شہزاد نامی صحافی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کے بارے میں قائم کئے جانے والے عدالتی کمیشن پر خیال آرائی کے ساتھ ساتھ فوجی اداروں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ہلاکت کسی کی بھی ہو افسوسناک ہوتی ہے۔ ہلاک ہونے والا سی آئی اے کا ایجنٹ ہو ` القاعدہ کا پیادہ یا لیڈر ہو ` یا پھر کسی ڈرون حملے کی زد میں آنے والا کوئی معصوم شہری ہو ` ہمیں یکساں دکھ کا اظہار کرنا چاہئے۔ دورِ حاضر کے بارے میں جتنی بھی تاریخ میں نے پڑھی ہے ` اس سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ ” ڈبل ایجنٹ “ ہمیشہ کتے کی موت مارے جایا کرتے ہیں۔

Scroll To Top