ملائیشیا مدرسے میں آگ لگنے سے23طلبہ سمیت25ہلاک، متعدد زخمی

  • واقعہ مدرسہ دارالقرآن اتفاقیہ میں صبح فجر سے پہلے پیش آیا،گذشتہ 20 برسوں میں ملک میں یہ آگ لگنے کا بدترین واقعہ ہے،امدادی حکام
  • 2015 سے اب تک آگ لگنے کے ایسے 200 سے زیادہ واقعات پیش آچکے ہیں، مقامی میڈیا،وزیر اعظم نجیب رزاق کاواقعے پر اپنی ایک ٹویٹ میں افسوس کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار

ملائیشیا: کوالالمپور کے مدرسے میں آتشزدگی سے 24 افراد ہلاککوالالمپور(آن لائن)ملائیشیا میںدارالحکومت کوالالمپور کی ایک دینی درسگاہ میں آگ لگنے سے طلبہ اور اساتذہ سمیت کم از کم 25 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ،مدرسہ دارالقرآن اتفاقیہ میں صبح فجر سے پہلے آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔کوالالم پور شہر میں آگ زنی اور امدادای کارروائیوں سے متعلق محکمے کے سربراہ خیرالدین درہمان نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’23 طلبہ اور دو وارڈن کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے گذشتہ 20 برسوں میں ملک میں یہ آگ لگنے کا بدترین واقعہ ہے۔ اتنے زیادہ افراد کی ہلاکت قابل افسوس ہے۔ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی عمریں کیا تھیں۔ عام طور پر ایسے مدارس میں قرآن کے حفظ کے لیے پانچ سے 18 برس کی عمر تک کے بچے ہوتے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کا یہ واقعہ گذشتہ دو عشروں میں سب سے بھیانک واقعہ ہوسکتا ہے۔اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر جو تصویریں پوسٹ کی گئیں اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مدرسے کی عمارت کی بالائی منزل کے کمرے، جس میں ممکنہ طور پر طلبہ سو رہے تھے، پوری طرح سے آگ کے شعلوں میں ہے۔عمارت کے باہر طلبہ کے والدین کو بھی جمع ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔بہت سے ان طلبہ کو ہسپتال بھی پہنچایا گیا ہے جو آگ سے زخمی ہوئے یا پھر دھوئیں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔اس طرح کے دینی مدارس عام طور پر ذاتی ملکیت کے تحت چلتے ہیں جہاں کئی بار آگ لگنے کے واقعات ہونے پر حکام نے حفاظتی بندوبست کے حوالے سے تشویش بھی ظاہر کی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق سنہ 2015 سے اب تک آگ لگنے کے ایسے 200 سے زیادہ واقعات پیش آچکے ہیں۔وزیر اعظم نجیب رزاق نے اس واقعے پر اپنی ایک ٹویٹ میں افسوس کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

Scroll To Top