خس کم جہاں پاک ! 25-1-2012

kal-ki-baat

جسٹس )ر(رمدے نے استثنیٰ کے معاملے پر اپنی آراءکا اظہار ایک مفصل انٹرویو میں کیا تو جناب اعتزاز احسن تلملا اٹھے اور بولے۔ ” صدر زرداری کو استثنیٰ حاصل ہے ۔ حاصل ہے۔ حاصل ہے۔“
یہ بات ماضی کی نہیں ` آج کی ہے۔ آج کے اعتزاز احسن کی ہے۔ اُس اعتزاز احسن کی نہیں جنہوں نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں اتنا سارا نام کمایا تھا ۔وہ اعتزاز احسن اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے فرار کا کوئی راستہ نہیں۔ حکومت کو وہ خط لکھنا ہی پڑے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔“
اعتزاز احسن یہ بات چھُپ چھُپا کر نہیں ببانگ کہا کرتے تھے۔ جیسے اب وہ ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ ” سوئٹزر لینڈ کے حکام کو خط لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ صدر صاحب کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ اور اپنے استثنیٰ کی تصدیق کے لئے انہیں عدالت میں جانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔“
چوہدری اعتزاز احسن کی سو چ میں اتنا بڑا انقلاب کیسے آیا ہے ` اس سوال کاحتمی جواب تو میرے پاس نہیں لیکن ابراہم لنکن کا یہ مقولہ یاد آرہا ہے کہ ” دنیا میں ہر شخص کی کوئی نہ کوئی قیمت ضرور ہوتی ہے۔“
لنکن نے یہ بات ایک ایسے موقع پر کہی تھی جب ایک بزنس مین ان کے ساتھ ایک ملاقات میں ان کے کسی فیصلے کی قیمت لگا رہا تھا ۔ یہ بڑا مشہور واقعہ ہے جس کی تفصیلات میں آئندہ کبھی بیان کروں گا۔
یہاں میرا مقصد استثنیٰ کے حوالے سے اعتزاز احسن صاحب کے بیانات پر ایک تبصرہ آپ کی دلچسپی کے لئے پیش کرنا ہے جو مجھے ایک ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہوا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
”اگر یہ درست ہے کہ صدر صاحب کو ہر قسم کا استثنیٰ حاصل ہے تو پھر اپنے اقتدار کو تاحیات دوام دینے کے لئے انہیں چاہئے کہ کسی نہ کسی بہانے اپنے نمایاں مخالفین سمیت تمام سیاسی لیڈروں کا اجلاس قصرِ صدارت میں طلب کریں اور مشین گن سے سب کو بھون ڈالیں۔ چونکہ بقول اعتزاز احسن کے انہیں ہر قسم کا استثنیٰ حا صل ہے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی اس لئے مخالفوں اور رقیبوں سے ان کی جان بھی چھوٹ جائے گی اور ان کا اپنا بال بھی بھیگانہیں ہوگا۔ یعنی خس کم جہاں پاک‘ ‘
یہ ایس ایم ایس مجھے اپنے ایک کرم فرما جناب اسد محمد خان نے بھیجا ہے۔

Scroll To Top