وٹامن سپلیمنٹ بینائی کے لیے مفید ہیں، تحقیق

ڈبلن: آئرلینڈ میں نیوٹریشن ریسرچ سینٹر نے واٹر فورڈ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے تعاون سے ثابت کیا ہے کہ بعض غذائیں کھانے سے بینائی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

اس مطالعہ میں 12 ماہ تک  لوگوں کو فرضی دوا ( پلیسبو) کھلایا گیا جب کہ دوسرے گروہ کو جو اجزا کھلائے گئے ان میں کیراٹونوئیڈز لیوٹین اور زیسنتھن دیا گیا تھا جو نارنجی مرچوں، پالک اور سبز پتوں والی سبزیوں اور انڈے کی زردی میں عام پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ماہرین نے کیوی پھل اور ایک سبزی کیل کا جوس ایک عرصے تک روزانہ پیا۔ ان تمام افراد کی بصارت نارمل تھی اور انہوں نے 5 ہفتوں تک جوس پیا اور اس سے پہلے اور بعد میں انہیں پائلٹ کی آنکھوں کے سخت ٹیسٹ سے گزارا گیا۔ لیکن اس کے خاص فوائد نہیں ہوئے۔

اب ان تمام رضاکاروں کو کیراٹونوئیڈز لیوٹن اور زیسینتھن کے سپلیمنٹ پر مشتمل گولیاں 12 ہفتے تک کھلائی گئیں۔ اس سے تمام افراد کی آنکھوں کی حساسیت اور دیگر پہلوؤں میں نمایاں بہتری ہوئی  اور وہ زیادہ تفصیل سے دیکھنے لگے۔ رات میں بصارت بہتر ہوگئی اور رنگ بھی اچھے نظر آنے لگے۔

اس سے قبل خیال تھا کہ خصوصاً سپلیمنٹس بہت زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتے لیکن اب تازہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ آنکھوں کے ایک اہم حصے ’میکیولا‘ ہی بصارت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس میں روشنی محسوس کرنے والے خلیات ہوتے ہیں۔ اس میکیولا پر خاص حفاظتی پگمنٹ کی ایک تہہ چڑھی ہوتی ہے جو آنکھوں کے لیے سن اسکرین کا کام کرتی ہے اور اس کی تشکیل اس غذا سے ہوتی ہے جو ہم کھاتے ہیں۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انہی حفاظتی پگمنٹ سے آنکھوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کی نظر درست بھی ہو تو سپلیمنٹ اسے مزید بہتر کرسکتے ہیں۔ نہ صرف اس سے آنکھوں کی حفاظت ہوتی ہے بلکہ اس سے بصارت اچھی ہوتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اب آنکھوں کی حفاظت ضروری ہے کیونکہ موبائل فون اور ٹیبلٹ سے خارج ہونے والی نیلی روشنی اس حفاظتی تہہ کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ نیلی روشنی فری ریڈیکلز بنا کر آنکھ کے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس سے ایک مرض اے ایم ڈی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آخر قدرتی سبزیوں کی بجائے سپلیمنٹ سے فائدہ کیوں ہوا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ماہرین کا خیال ہےکہ مصنوعی کھاد، کیڑے مار ادویات اور دیگر اشیا کی وجہ سے سبزیوں اور پھلوں کے اجزا دھیرے دھیرے کمزور پڑتے جارہے ہیں۔

Scroll To Top