بڑے مجرم کون ہیں بدقماش سیاستدان اور حکمران یا بے ضمیر تجزیہ کار اور انیکرپرسن؟

یہ سوال اکثر میرے ذہن میں گردش کرتاہے کہ بڑے مجرم کون ہیں۔۔۔ وہ جو قوم کے لیڈر ہیں ` حکمران ہیں اور جن کے غلط فیصلے ` جھوٹے دعوے اور مفاد پرستانہ اقدامات ملک کو اندھیروں میں دھکیلتے ہیں۔۔۔ یا وہ قلمکار ` تجزیہ کار اور دانشور جو میڈیا کی طاقت سے فائدہ اٹھا کر خود بھی طاقتور بن جاتے ہیں اور پھر اپنی طاقت کا معاوضہ وصول کرکے خلقِ خدا کو گمراہ کرتے ہیں اور اپنے ” آجروں“ کے مفادات کے تحفظ میں جھوٹ اور ریا کاری کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔۔۔
اگر آپ اخبارات پڑھتے ہیں ۔۔۔ یا پھر ٹی وی دیکھتے ہیں تو آپ کو میری بات سمجھ میں لانے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑ ے گی۔۔۔
ایسے ” با اثر “ تجزیہ کاروں کا ایک اچھا خاصا خاندان پیدا ہوچکا ہے جن کی املاک اور مالی حیثیت میں اس وجہ سے حیران کن ۔۔۔ بلکہ ناقابل یقین اضافہ ہوا ہے (اور ہوتا چلا جارہا ہے )کہ وہ ” حاکمِ وقت“ کی آواز میں آواز ملا کر چلتے ہیں۔۔۔ اور جنہیں وہ ” کّوا“ بھی سفید نظر آتا ہے جسے ان کے ” آجر“ سفید قرار دے دیتے ہیں۔۔۔
میں نے اِس قماش کے تجزیہ کاروں اور دانشوروں کو ایک ” خاندان“ اس لئے کہا ہے کہ ایک دوسرے سے نظریاتی بنیاد پر مختلف پہچان رکھنے کے باوجود وہ ایک ہی ” خمیر“ سے اٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ بے ضمیری اور مفادپرستی کا خمیر ۔۔۔ میںانہیں بدقماش ` کرپٹ ` مفادپرست ` بے ضمیر اور نا اہل حکمرانوں اور سیاست دانوں سے بڑا مجرم سمجھتا ہوں۔۔۔ اس کی سیدھی سادی وجہ یہ ہے کہ لوگ سیاست دانوں پر تو زیادہ اعتماد کرتے ہی نہیںمگر اِن تجزیہ کاروں پر ان کا اعتماد نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔۔۔
یہ تجزیہ کار اب تک ” لفافہ گروپ“ کہلائے جاتے رہے ہیں۔۔۔ ان میں سے کچھ کو ہیلی کاپٹرگروپ بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ لیکن اب بات ” لفافوں“ اور ہیلی کاپٹروں میں اپنے ” آجروں “ کے ساتھ پرواز کرنے سے بہت آگے جاچکی ہے۔۔۔ اب ” صاحبانِ دانش“ کے پلازے تعمیر ہورہے ہیں ` پٹرول پمپ معرض وجود میں آرہے ہیں اور املاک بن رہی ہیں ۔۔۔ میں دو تین اصحاب کے بارے میں پورے تیقّن کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اب صرف ” ارب پتی “ نہیں رہے ` ان کی مالی حیثیت کا تخمینہ 11ہندسوں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔ یاد رہے کہ ایک ارب میں دس ہندسے ہوتے ہیں۔۔۔
میں نے یہ موضوع اس لئے چھیڑا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ کرپشن کے خلاف جنگ میں توپوں کا رخ صرف سیاستدانوں اور افسران بالا کی طرف ہی نہیں رکھنا ہوگا ` اِن صاحبانِ دانش اور ” رائے سازوں “ کی طرف بھی موڑنا ہوگا۔۔۔

Scroll To Top