نواز“ریف نے ٹرمپ کی مذمت کیوں نہ کی

zaheer-babar-logo’ابق وزیر اعظم  کی جانب ’ے  اپنی نااہلی کے فی”لے کو کھلے عام تنقید بنانے کا ’ل’لہ بد’تور  جاری و’اری ہے۔ تازہ پی“ رفت میں میاں نواز“ریف نے لاہور میں وکلائ کی تقریب ’ے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر پانامہ لیک’ میں اپنے اور اپنے خاندان کو بے گناہ قرار دے ڈالا۔ ’پریم کورٹ کی جانب ’ے نااہل قرار دیئے جانے والے ’ابق وزیراعظم نواز “ریف کاکہنا  تھا  کہ وہ پاک’تان، جمہوریت اور عوام کا مقدمہ لڑرہے ہیں۔”وبائی درالحکومت میں ایوان اقبال میں وکلا کنون“ن ’ے خطاب کرتے ہوئے ’ابق وزیراعظم  نے کہا  کہ آج  قانون دانوں کے بڑے اجتماع میں آکر خو“ی ہوئی، تحریک پاک’تان میں وکلا نے ہر اول د’تے کا کردار ادا کیا۔ان کے بعقول  کہ  عدلیہ بحالی کی تحریک، ان”اف کی حکمرانی کے لیے تھی، انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت کے ا’تحکام کے لیے وکلا پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔“
 بظاہر  پاک’تان کا عام “ہری یقینا حیرت زدہ ہے کہ میاں نواز“ریف آخر کیونکر مظلوم ہیں۔ وفاقی ، پنجاب ، بلوچ’تان ، گلگت بلت’ان اور آزاد ک“میر میں ان کی جماعت بر’ر اقتدار ہے۔ بہت بہتر ہو کہ میاں نواز“ریف تمام حکومتوں کے لیے احکامات جاری کرتے کہ جمہوریت کی روح کے مطابق عام آدمی کی فلاح وبہبود کے لیے مثالی اقدمات اٹھائیں۔  ا’ کے برعک’ ”ورت حال یہ ہے کہ میاں نواز“ریف خود کے ’اتھ روا رکھے جانے والے ”مظالم “کی دہائی دیتے ہوئے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ” عوام پاناما کی دا’تان ’ے پوری طرح واقف ہیں۔“
’ابق  وزیر اعظم کی جانب ’ے یہ کہنا بھی حیران کن ہے  کہ پاناما پیپرز کے ’یکڑوں ناموں میں میرا نام نہیں مذید یہ کہ  جب ’پریم کورٹ میں پٹی“نز دائر کی گئیں تھی تو عدالت نے انہیں بے معنی قرار دیا۔ان کا بعقول  ایک فی”لہ 20 اپریل اور دو’را 28 جولائی کو ’امنے آیا، ان فی”لوں کے بارے میں آپ مجھ ’ے بہتر جانتے ہیں اور چند ’وال ای’ے ہیں جن ’ے عام “ہری بھی پری“ان ہورہے ہیں۔“
’ابق وزیر اعظم نے وکلائ کی تقریب ’ے مذید ’والات بھی اٹھائے جن کا مق”د اعلی عدلیہ کے  وقار کو مجروم کرنے کے علاوہ اپنی نااہلی کے فی”لے کو جانبدار قرار دینے کا “ائد  تاثر دینا تھا۔ گذ“تہ کئی دہائیوں ’ے مملکت خداداد پاک’تان میں قانون کی بالاد’تی ”رف اور ”رف عام آدمی تک محدود ہے۔’یا’ی ا“رافیہ نے دان’تہ طور پر آئین اور قانون کو ا’ قدر غیر موثر کیا کہ وہ بالوا’طہ یا بلاو’طہ طور پر ان کا کچھ بگاڈ نہ ’کا۔ با“عور پاک’تانی باخوبی آگاہ ہے کہ ا’ ’رزمین پر احت’اب کے نام پر جو ڈرامہ کیا گیا ا’ کا واحد مق”د طاقتور طبقہ کے  انفرادی اور گروہی مفادات کو محفوظ بنانا تھا۔ قومی ’یا’ت ’ے “نا’ا “خ” کے لیے ا’ ’چائی ’ے انحراف کرنا م“کل ہے کہ ہماری ’یا’ت تجارت بن چکی۔کاروبار کے جو ا”ول ا’ کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں وہی ’یا’ت پر لاگو کیے گے۔ منافع اور ”رف منافع حا”ل کرنے کی خواہ“ نے ملک کی مایہ ناز کاروباری “خ”یات کو  بالوا’طہ یا بلاوا’طہ طور پر ’یا’ت میں ح”ہ لینے پر مجبور کیا۔ آج خبیر تا کراچی “ائد ہی کوئی بڑا کاروباری خاندان ہوگا جو ک’ی نہ ک’ی “کل میں ’یا’ی کھیل میں ملوث نہ ہ۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ’یا’ت میں کاروباری لوگوںکے نمایاں ہونے کا دور مرحوم ضیائ الحق کا زمانہ ہے جب غیر جماعتی انتخابات کی ”ورت میں ان تاجروںکو آگے آنے کا موقعہ دیا گیا جنھوں نے اپنی قابلیت یا  اخلا” کی بجائے دولت کے زریعہ جگہ بنالی۔ قومی افق پر موجود آج کئی ’یا’ت دان ا’ی دور کی پیدوار ہیں۔ ملکی ’یا’ت کے کاروبار ہونے کا  ثبوت یہ بھی ہے کہ محض چند دہائی قبل تک محدود کاروبار کرنے والے آج ملک کے اندار اور باہر کروڈوں نہیں اربوں روپے کے اثاثہ جات رکھتے ہیں۔
’ابق  وزیر اعظم کے لاہور میں وکلائ کے اجتماع ’ے خطاب  پر  امید بھی کی جارہی تھی کہ وہ پاک’تانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پوری قوت ’ے ”در ٹرمپ کے الزامات کو م’ترد کریں گے مگر ای’ا نہ ہوا۔ تین مرتبہ وزارت عظمی کے من”ب پر فائز رہنے والی “خ”یت کا   اکلاتی ’پرپاور ہونے کی دعویدار ریا’ت کی جانب ’ے پاک’تان پر  دہ“ت گردی کے الزامات پر خامو“ رہنا  اف’و’ناک بھی ہے اور ت“وی“ناک بھی۔میاں  نواز“ریف کے م“یران ان کو کیا م“ورے دے رہے ا’ بات کا اندازہ لگانا تو م“کل ہے البتہ ا’ حقیقت کو جھٹلانا م“کل ہورہا کہ ملک کی تیزی ’ے بدلی ہوئی ’یا’ت میں ’ابق وزیر اعظم کہاں تک  تک اپنا اثر ر’وخ رکھنے میں کامیاب ہوںگے۔
میاں نواز“ریف کے مخالفین کے بعقول  کم وبی“ 35’ال ’ے قومی ’یا’ت میں متحرک رہنی والی “خ”یت تاحال اپنی ذات ’ے آگے دیکھنے کو تیار نہیں۔ ”وبائی دارلحکومت میں ان کی تقریر کو ملک کے اندار اور باہر لاکھوں نہیں کروڈوں لوگوں نے ’نا مگر ان کی گھن گھرج میں  پاک’تان پر حملے کرنے کی دھکمی دینے والے امریکہ کے لیے بھرپور  مذمت نہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اچھا ’یا’ت دان وہی ہے جو یہ ادراک رکھتا ہے کہ ا’ نے کب اور کہاں کیا بات کرنی ہے۔ میاں  نواز“ریف کے لیے بہت بہتر ہوتا کہ وہ پانامہ لیک’ میں خود کو بے گناہ کہنے کی  پرانی دہائی دینے کی بجائے پاک’تان کا مقدمہ پی“ کرتے۔ کہتے ہیں کہ ’یا’ت دان اور رہنما میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ’یا’ت دان آئندہ الیک“ن میںکامیابی جبکہ رہنما آئندہ ن’لوں کے م’قبل کو محفوظ کرنے کے لیے کو“اں رہتا ہے۔     

Scroll To Top