بلوچستان کےلئے عملی اقدمات اٹھائے جائیں

zaheer-babar-logoوزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ سوئی گیس کی بدولت پورے پاکستان نے ترقی کی لہذا اب پاکستان کے عوام بلوچستان کے عوام کا قرض ادا کرینگے۔وزیر اعظم پاکستان نے ان خیالات کا اظہار ڈیرہ بگتی میں 80 ارب روپے کی لاگت سے کچھی کینال کے افتتاح کے موقعہ پر کیا۔“
رقبہ کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں مسائل کا شمار نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچ کی مشکلات میں اضافہ کے لیے خود صوبے وڈیروں، جاگیرداروں اور نوابوں کا کردار ہرگز کم نہیں رہا ۔ اب تک صوبے کی قوم پرست جماعتیں ہوںیا مذہبی رہنما ہر کوئی کسی نہ کسی شکل میں اپنے انفرادی اور گروہی مفادات کا اسیر ثابت ہوا۔
ماضی کے برعکس حالیہ سالوں میں یہ مثبت تبدیلی رونما ہوئی کہ ایک طرف اہل بلوچستان ان روایتی منفی ہتکھنڈوں سے بیزار ہوئے جو کئی دہائیوں سے چلے آرہے، مثلا ان نام نہاد قوم پرست رہنماوں کا اثر رسوخ کم ہوا جو دیار غیر میںپرتعیش زندگی گزارتے ہوئے صوبے کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیراءہیں۔۔
بلوچستان کے عوام کا بنیادی مسلہ شرح خواندگی میں کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تاحال رہنما اور رہزن کی پہچان کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بلوچستان کی طرح دیگر صوبوں میں بھی پڑھے لکھے افراد کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے ریاست پاکستان کی آئینی ذمہ داریاں اور اخلاقی زمہ داریاں ہیں۔ اب تک کی ہر حکومت اس عزم کا اظہار کرتی رہی کہ کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی اور مفت اور لازمی ثانوی تعلیم مہیا کرے گی مگر تاحال ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
ایک رپورٹ کے مطابق مملکت خداداد پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے 120 ممالک میں سے 113 ویں نمبر پر ہے۔ ملک میں پرائمری اسکول جانے کی عمر کے تقریبا 56 لاکھ طلبہ سکول جانے سے قاصر ہیں یعنی اسکول نہ جانے والوں بچوں کا 62 فیصد! جبکہ لوئرسیکنڈری اسکول جانے کی عمر کے تقریبا 55 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔مذید یہ کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے والے ایک کروڑ سے زائد نوجوان سیکنڈری اسکول جانے سے بھی محروم ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تعداد دو کروڑ سے زائد ہے۔
کسی بھی مہذب ملک میں تعلیم فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے مگر بلوچستان میں یہ ذمہ داری کوئی اٹھانے کو تیار ہی نہیں۔ جسکی وجہ سے سب سے کم خواندگی بلوچستان میں ہے ۔ بلوچستان میں حالات یہ ہیںکہ اس شخص کو بھی خواندہ سمجھا جاتا ہے جو محض اپنا نام پڑھنا لکھنا جانتا ہے یا اپنے نام کے دستخط کرنا جاتا ہو۔
بلوچستان میں جمہوری دور ہو یا آمریت کا دور ہو، تعلیم کو عام کرنے کے بلند و بانگ دعوے تو کیے گے ، تعلیمی پالیسیاں بھی بنیں حتی کہ تعلیمی ایمرجنسی کا اب بھی شور ہے مگر نتائج صفر رہے۔ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی سرکاری سکولوں کے برعکس پرائیویٹ اسکولوں میں ہزاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ۔ ان کاروباری درسگاہوں میں ٹیوشن فیس کے نام پر ہزاروں روپے اور داخلہ فیس کے نام پر لاکھوں روپیہ لیے جاتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ گویا بلوچستان میں تعلیم جیسے اہم شعبے کو نجی سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم بھی ایک جنس ہے جسے بازار میں بیچ کر منافع کمایا جائے ۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباس کے علم میں ہونا چاہے کہ اب بھی بلوچستان کے ہزاروں طالب علموں کے بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ بھی میسرنہیں ،طلبہ وطالبات ٹوٹے پھوٹے بینچ اور پھٹے ہوئے ٹاٹوں پہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ایسے کئی اسکول ہیں جہاں قابل اساتذہ کا فقدان ہے ۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ بلوچستان کی ساٹھ فیصد آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے اس لئے دہی سطح پر تعلیم کے فروغ کیلئے فوری اور دیرپہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ بظاہر بلوچستان کے دیہاتی علاقوں میں شرح خواندنگی کم ہونے کی کی بنیادی وجہ انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ حکومت شہروں کے بجائے اب دیہی علاقوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر قائم کرے تو اچھا ہے دیہی علاقوں کے تعلیمی اداروں، اور ان میں مہیا کی جانے والی سہولیات اور فنڈز کی کمی دراصل شرح خواندگی میں کمی کی وجہ ہے ۔
بلوچستان کی حالت زار کا جب جب تذکرہ ہوا تو وفاق کی جانب سے درجنوں نہیں سینکڑوں ارب روپے کے فنڈز کا زکر نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں اگر آغاز بلوچستان پیکیج سامنے آیا تو مسلم لیگ ن نے ڈاکڑ عبدالمالک کی شکل میں ایسے قوم پرست شخص کو وزرات اعلی کا منصب سونپا جو حقیقی معنوں میں صوبے میں بہتر ی لانے کے لیے کوشاں رہا۔ درست ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں نواب اکبر بگٹی کی شہادت کی شکل میں بلوچستان کے مسلہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا مگر صوبے کی تعمیر وترقی کے لیے فرد واحد نے کبھی بخل سے کام نہ لیا۔
یہ مطالبہ غلط نہیں کہ بلوچستان میں ہنگامی بنیادوںپر مقامی حکومتوں کا نظام فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بغیر بلوچ عوام کی مشکلات میں قابل زکر تبدیلی ممکن نہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کی یقین دہانی اپنی جگہ مگر حالات کا تقاضا ہے کہ صوبے کے عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں تاکہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے عزائم کو عملا خاک میںملایا جاسکے۔

Scroll To Top