عاصمہ جہانگیر اینڈ کمپنی اور استثنیٰ کا معاملہ 21-01-2012

kal-ki-baatمحترمہ عاصمہ جہانگیر کو آخر کیا مسئلہ ہے کہ وہ ہاتھ دھو کر پاکستان کی فوج اور اس کی عدلیہ کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں؟حال ہی میں پہلے انہوں نے جناب حسین حقانی کے بنیادی حقوق کوزندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر انہیں میمو گیٹ کے معاملے میں مکمل طور پر معصوم اور بے قصور ثابت کرنے کو اپنے لئے چیلنج بنایا۔ جب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ میمو گیٹ کی پٹیشن میں اتنی جان ضرور نظر آتی ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بنا دیا جائے تو محترمہ نے دل برداشتہ ہو کر اپنے آپ کو اس معاملے سے الگ کرنے کا عندیہ دیا۔ یہ عندیہ ایک لحاظ سے ان کا سپریم کورٹ کے رویے پر احتجاجی نوعیت کا عدم اعتماد تھا۔
اب انہوں نے این آر او کے کیس میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے یہ گوہر افشانی کی ہے کہ اگر صدر کو آئین نے جو ” استثنیٰ “ دے رکھا ہے وہ ختم کیا گیا یا اس کی تشریح اسلامی قوانین کے مطابق کی گئی تو ملک میں کبھی کوئی سویلین صدر نہیں رہ سکے گا۔ دوسرے الفاظ میں وہ چاہتی ہیں کہ صدر کو ملنے والا آئینی استثنیٰ برقرار رہے۔ اتفاق سے اب چوہدری اعتزاز احسن بھی یہی چاہتے ہیں اور اسی انداز کی سوچ رکھنے والے جناب نجم سیٹھی بھی اسی بات کے خواہشمند ہیں۔ 19جنوری2012ءکی رات کو اپنے پروگرام ” آپس کی بات “ میں جناب نجم سیٹھی نے بڑے ” دل گداز “ انداز میں ججوں سے یہ اپیل کی کہ اب اس معاملے کو دفن ہوجانے دیں۔ اگرزرداری صاحب اپنے دورِ صدارت میں استثنیٰ سے فیض پاتے رہتے ہیں تو ملک پر آسمان نہیں ٹوٹے گا۔
دانشوروں میں یہ ایک خاص قسم کا طبقہ ہے ۔ اسلام کے حوالے سے ان کی سوچ مشترک نوعیت کی ہے ۔ امریکہ کے معاملے میں بھی ان کے احساسات یکساں انداز کے ہیں۔ ایک بات جو اس مکتبہ ءفکر سے تعلق رکھنے والے دانشور یاد نہیں رکھتے وہ یہ ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں صدر کا عہدہ محض علامتی وقار رکھتا ہے اور انتظامیہ میں اسے کوئی کردار حاصل نہیں۔ اگر پاکستان میں اس عہدے کو اتنی اہمیت مل رہی ہے تو صرف زرداری صاحب کی ” باکمال سیاست “ کے نتیجے میں مل رہی ہے۔ عملی طورپر وہ علامتی وقار رکھنے والے صدر بھی ہیں اور حقیقی اختیار رکھنے والے چیف ایگزیکٹو بھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ وزیراعظم ہر فیصلہ ان کی منظوری سے کرتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب جانتے ہیں کہ ان کی وزارت عظمیٰ پارلیمنٹ کی نہیں پی پی پی کے سربراہ کی مرہون منت ہے۔
اگر پاکستان میں پارلیمانی نظام برقرار رہتا ہے تو زرداری صاحب کے بعد جو بھی صدر بنے گا اس کے لئے ” استثنیٰ“ کی آئینی شق کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ استثنیٰ کی شق ` یوں لگتا کہ آئین بنانے والوں نے بطور خاص زرداری صاحب کے لئے رکھی تھی۔
خبر یہ آئی ہے کہ زرداری صاحب نے ”استثنیٰ کے بعد والے دور “ کا بھی انتظام کرناشروع کردیاہے۔ برطانیہ میں ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں جو ثابت کریں گے کہ متنازعہ چھ کروڑ ڈالروں یعنی ساڑھے پانچ ارب روپوں پر قانونی حق دراصل زرداری صاحب کا ہی ہے۔۔۔۔

Scroll To Top