ایک ملک ` ایک خنجر اور تین ہاتھوں کی کہانی 13-1-2012

kal-ki-baatمیرے ایک کرم فرما دیرینہ قاری اسد محمد خان نے میرے گزشتہ کالم میں درج ایک تاریخ کی اصلاح کی ہے۔ مشرقی پاکستان میں جنرل یحییٰ کا وہ ملٹری ایکشن مارچ1969ءمیں نہیں مارچ1971ءمیں ہوا تھا جس نے ہماری تاریخ کے ایک بڑے المیے کو جنم دیا۔ ستم ظریفی کی بات یہاں یہ ہے کہ مارچ 1969ءکو بھی ہماری تاریخ میں ویسی ہی اہمیت حاصل ہے جیسی مارچ1971ءکو۔ جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاء25مارچ1969ءکو لگایا تھا جس کے نتیجے میں جو واقعات بھی رونما ہوئے وہ پورے دو برس بعد 25مارچ1971ءکی تباہ کن فوجی کارروائی کا باعث بنے۔ میرے ذہن میں دونوں تاریخیںگڈمڈ ہوئے بغیر نہیں رہتیں ` کیوں کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے سے دونوں ہی تاریخوں کا تعلق ہے۔
تاریخ کا تجزیہ ہمیشہ واقعات کے رونما ہونے اور ان واقعات کے نتیجے میں جنم لینے والی تاریخ کے سامنے آنے کے بعد کیا جاتا ہے۔
آج میں یہ سوچے بغیر نہیں رہ پاتا کہ اگر 25مارچ 1969ءکو جنرل یحییٰ خان کا ظہور پاکستان کے سیاسی افق پر نہ ہوا ہوتا اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف چلنے والی عوامی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کا موقع ملتا تو شاید وہ تباہ کن پولرائزیشن اور حصول اقتدار کی کشمکش ملک و قوم کا مقدر نہ بنتی جس نے 25مارچ 1971ءکو قائداعظم ؒ کے پاکستان پر متحد رہنے کے دروازے بند کردیئے۔ بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ ” دروازے بند کرنے “ کے عمل کی ذمہ داری سب سے زیادہ جنرل یحییٰ خان پر عائد ہوتی ہے۔مگر کیا ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور شیخ مجیب الرحمان اُس سنگین جرم سے بری الذمہ قرار پا سکتے ہیں جو انہوں نے ” باہمی مذاکراتی عمل “ کو فیصلہ کن انداز میں توڑ کرکیا۔؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ شیخ مجیب الرحمان نئی دہلی سے آنے والی خفیہ حمایت پر انحصار کرنے لگے تھے ` اور جناب ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل یحییٰ خان کا اعتماد رکھنے والے جنرلز کا اعتماد حاصل ہوگیا تھا۔ ؟
یہ کوئی الزام نہیں ` ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جو خنجر1947ءکے پاکستان کی پشت میں گھونپا گیا اسے تین ہاتھوں نے پکڑ رکھا تھا۔ ایک ہاتھ جنرل یحییٰ خان کا تھا `ایک ہاتھ شیخ مجیب الرحمان کا تھا اور ایک ہاتھ ” قائد عوام “ جناب ذوالفقار علی بھٹو کا تھا۔
کاش کہ جو تاریخ ہم اپنی خواہشات کی روشنائی سے لکھا کرتے ہیں وہی تاریخ حقیقی تاریخ بن جایا کرے۔۔۔!

Scroll To Top