الیکشن چُرانے کا فن 17-02-2012

kal-ki-baatسنیٹر پرویز رشید بڑے ذہین سیاست کا ر ہیں۔ اور اپنی ذہانت کا ثبوت وہ اپنے تجزیوں اور بیانات میں بڑے بھرپور انداز میں پیش کیا کرتے ہیں۔ان کے ساتھ میری جا ن پہچان خاصی پرانی ہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی کس قدر دیانت کے ساتھ ادا کرنے کے عادی ہیں۔ میاں نوازشریف کو دورِ حاضر کا صلاح الدین ابوبی ثابت کرنا اور مسلم لیگ(ن)کو اس انقلاب کا پرچم بردار بنا کر پیش کرنا جس کا قوم کو شدت سے انتظار ہے ` پرویز رشید صاحب کے فرائض منصبی میں اولیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ گاہے گاہے یہ فلسفہ سامنے لاتے رہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان درحقیقت صدر زرداری کے دست راست ہیں اوران کا اصل مشن آنے والے دورمیں پی پی پی کے لئے اقتدار کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے عمران خان کی ملاقات کم ازکم صدر زرداری صاحب سے آج تک نہیں ہوئی۔ چنانچہ ان کا پی پی پی کے سربراہ کے ساتھ اس انداز میں پُرجوش طریقے سے بغلگیرہونے کا کوئی موقع ہی پیدا نہیں ہوا جس پُرجوش انداز میں میاں نوازشریف زرداری صاحب کے ساتھ بغل گیر ہوتے رہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ بغلگیری کا زمانہ گزر گیا ۔ اب بات ایک دوسرے کے ” علاقہ ءاقتدار “ کوقبول کرنے اور ایک دوسرے کے مفادات کو درپردہ مناسب سہارا دینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
یہ جو بیسویں ترمیم آئی ہے اس میں اور بھی بہت ساری خوبیاں ہوں گی مگر جس خوبی کا ذکر سنیٹر پرویز رشید کھل کر کبھی نہیں کریں گے وہ یہ ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے تقرر میں مسلم لیگ (ن)کی خواہشات کا احترام کیا جائے گا ` اور اسلام آباد کے لئے وزیراعظم کا تقرر زرداری صاحب کی منشا کے مطابق کیا جائے گا۔
اس قسم کا غیر جانبدارانہ نگران سیٹ اپ کیا کیا کمالات دکھائے گا اس کا صحیح علم تو ہمیں آنے والے وقتوں میں ہی ہو پائے گا۔ مگر یہاں مجھے وہ وہائٹ پیپر یاد آرہا ہے جو 1990ءکے عام انتخابات کے بارے میں ” الیکشن کیسے چرایا گیا “ کے عنوان سے خود میں نے شائع کیا تھا
الیکشن چرانے کے فن میں بیسویں ترمیم کی خالق دونوں جماعتیں کمال رکھتی ہیں۔
ایک جماعت نے اس فن کا مظاہرہ 1977ءمیں کیا تھا۔ اور دوسری جماعت نے 1990ءمیں۔
اگر کوئی غیبی طاقت درمیان میں حائل نہ ہوئی تو صدر زرداری اور میاں نوازشریف نے مبارکباد کے وہ پیغامات تیار کررکھے ہیں جو وہ اگلے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ایک دوسرے کو بھیجیں گے۔
تب سنیٹر پرویز رشید کہیں گے۔
” ہم تو اپنے زور پر جیتے ہیں مگر زرداری صاحب کو کامیابی سے ہمکنار عمران خان نے کرایا ہے۔“
منظر نامہ تو بہت ” اچھا “ نظر آتا ہے۔
مگر کیا بھوک ننگ اور یاس کے ستائے ہوئے لوگ ایسا ہونے دیں گے ؟

Scroll To Top