کیا قرآن حکیم کو اپنا حتمی آئین ماننے والی امت انگریزوں کے اس شرمناک قانون کی پابندی اختیار کرے گی؟ 20-1-2012

kal-ki-baat
اگر صدر زرداری کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے جو کیس قائم ہوئے تھے وہ حقائق پر مبنی نہیں تھے، اور سوئس بنکوں کا جو معاملہ عالمی شہرت اختیار کر گیا وہ محض کسی داستان گو کی اختراع تھا، تو انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو تمام شکوک و شبہات سے بالا تر قرار دلوانے کے لئے تحقیقات کے عمل کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ صدر زرداری کو انصاف سے محروم رکھنے کے عمل میں اب تک اہم کردار خود ان کی اپنی حکومت نے ادا کیا ہے۔ تاریخ کی نظروں میں سرخرو ہونے کا بہترین موقع زرداری صاحب کو قدرت نے یوں فراہم کیا کہ اقتدار ان کے ہاتھ میں آگیا۔ وہ ”استثنیٰ“ کا سہارا لینے کی بجائے، اگر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرانے کی حکمت عملی اختیار کرتے تو آج لوگ انہیں عزت و تکریم کے بلند ترین مقام پر بٹھا چکے ہوتے۔
جب انہوں نے این آر او کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کے راستے میں استثنیٰ کی دیوار کھڑی کر دی تو عوام کے ذہنوں میں ان شکوک و شبہات کی جڑیں مزید گہری ہو گئیں کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے، اور اس امکان کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ زرداری صاحب نے ایوان صدارت میں پناہ لینے کی حکمت عملی استثنیٰ کی ڈھال کے پیچھے چھپنے کے لئے ہی اختیار کی تھی۔
اگر واقعی زرداری صاحب نے وہ سب کچھ کیا جو ان کے مخالف کہتے ہیں کہ انہوں نے کیا اور جن کی وجہ سے ان پر مقدمات قائم ہوئے تو پاکستان کے عوام کے خلاف اس سے بڑی غداری کوئی نہیں ہوگی کہ ان کے ملک کی دولت لوٹنے کے جرم کو سزا سے بچانے کے لئے اس ملک کا صدارتی ایوان استعمال کیا گیا۔
ہر محب وطن دل کی گہرائیوں سے چاہے گا کہ اس ملک کی تاریخ میں غداری کے کسی ایسے باب کا اضافہ نہ ہو جس پر آنے والی نسلیں بھی سر شرم سے جھکائے رکھنے پر مجبور ہوں۔
چودھری اعتزاز احسن نے تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ وکیل پہلے اور پاکستان کے محب وطن اور بااصول شہری بعد میں ہیں۔ اب یہ امتحان ہماری عدلیہ کا ہے کہ وہ انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون کو سر بلند رکھتی ہے یا رہنمائی ان شاندار روایات سے حاصل کرتی ہے جو حضرت عمر فاروقؓ نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قائم کی تھیں۔
استثنیٰ کا قانون ہمارے ”انگریز آقاﺅں“ نے اپنے گورنر جنرلوں اور گورنروں کو قانون سے بالا تر رکھنے کے لئے نافذ کیا تھا۔
کیا قرآن حکیم کو اپنا حتمی آئین ماننے والی امت انگریزوں کے اس شرمناک قانون کی پابندی اختیار کرے گی؟

Scroll To Top