ہاتھ اور دستانے کا رشتہ اور ہمارے ایٹمی اثاثے 12-11-2009

ایک زمانہ تھا جب ہماری فوجی قیادت کا تعلق امریکی پینٹاگون کے ساتھ ایسا ہی تھا جیسا ہاتھ کا دستانے سے یادستانے کا ہاتھ سے ہوتا ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ تعلق جنرل مشرف کے دور میں عروج کو پہنچا ` اور اس اس کی وجہ واضح طور پر ” دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کی آڑ میں افغانستان کی حکومت تبدیل کرنے اور اس پر قبضہ جمانے کا امریکی فیصلہ تھا۔
” جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارے خلاف ہیں۔ ” یہ وہ الٹی میٹم ہے جو جارج بش نے دنیا کو دیا۔ بظاہر یہ الٹی میٹم پوری دنیا کو دیا گیا تھا مگر درحقیقت امریکی صدر پاکستان سے مخاطب تھے۔ افغانستان کی حکومت تبدیل کرنے اور وہاں قبضہ جمانے کے لئے پاکستان کو ساتھ ملانا امریکی حکومت کے لئے ناگزیر تھا۔ چنانچہ جنرل مشرف کے ساتھ امریکی حکومت کے معاملات طے پا گئے۔ لیکن امریکی صدر شروع میں جنرل مشرف کو کیا ” عزت“ دیتے تھے اس کا اندازہ ان کے اس جواب سے لگایا جاسکتا ہے جو انہوں نے ایک امریکی صحافی کے ایک سوال پر دیا۔
سوال یہ تھا۔ ” جنرل مشرف نے کہا ہے کہ کابل کی آئندہ حکومت کے قیام میں ان کی مرضی مدنظر رکھی جائے گی۔ کیا ایسی کوئی انڈر سٹینڈنگ موجود ہے۔؟
جواب تھا ” مجھے نہیں معلوم کہ یہ جنرل کون ہے۔ ہم اپنے معاملات خود طے کرتے ہیں۔“
حقیقت یہی ہے کہ جنرل مشرف پورا عرصہ اپنی قوم سے بھی جھوٹ بولتے رہے اور اس فوج سے بھی جس کے وہ کمانڈر انچیف تھے۔ ان کے دور میں ہماری فوج پنٹیاگون کی ایک extensionشمار کی جانے لگی۔
حقائق اس کے برعکس تھے ۔ یہ بات ہماری فوج کی روایات میں شامل ہے کہ کمانڈر کی اطاعت کی جاتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنرل مشرف کے نیچے جو فوجی قیادت تھی وہ امریکی رویوں اور پالیسیوں سے خوش تھی۔
اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ امریکی رویوں کی وجہ سے ہماری فوج اور امریکی اکابرین کا تعلق جنرل مشرف کے دور میں ہی کمزور پڑنے لگاتھا ۔
یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں اچانک جمہوریت کے لئے ” مامتا“ کے جذبات ابھرنے لگے۔ اور یہ حکمت عملی طے پانے لگی کہ اقتدار سول انتظامیہ کو سونپا جائے جو جمہوریت کی علمبردار ہو ` اور فوج کو اس کے تابع بنا دیا جائے۔
کیری لوگر بل ” مامتا“ کے متذکرہ جذبات کا نقطہ عروج کہلا سکتا ہے۔
آج ہماری فوج اور امریکی پنیٹاگون کے درمیان ” ہاتھ اور دستانے“ کا رشتہ نہیں۔ لیکن ہماری جمہوری حکومت اور امریکی انتظامیہ کے درمیان ہاتھ اور دستانے کا رشتہ ضرور قائم ہوچکا ہے۔
یہ فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
جو بات پاکستان کے ہر محب وطن کے لئے ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے وہ یہ ہے کہ دی نیو یارکر میں وہ رپورٹ موجودہ حالات میں کیوں شائع کرائی گئی ہے جس میں مشہور امریکی صحافی سیمورہرش نے ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کی سیکورٹی پر ” پاک امریکی “ معاہدے کا ذکر کیا ہے۔ سیمورہرش کی شہرت ” بے پر “ کی اڑانے والے صحافیوں کی نہیں۔ اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی ذرائع کی تردید جو تاثر دیتی ہے وہ ہمارے لئے حوصلہ افزا نہیں۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ ” ہم پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔“
یہ ایک منفی بیان ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اگر امریکہ ایسا کوئی گھناﺅنا ارادہ رکھے تو وہ کامیاب ہوسکتا ہے۔
حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ جب تک مملکت خداداد پاکستان میں کسی بہت بڑی غداری کا ارتکاب نہ ہو ` ہمارے ایٹمی اثاثوں تک کوئی ” آنکھ“ بھی نہیں پہنچ سکتی۔۔۔

Scroll To Top