کیاعوام اس سازش کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے ؟ 17-01-2012

kal-ki-baat
حکمران اتحاد کا جب بھی نام لیا جاتا ہے تو ذہن میں فوری طور پر جناب آصف علی زرداری کی پاکستان پیپلزپارٹی ’ جناب اسفند یار ولی خان کی اے این پی اور جناب الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے نام آتے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمران اتحاد میں وہ دو پارٹیاں بھی عملی طور پر شامل ہیں جو بظاہر ” اپوزیشن “ کا دم بھرتی ہیں۔ میری مراد ہے میاں نوازشریف کی پی ایم ایل(این )اور مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی ۔ میں یہاں چوہدری شجاعت حسین کی پی ایم ایل )ق(کا ذکر کرنا بھول گیا کیوں کہ ابھی تک میں اس حقیقت کو ہضم نہیں کرسکا کہ جس جماعت کو ” پی پی پی دشمنی “ میں امتیاز حاصل تھا اور جسے محترمہ بے نظیر بھٹو نے18اکتوبر2007ءکے قاتلانہ حملے کے معاملے میں اپنی ایف آئی آر میں باقاعدہ طور پر ممکنہ حملہ آوروں کی فہرست میں نامزد کیا تھا ’ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے جانشینوں کی دست راست بن چکی ہے۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ ہر وہ جماعت جس نے 18فروری2008ءکے انتخابات میں حصہ لے کر بقدر ” جثہ “ کامیابی حاصل کی تھی’ عملی طور پر حکمران اتحاد کا حصہ ہے۔ اوران میں سے کسی کی بھی قیادت نہیں چاہتی کہ موجودہ سیٹ اپ میں اقتدار کی جو بندر بانٹ نظر آرہی ہے اس میں کوئی ایسی تبدیلی آجائے کہ ان تمام جماعتوں کو یا پھر ان میں سے اکثر جماعتوں کو سچ مچ اپوزیشن میں جانا پڑے (دوسرے الفاظ میں اقتدار کی برکات سے محروم ہونا پڑے )۔
پی ایم ایل این نے 26اکتوبر2011ءکو ” گو زرداری گو “ کا نعرہ جس جوش وولولے سے بلند کیاتھا اسے 30اکتوبر2011ءکو ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے نے ماند کردیا۔ پی ایم ایل(این)زرداری صاحب کی حکومت کو رخصت کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس کے حالیہ رویے سے لگایا جاسکتاہے۔ 10جنوری کو این آراو کیس میں سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا اس نے میاں نوازشریف کو یہ سنہری موقع فراہم کیا تھا کہ وہ وزیراعظم گیلانی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے اور کہتے کہ اگر وہ مستعفی نہ ہوئے تو پی ایم ایل اسمبلیوں میں سے نکل جائے گی۔
ایسا کچھ نہیں ہوا۔ درپردہ حکومت میں شامل تمام جماعتیں ہر قیمت پر اس تبدیلی کے راستے کو بند کرنے کی حکمت عملی پر کاربندہیں جو بڑی تیزی کے ساتھ عوام کی امنگوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔
پی ایم ایل )این(کی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگلے عام انتخابات کے دوران پنجاب کی حکومت اس کے ہاتھوں میں رہے تاکہ وہ صوبے کے وسائل انتخابی عمل میں بھرپور طریقے سے استعمال کرسکے۔
گویا طے پاچکا ہے کہ پنجاب پی ایم ایل این کا ہی رہے ’ سندھ پر قبضہ زرداری صاحب کا قائم رہے , اور خیبر پختون خواہ میں سرخپوش ہی دندناتے نظر آئیں۔
کیاعوام اس سازش کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔۔۔؟
یہ وہ سوال ہے جس کا قابل قبول جواب صرف اس صورت میں سامنے آئے گا کہ ہمارے ملک کے دو بڑے ادارے یعنی فوج اور عدلیہ اپنی قوت عوام کے پیچھے کھڑی کردیں۔

Scroll To Top