اسلامی معاشرے میں امیر ترین کو کتنا امیر اور غریب ترین کو کتنا غریب ہوناچاہئے؟ 13-11-2009

قرآن حکیم میںزندگی کے تقریباً تمام ہی معاملات پر واضح ہدایات موجود ہیں مگر ریاست کا حکومتی نظام کیساہوناچاہئے یہ معاملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفے یعنی انسان پر چھوڑ دیا ہے۔ خلق خدا کو آزادی ہے کہ وہ اپنی پسند کا حکومتی نظام رائج کرے مگر ان حدود و قیود کے اندر جو قرآن حکیم نے ” ناقابل تبدیل“ صداقتوں کے طور پر متعین کردی ہیں۔
ایک حد تو یہ واضح ہے کہ زمین خدا کی ہے اور انسان کو صرف ایک امین کا درجہ حاصل ہے۔ دوسری حد یہ واضح ہے کہ حقیقی حاکم اللہ تعالیٰ ہے اور انسان جو بھی حکومت روئے زمین پر قائم کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہوگی۔ اور تیسری حد یہ ہے کہ انسان کی قائم کردہ حکومت مملکت کے شہریوں کو انصاف فراہم کرے گی۔ دوسرے الفاظ میں جو نظام ” عدل “ اور ” انصاف “ پر مبنی نہیں ہوگا وہ خدا کا پسندیدہ نظام نہیں ہوگا اور اسے ختم کرنا ہر خدا پرست پر ایک فرض بن جائے گا۔
آنحضرت ﷺنے وصال سے پہلے مسجد میں امامت کے لئے اپنی جگہ حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ)کو نامزد تو ضرور کیا لیکن جانشینی کا مسئلہ خلق خدا پر چھوڑ دیا۔ دوسرے الفاظ میں اہل مدینہ کو یہ حق دے دیا کہ وہ کثرت رائے سے اپنا امیر یا حاکم یا قائد منتخب کرکے اس کے ساتھ وفاداری کا عہد کریں۔ یہاں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ” حاکمیت “ یا ” قیادت“ کا معاملہ طے کرنے کے اختیار میں غیر مسلم شامل نہیں تھے۔ غیر مسلم شامل اس لئے نہیں تھے کہ اسلام میں آخری اور قطعی حاکمیت خدا کی ہے اور جو شخص خدا کی قطعی اور آخری حاکمیت کو نہ مانتا ہو وہ ” حکومت سازی “ کے عمل میں حصہ لینے کا حق نہیں رکھتا۔
ہر ایک جانتا ہے کہ اہل مدینہ نے کثرت رائے سے حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کو اسلام کا ” خلیفہ اول “ منتخب کیا۔ اور انہوں نے اپنے پہلے ہی خطاب میں ” حاکمیت کی جو حدیں“ متعین کردیں وہ اسلام کے نظام حکومت کے لئے مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے کہا۔
” اے اہل اسلام۔ مجھے آپ کی قیادت کرنے کے لئے آپ پر حاکم مقرر کیا گیا ہے حالانکہ میں آپ میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے فرائض بحسن و خوبی ادا کروں تو میری اعانت کرو۔ اگر میں غلطیاں کروں تو میری سرزنش کرو۔ حق و صداقت کا ساتھ دینا ہی میرے ساتھ وفاداری ہوگی۔ اور جھوٹ میرے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔ آپ میں جو کمزور ہیں اور حقوق سے محروم ہیں وہ اس وقت تک میری نظروں میں ” طاقتور“ شمار ہوں گے جب تک میں انہیں ان کے حقوق دے یادلا نہیں دیتا۔ اور وہ جو طاقتور ہیں اور اہل وسائل ہیں، وہ میری نظروں میں تب تک کمزور شمار ہوں گے جب تک میں ان سے محروموں کا حق چھین کر محروموں کو نہیںدلا دیتا۔“
اس خطے سے دو باتیں قطعی طور پر واضح ہوتی ہیں۔
ایک تو یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے اپنے آپ کو افضل ترین قرار نہیں دیا۔ بلکہ بڑے عجز و انکسار کے ساتھ کہا کہ میں آپ میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ حاکم کا کام معاشرے میں عدل قائم کرنا ہے۔
مثال کے طور پر اگر معاشرے کے محروم ترین شخص کے پاس پانچ ہزار روپے ہیں یا اس کی ماہانہ آمدنی پانچ ہزار روپے ہے تو معاشرے کے امیر ترین شخص کے پاس کتنی دولت ہونی چاہئے۔ یا اس کی ماہانہ آمدنی کتنی ہونی چاہئے۔؟
انصاف کیا کہتا ہے ؟ عدل کیا کہتا ہے ؟
اور وہ لوگ جو ارب پتی اور کھرب پتی ہیںانہیںکیا حق ہے کہ ایک ایسے ملک کے حکمران بنیں جس کے محروم طبقوں کو ایک ہزار روپے ماہانہ کی بھیک دی جاتی ہے۔۔۔؟

Scroll To Top